’’اس سے بڑھ کر ذکر کی بلندی کیا ہوگی کہ کلمۂ شہادت میں اللّٰہ تعالیٰ نے اپنے محبوب کا نام اپنے نام کے ساتھ ملایا، حضور ﷺ کی اطاعت کو اپنی اطاعت قرار دیا، ملائکہ کے ساتھ آپ پر درود بھیجا، اور ایمان والوں کو درود پڑھنے کا حکم دیا، جب بھی حضور ﷺ کو خطاب فرمایا معزز القاب سے خطاب فرمایا:
جیسے:
یٰٓاَیُّہَاالْمُدَّثِّرُ، یٰٓاَیُّہَاالْمُزَّمِّلُ، یٰٓاَیُّہَاالنَّبِیُّ، یٰٓاَیُّہَاالرَّسُوْلُ۔
پہلی آسمانی کتابوں میں آپ کا ذکر فرمایا، تمام انبیاء اور ان کی امتوں سے وعدہ لیا کہ وہ حضور پر ایمان لائیں‘‘۔
یہ بھی رفعتِ ذکر ہے کہ:’’اللّٰہ تعالیٰ نے لوگوں کے دلوں میں آپ ﷺ کی محبت رکھ دی ہے۔ آپ کے متبعین آپ کی نعت پڑھتے اور آپ کے فضائل بیان کرتے ہیں، اور آپ پر درود پڑھتے ہیں، اور آپ کی سنتوں کی حفاظت کرتے ہیں۔
قُرّاء آپ کے الفاظ کے طریقۂ ادائیگی کی حفاظت کرتے ہیں، مفسرین آپ کی کتاب کی تفسیر بیان کرتے ہیں، محدثین اور واعظین آپ کی احادیث کی تبلیغ کرتے ہیں۔ علماء و سلاطین آپ کے روضۂ اقدس کی چوکھٹ پر درود و سلام عرض کرتے ہیں اور آپ کے روضہ کی خاک اپنے چہروں پر سجاتے ہیں، اور آپ کی شفاعت کی امید رکھتے ہیں، پس آپ کا فضل و شرف قیامت تک باقی رہے گا‘‘۔
اللّٰہ تعالیٰ نے اپنے محبوب رسول ﷺ کا ذکر سب سے پہلے عالمِ ارواح میں بلند فرمایا، جب انبیاء کرام سے آپ کے متعلق عہد لیا۔
ارشادِ باری تعالیٰ ہے،
{وَ اِذْ اَخَذَ اللّٰهُ مِیْثَاقَ النَّبِیّٖنَ لَمَاۤ اٰتَیْتُكُمْ مِّنْ كِتٰبٍ وَّ حِكْمَةٍ ثُمَّ جَآءَكُمْ رَسُوْلٌ مُّصَدِّقٌ لِّمَا مَعَكُمْ لَتُؤْمِنُنَّ بِهٖ وَ لَتَنْصُرُنَّهٗؕ-قَالَ ءَاَقْرَرْتُمْ وَ اَخَذْتُمْ عَلٰى ذٰلِكُمْ اِصْرِیْؕ-قَالُوْۤا اَقْرَرْنَاؕ-قَالَ فَاشْهَدُوْا وَ اَنَا مَعَكُمْ مِّنَ الشّٰهِدِیْنَ}
’’اور یاد کرو جب اللّٰہ نے پیغمبروں سے اُن کا عہد لیا،’’جو میں تم کو کتاب اور حکمت دوں، پھر تشریف لائے تمہارے پاس وہ رسول کہ تمہاری کتابوں کی تصدیق فرمائے، تو تم ضرور ضرور اُس پر ایمان لانا اور ضرور ضرور اُس کی مدد کرنا‘‘۔ پھر اللّٰہ نے فرمایا: کیوں تم نے اقرار کیا؟ اور اس پر میرا بھاری ذمہ لیا؟ سب نے عرض کی، ہم نے اقرار کیا۔ پھر اللّٰہ نے فرمایا: تو ایک دوسرے پر گواہ ہوجاؤ اور میں آپ تمہارے ساتھ گواہوں میں ہوں‘‘۔
(پ3،ال عمران:81)
اس کی تفسیر میں حضرت علی نے فرمایا:
اللّٰہ تعالیٰ نے حضرت آدم اور ان کے بعد جس کسی کو نبوت عطا فرمائی، ان سے سیدُ الانبیاء محمد مصطفی ﷺ کی نسبت عہد لیا اور ان انبیاء نے اپنی قوموں سے عہد لیا کہ اگر ان کی حیات میں سیدِ عالم ﷺ مبعوث ہوں تو وہ آپ پر ایمان لائیں اور آپ کی نصرت کریں۔
حضور ﷺ کے ذکر کو اس طرح بھی بلند فرمایا کہ اگلی آسمانی کتب میں آپ کا ذکر کیا گیا اسی لیے اہلِ کتاب آپ کے وسیلے سے کافروں پر فتح مانگا کرتے تھے۔
{وَ كَانُوْا مِنْ قَبْلُ یَسْتَفْتِحُوْنَ عَلَى الَّذِیْنَ كَفَرُوْا} ( پ1،بقرہ:89)
نیز حضرت ابراہیم نے آپ کی بعثت کی دعا مانگی۔
{رَبَّنَا وَ ابْعَثْ فِیْهِمْ رَسُوْلًا مِّنْهُمْ یَتْلُوْا عَلَیْهِمْ اٰیٰتِكَ وَ یُعَلِّمُهُمُ الْكِتٰبَ وَ الْحِكْمَةَ وَ یُزَكِّیْهِمْؕ-اِنَّكَ اَنْتَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ} ( پ1،بقرہ:129)
حضرت عیسیٰ نے آپ کی تشریف آوری کی بشارت دی۔
{وَ مُبَشِّرًۢا بِرَسُوْلٍ یَّاْتِیْ مِنْۢ بَعْدِی اسْمُهٗۤ اَحْمَدُ}’’
اور (میں) اُن رسول کی بشارت سناتا ہوں جو میرے بعد تشریف لائیں گے، اُن کا نام احمد ہو گا‘‘۔ (پ28،صف:6)

