اسی تفسیر کو اعلیٰ حضرت امام احمد رضا بریلوی رحمہ اللّٰہ نے ترجمہ میں اختیار کیا ہے۔
چونکہ آیت کریمہ میں مطلق ارشاد ہے کہ
’’جب تم فارغ ہو تو محنت کرو‘‘۔
اس بناء پر مفسرین کرام فرماتے ہیں:
جب تم ایک عبادت سے فارغ ہوجاؤ تو دوسری عبادت میں محنت کرو تاکہ تمہارا کوئی وقت بھی اللّٰہ تعالیٰ کی عبادت سے خالی نہ گزرے۔
آقا ومولیٰ ﷺ کا ارشادِ گرامی ہے،
اہلِ جنت کسی بات پر افسوس نہیں کریں گے مگر اس لمحہ پر حسرت و افسوس کریں گے جو انہوں نے دنیا میں یادِ الہٰی کے بغیر گزارا ہوگا۔(تفسیرمظہری)
فکروعمل کی دنیا میں حضرت عمر کا یہ ارشاد سنہرے حروف سے لکھے جانے کے لائق ہے، فرمایا:
’’مجھے یہ بات سخت ناپسند ہے کہ میں تمہیں فارغ بیٹھے ہوئے دیکھوں کہ نہ تم دنیا کا کوئی کام کرو اور نہ ہی آخرت کے لیے کوئی عمل‘‘۔(روح المعانی)
اس سے معلوم ہوا کہ بیکار اور نکما رہنا بڑا عیب ہے۔ اسی طرح فضول کاموں اور ناجائز مشاغل میں مصروف رہنا بھی بے عقلی اور ناشکری ہے۔
آقا ومولیٰ ﷺ کا فرمانِ عالیشان ہے،
’’دو نعمتیں ایسی ہیں جن کی وجہ سے اکثر لوگ نقصان میں ہیں، وہ ہیں صحت اور فراغت‘‘۔
یعنی ان نعمتوں کو غفلت کے ساتھ بیکار اور لغو کاموں میں برباد کرنا اللّٰہ تعالیٰ کی ناراضی کا باعث ہے۔
امام غزالی رحمہ اللّٰہ فرماتے ہیں:
’’حدیث شریف میں ہے کہ بیکار اور فارغ نوجوان کو اللّٰہ تعالیٰ ناپسند فرماتا ہے۔ اس کا سبب یہ ہے کہ جب جوان فارغ ہوتا ہے تو شیطان اس کے دل میں گھر بنا لیتا ہے اور اس کا دل و دماغ برے خیالات اور وسوسوں سے بھر دیتا ہے جس کی وجہ سے اس کے بہکنے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔ اس لیے ایسے جوان کو چاہیے کہ وہ اپنے جسم کو کسی اچھے کام میں مشغول رکھے تاکہ اس کا دل وسوسوں کی طرف مائل نہ ہو‘‘۔
مذکورہ آیت میں { فَانْصَبْ}کا ترجمہ ہے،
’’محنت کرو‘‘۔ یعنی عبادت میں اس قدر محنت کی جائے کہ انسان تھکن محسوس کرے۔ ظاہر ہے کہ مشکل کام کرنے میں ہی محنت درکار ہوتی ہے۔ آسان کام تو معمولی کوشش سے ہی ہو جاتے ہیں۔ ایک عبادت سے فارغ ہوتے ہی دوسری میں مشغول ہوجانا یا کسی دنیاوی کام سے فرصت ملنے پر عبادت کے لیے کھڑا ہوجانا نفس پر گراں ہوتا ہے لیکن رب کی رضا کی خاطر نفل عبادات میں مصروف ہونا رب کو محبوب ہے اور تزکیۂ نفس کا ذریعہ بھی۔
آخری آیت میں ارشاد ہوا:
’’اور اپنے رب ہی کی طرف رغبت کرو‘‘۔
یعنی اپنے تمام معاملات میں خواہ دینی ہوں یا دنیاوی، اپنے رب ہی سے لَو لگاؤ، اپنی ضروریات اور حاجات میں اسی سے اس کا فضل و کرم مانگو اور ہر معاملے میں اسی پر بھروسہ کرو۔
حضرت عطاء رحمہ اللّٰہ کا ارشاد ہے،
اس آیت کا معنی یہ ہے کہ جہنم کا خوف کرتے ہوئے اورجنت کی رغبت رکھتے ہوئے بارگاہِ الہٰی میں آہ وزاری کرو۔
اس آیتِ مبارکہ میں ایک پیغام معلمین و مبلغین کے لیے ہے اور ایک عام مسلمانوں کے لیے۔ تعلیم و تبلیغ اور مسلمانوں کی اصلاح یقیناً عظیم عبادت ہے لیکن علماء و مبلغین کو کچھ وقت ضرور خلوت میں ذکرِ الہٰی، توجہ الی اللّٰہ اور دعا و اِستِغفار کے لیے مخصوص کرنا چاہیے جس میں وہ پوری توجہ اور محبت سے اپنے رب سے مناجات کریں، اس سے دل میں نور اور زبان میں اثر پیدا ہوتا ہے۔
ایسے علماء و مبلغین اور نعت خواں حضرات جو لوگوں کو اچھی باتوں کی تلقین کرتے ہیں اور خود ان پر عمل نہیں کرتے، ان کے لیے عذاب کی وعید ہے۔
ارشاد ِربانی ہے،
{کَبُرَ مَقْتًا عِنْدَ اللّٰہِ اَنْ تَقُوْلُوْا مَا لَا تَفْعَلُوْنَ}
’’کیسی سخت ناپسند ہے اللّٰہ کو وہ بات کہ وہ کہو جو نہ کرو ‘‘۔(پ28،صف:3)

