آپ کے ذکر کو رب تعالیٰ نے اس طرح بھی بلند فرمایا کہ شجر و حجر آپ پر سلام پڑھتے ہیں۔
حضرت علی فرماتے ہیں:
میں آقا و مولیٰ ﷺ کے ساتھ مکہ کی ایک جانب گیا۔ جو پہاڑ یا درخت آپ کے سامنے آتا وہ عرض کرتا:
السلامُ علیکَ یا رسولَ اللّٰہ۔
اللّٰہ تعالیٰ نے اپنے حبیب ﷺ کا ذکراس طرح بھی بلند فرمایا کہ ہر روز ستر ہزار فرشتے صبح اور ستر ہزار فرشتے شام کو روضۂ اقدس پر حاضر ہو کر درود و سلام کے نذرانے پیش کرتے ہیں۔
رب تعالیٰ نے آپ کا ذکر اس طرح بھی بلند کیا کہ زمین والے ہی نہیں آسمان والے بھی بلکہ خالقِ کائنات عزّوَجل ہر لمحہ ہرلحظہ آپ ہی کا ذکر فرما رہا ہے۔
ارشاد ہوا:
{اِنَّ اللّٰهَ وَ مَلٰٓىٕكَتَهٗ یُصَلُّوْنَ عَلَى النَّبِیِّؕ-یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا صَلُّوْا عَلَیْهِ وَ سَلِّمُوْا تَسْلِیْمًا}
’’بیشک اللّٰہ اور اس کے فرشتے درود بھیجتے ہیں اُس غیب بتانے والے(نبی) پر، اے ایمان والو! اُن پر درود اور خوب سلام بھیجو‘‘۔(پ22،احزاب:56)
اس آیتِ مبارکہ میں درود و سلام بھیجنے کا حکم مطلق دیا گیا، اس لیے ممنوع مواقع کے علاوہ جس وقت اور جس جگہ درود و سلام پڑھا جائے، مذکورہ آیت کے حکم ہی کی تعمیل ہوگی خواہ بیٹھ کر پڑھا جائے یا کھڑے ہوکر۔ حق یہی ہے کہ جس کا ذکر اللّٰہ تعالیٰ بلند فرمائے ،اس کا ذکر کوئی ہرگز کم نہیں کرسکتا۔
بقول اعلیٰ حضرت رحمہ اللّٰہ،
مٹ گئے مٹتے ہیں مٹ جائیں گے اعداء تیرے
نہ مٹا ہے نہ مٹے گا کبھی چرچا تیرا
رفعتِ ذکرِ مصطفیٰ ﷺ کی ایک صورت یہ بھی ہے کہ دنیا کے ہر ملک میں جہاں ایک بھی مسلمان ہے وہاں اذان و نماز میں آپ کا ذکر ہوتا ہے۔ نیز دنیا میں ہر لمحہ کسی نہ کسی جگہ آفتاب غروب ہو رہا ہے اور وہاں مغرب کی اذان میں ’’اشھدُ اَنَّ محمداً رسولُ اللّٰہ‘‘ کی صورت میں ذکرِ مصطفیٰ ﷺ بلند ہورہا ہے۔
یہ کہنے میں کوئی مضائقہ نہیں کہ کائنات میں سب سے زیادہ جس کا ذکر بلند ہوتا ہے اور سب سے زیادہ جس کی تعریف ہوتی ہے وہ ہمارے آقا و مولیٰ ﷺ ہی کی ذات پاک ہے۔ ساری مخلوق اللّٰہ تعالیٰ کی حمد و پاکی بیان کرتی ہے اور اللّٰہ تعالیٰ خود اپنے حبیب ﷺ کی حمد و تعریف بیان کرتا ہے۔
{ یُصَلُّوْنَ عَلَى النَّبِیِّ}
یہ ذہن نشین رہے کہ تمام مخلوق اور ساری کائنات محدود ہے اس لیے یہ سب مل کر رب کی جتنی بھی حمد کریں گے وہ محدود ہوگی۔ مگر رب تعالیٰ اپنے حبیب کی جو تعریف بیان فرماتا ہے وہ لامحدود ہے۔ اور محدود کو لامحدود سے کوئی نسبت نہیں ہو سکتی۔ لہٰذا رب تعالیٰ کے حضور کا ذاکر ہونے کی وجہ سے ذکرِمصطفی ﷺ ہر ذکر سے بلند ہے۔ ایک اور نکتہ یہ ہے کہ ایک وقت آئے گا جب کائنات میں اللّٰہ تعالیٰ کی حمد کرنے والے فنا ہوجائیں گے مگر ذکرِ مصطفیٰ ﷺ کا سلسلہ اُس وقت بھی جاری رہے گا۔
قرآن مجید میں ہے کہ قیامت آئے گی اور تمام مخلوق پر موت کا قانون نافذ ہو جائے گا،
تو رب تعالیٰ فرمائے گا،
{لِمَنِ الْمُلْكُ الْیَوْمَ}
’’آج کس کی بادشاہی ہے؟‘‘۔
کوئی جواب دینے والا نہ ہوگا۔
پھر خود ہی ارشاد فرمائے گا:
{لِلّٰہِ الْوَاحِدِ الْقَہَّارِ}
’’ایک اللّٰہ ، سب پر غالب کی بادشاہی ہے‘‘۔ اُس وقت رب تعالیٰ کی حمد و تعریف کرنے والا کوئی موجود نہیں مگر مصطفیٰ کریم ﷺ کی تعریف کرنے والا اللّٰہ تعالیٰ موجود ہے اور وہ ’’یُصَلُّوْنَ‘‘ کے تحت اپنے حبیب پر درود بھیج رہا ہے۔
{صَلَّی اللّٰہُ عَلَی النَّبِیِّ الْاُمِّیِّ وَاٰلِہٖ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ صَلٰوۃً وَّسَلَاماً عَلَیْکَ یَا رَسُوْلَ اللّٰہ}

