Anwaar ul Quran

Total Pages: 164

Page 35 of 164

ہمارے آقا ومولیٰ نے ہر مسلمان کے ذمہ ایک کام لگایا ہے اور وہ ہے:

بَلِّغُوْا عَنِّیْ وَلَوْ اٰیَۃً۔

اگر کوئی صرف ایک آیت ہی جانتا ہے تو اسے چاہیے کہ وہ دوسروں تک پہنچائے۔

 

یہ بھی حدیث پاک میں ہے کہ:

علمِ دین سیکھنا ہر مسلمان پر فرض ہے۔

پس ہر مسلمان پر لازم ہے کہ وقت اور صحت جیسی عظیم نعمتوں کی قدر کرتے ہوئے دین کا علم حاصل کرے اور پھر اس پر خود عمل کرتے ہوئے نیکی کی دعوت دوسروں تک پہنچائے اور یہ یاد رکھے کہ ہر مشکل کے ساتھ آسانی ہے۔

 

تفسیر سورۃ التین سورۃ التین مکہ میں نازل ہوئی اور اس میں آٹھ آیات ہیں۔

بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

’’ اللّٰہ کے نام سے شروع جو نہایت مہربان رحم والا ہے

وَ التِّیْنِ وَ الزَّیْتُوْنِۙ(۱) وَ طُوْرِ سِیْنِیْنَۙ(۲) وَ هٰذَا الْبَلَدِ الْاَمِیْنِۙ(۳) لَقَدْ خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ فِیْۤ اَحْسَنِ تَقْوِیْمٍ٘(۴) ثُمَّ رَدَدْنٰهُ اَسْفَلَ سٰفِلِیْنَۙ(۵) اِلَّا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ فَلَهُمْ اَجْرٌ غَیْرُ مَمْنُوْنٍؕ(۶) فَمَا یُكَذِّبُكَ بَعْدُ بِالدِّیْنِؕ(۷) اَلَیْسَ اللّٰهُ بِاَحْكَمِ الْحٰكِمِیْنَ۠(۸)‘‘

’’انجیر کی قسم اور زیتون اور طورِ سینا اور اِس امان والے شہر کی،بے شک ہم نے آدمی کو اچھی صورت پر بنایا۔ پھر اسے ہر نیچی سے نیچی حالت کی طرف پھیر دیا۔ مگر جو ایمان لائے اور اچھے کام کیے کہ انہیں بے حد ثواب ہے۔ تو اب کیا چیز تجھے انصاف کے جھٹلانے پر باعث ہے؟ کیا اللہ تعالیٰ سب حاکموں سے بڑھ کر حاکم نہیں؟‘‘۔

 

لفظی ترجمہ:

 

وَ التِّیْنِ وَ الزَّیْتُوْنِ

قسم انجیر اور زیتون(کی)

 

وَ طُوْرِ سِیْنِیْنَ

اور طُورِ سینا(کی)

 

وَ ھٰذَا الْبَلَدِ الْاَمِیْنِ

اور اس شہر امن والے (کی)

 

لَ قَدْ خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ فِیْٓ اَحْسَنِ تَقْوِیْم

البتہ بیشک پیدا کیا ہم نے انسان(کو) میں بہترین ساخت

 

ثُمَّ رَدَدْنٰا ہُ اَسْفَلَ سٰفِلِیْنَ

پھر پھیرلائے ہم اسے زیادہ نیچے سب نیچوں (سے)

 

اِلَّا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ

مگر وہ جو ایمان لائے اور کام کیے جنہوں نے اچھے

 

فَ لَ ھُمْ اَجْرٌ غَیْرُ مَمْنُوْنٍ

پس لیے اُن (کے) ثواب نہ ختم ہونے والا

 

فَ مَا یُکَذِّبُ کَ بَعْدُ بِ الدِّیْنِ

تو کیا چیز جھٹلا سکتی ہے تجھے بعد (اسکے) کو قیامت

 

اَ لَیْسَ اللّٰہُ بِ اَحْکَمِ الْحٰکِمِیْنَ

کیا نہیں اللّٰہ - بڑا حاکم سب حاکموں (سے)

 

ربط ومناسبت:

اس سورت کے آغاز میں چار چیزوں کی قسم ارشاد فرمائی گئی ہے۔ ’’تِین‘‘ اور ’’زیتون‘‘ سے مراد وہی انجیر اور زیتون ہیں جنہیں لوگ کھاتے ہیں۔ یا پھر وہ مقام ہیں جہاں یہ برکت و فوائد والے درخت پیدا ہوتے ہیں۔

ایک قول یہ بھی ہے کہ:

حضرت عیسیٰ جہاں پیدا ہوئے وہاں انجیر و زیتون کے درخت بکثرت ہیں۔

طور سینا وہ جگہ ہے جہاں حضرت موسیٰ اللّٰہ تعالیٰ سے ہم کلام ہوئے۔

اور بلدِ الامین یعنی مکہ مکرمہ میں آقا و مولیٰ کی ولادتِ باسعادت ہوئی۔

اس گفتگو سے اس سورت کی سابقہ سورت سے ربط و مناسبت واضح ہوتی ہے کہ سابقہ سورت میں صریحاً امامُ الانبیاء کی عظمت وشان کابیان تھا جبکہ اس سورت میں اجمالاً آپ کی شان اور ساتھ ہی دیگر اولوالعزم انبیاء کا ذکر موجود ہے۔

حضور کی شان اس طرح بیان ہوئی کہ آپ اُس اشرفُ المخلوقات کے سردار ہیں جس کو رب تعالیٰ نے سب سے زیادہ خوبصورت سانچے میں ڈھالا ہے۔نیز اُس شہر کی خوبی بیان ہوئی جس میں حضور کی ولادت وبعثت ہوئی اور آپ نے اپنی حیاتِ مبارکہ کا بیشتر حصہ وہاں گزارا۔

Share:
keyboard_arrow_up