Anwaar ul Quran

Total Pages: 164

Page 33 of 164

فَاِنَّ مَعَ الْعُسْرِ یُسْرًا:

ارشاد ہوا:

{فَاِنَّ مَعَ الْعُسْرِ یُسْرًا۔ اِنَّ مَعَ الْعُسْرِ یُسْرًا}

’’ تو بیشک دشواری کے ساتھ آسانی ہے ، بیشک دشواری کے ساتھ آسانی ہے‘‘۔

کفار و مشرکین حضور کو فقر و تنگدستی کا طعنہ دیتے اور کہتے،’’ اس وجہ سے ہم آپ کا دین قبول نہیں کر سکتے‘‘۔ اس پر اللّٰہ تعالیٰ نے آپ کو تسلی دی کہ جو سختی آپ برداشت فرما رہے ہیں وہ عنقریب ختم ہوجائے گی، یہ پہلی آسانی ہے۔ اور آپ کو فقر کے بعد غناء حاصل ہوگا، یہ دوسری آسانی ہے۔

اس آیت کی تفسیر میں حضرت حسن بصری رحمہ اللّٰہ کا ارشاد ہے،

رسول معظم نے فرمایا:

ایک مشکل دوآسانیوں پر کبھی غالب نہیں آ سکتی۔  پھر آپ نے انہی دو آیات کی تلاوت فرمائی۔

مفسرین کرام فرماتے ہیں:

ان آیات میں عُسر یعنی تنگی ایک ہی ہے اور یُسر یعنی آسانیاں دو ہیں۔

حضرت عبداللّٰہ بن مسعود فرماتے ہیں:

اگر مشکل اور تنگی کسی سوراخ کے اندر بھی ہوگی تو آسانی اس کی تلاش میں اس سوراخ کے اندر پہنچ جائے گی کیونکہ ایک تنگی یا دشواری دو آسانیوں پر غالب نہیں ہو سکتی۔

دنیا میں مسلمان کے لیے بھی مختلف قسم کی آزمائشیں ہیں۔

ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

{وَ لَنَبْلُوَنَّکُمْ بِشَیْءٍ مِّنَ الْخَوْفِ وَالْجُوْعِ وَنَقْصٍ مِّنَ الْاَمْوَالِ وَ الْاَنْفُسِ وَالثَّمَرٰتِ وَبَشِّرِالصّٰبِرِیْنَ o الَّذِیْنَ اِذَآ اَصَابَتْھُمْ مُّصِیْبَۃٌ قَالُوْٓا اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّآ اِلَیْہِ رٰجِعُوْنَ o}

’’اور ضرور ہم تمہیں آزمائیں گے کچھ ڈر اور بھوک سے ،اور کچھ مالوں اور جانوں اور پھلوں کی کمی سے۔ اور خوشخبری سنا ؤ اُن صبر والوں کو ، کہ جب اُن پرکوئی مصیبت پڑے تو کہیں،ہم اللّٰہ کے مال ہیں اور ہم کو اُسی کی طرف پھرنا‘ ‘۔ (پ2،بقرہ:-156155)

 

حدیث شریف میں ہے کہ:

مصیبت کے وقت

{اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّآ اِلَیْہِ رٰجِعُوْن}

پڑھنا رحمتِ الہٰی کا سبب ہوتا ہے۔

 

ایک حدیث پاک میں یہ بھی ارشادہوا،

ناگوار چیز پر صبر کرنے میں بہت زیادہ بھلائی ہے ، اور صبر کے ساتھ مددہے، اور تکلیف کے ساتھ راحت ہے اور مشکل کے ساتھ آسانی ہے۔

حضور کا یہ بھی فرمان ہے، اللّٰہ تعالیٰ کسی بندے کو اعلیٰ مقام عطا فرمانا چاہتا ہے جسے وہ نیک اعمال کے ذریعے حاصل نہیں کر سکتا تو اللّٰہ تعالیٰ اُسے جان، مال یا اولاد کی پریشانیوں میں مبتلا کر دیتا ہے اور اُس بندے کو صبر بھی عطا فرماتا ہے یہاں تک کہ وہ بندہ اُس اعلیٰ مقام تک پہنچ جاتا ہے۔

قانونِ الہٰی یہی ہے کہ جو شخص مصیبت پر صبر کرے، اور سچے د ل سے اللّٰہ تعالیٰ سے لَو لگائے اور اس کے فضل و کرم کو ایمان و یقین کے ساتھ طلب کرے، اللّٰہ تعالیٰ ضرور اسے آسانی عطا فرمائے گا۔

ان آیاتِ مبارکہ میں یہی بتایا گیاکہ:

اللّٰہ تعالیٰ نے ایک مشکل کے ساتھ دو آسانیاں رکھی ہیں خواہ ایک آسانی دنیا میں ملے اور دوسری آخرت میں ، یا دونوں آسانیاں دنیا ہی میں مل جائیں۔

فَاِذَا فَرَغْتَ فَانْصَبْ:

ارشاد ہوا:

{فَاِذَا فَرَغْتَ فَانْصَبْ۔ وَاِلٰی رَبِّکَ فَارْغَبْ}

یعنی’’ تو جب تم نماز سے فارغ ہو تو دعا میں محنت کرو اور اپنے رب ہی کی طرف رغبت کرو‘‘۔

 

حضرت ابن عباس رضی اللّٰہ عنہما ، قتادہ، ضحاک، مقاتل، کلبی رحمہم اللّٰہ تعالیٰ کا قول ہے کہ:

جب تم فرض نماز سے فارغ ہوجاؤ تو اپنے رب سے دعا مانگنے میں خوب محنت کرو۔

Share:
keyboard_arrow_up