سابقہ سورت میں رسولِ معظم ﷺ کو ذکر بلند کرنے کی بشارت عطا ہوئی تھی جبکہ اس سورت میں آپ پر ایمان لانے اور عملِ صالح کرنے والوں کو کبھی نہ ختم ہونے والے اجر کی خوشخبری دی گئی ہے۔
سابقہ سورت میں ارشاد ہوا تھا کہ:
’’جب ایک نیکی سے فارغ ہو جاؤ تو دوسری نیکی میں محنت کرو اور اپنے رب ہی کی طرف رغبت کرو‘‘۔
اس سورت میں بتایا گیا کہ:
انسان کی تخلیق ایسی ہوئی ہے کہ وہ ان کاموں کو بہتر طور پر انجام دے سکتا ہے۔نیز یہ بھی بیان کیا گیا کہ ایک دن ضرور آئے گا جب احکم ُ الحاکمین ہر شخص کو اس کے اچھے برے اعمال کے مطابق جزا و سزا دے گا۔
شانِ نزول:
یہ سورت ، سورۃ البروج کے بعد نازل ہوئی۔ اُس وقت کے حالات یہ تھے کہ کفار و مشرکین قیامت کا انکار کر رہے تھے اور ان کے اذہان اچھے برے اعمال کی بازپُرس اور ان پر جزا و سزا کا تصور قبول کرنے سے انکاری تھے۔
قیامت کے ان منکرین کی نصیحت کے لیے یہ سورت نازل ہوئی۔ اس سورت میں انہیں بتادیا گیاکہ تمہارا خالق و مالک جو سب حاکموں سے بڑا حاکم ہے، اس کے عدل و انصاف کا تقاضا ہے کہ ہر شخص کو اس کے اعمال کے مطابق جزا و سزا ملے۔ کیا اللّٰہ تعالیٰ کو احکم ُ الحاکمین ماننے کے با وجود قیامت کو جھٹلانے اور اعمال کی جزا و سزا کے انکار کی کوئی گنجائش ہے؟ہرگز نہیں۔
وَالتِّیْنِ وَالزَّیْتُوْنِ:
’’تِین‘‘ کا معنی ہے، انجیر جوکہ ایک عمدہ میوہ اور پاکیزہ و مفید پھل ہے۔
حضرت ابن عباس، مجاہد، حسن بصری، ابراہیم نخعی ثودیگر مفسرین کا ارشاد ہے،
تِیْن اور زَیْتُوْن سے مراد وہی انجیر اور زیتون ہیں جنہیں لوگ کھاتے ہیں۔
جب جنتی لباس حضرت آدم کے جسم سے جدا ہوا تو قرآن مجید میں ہے کہ وہ اپنے بدن پر پتے چپٹانے لگے۔
{یَخْصِفٰنِ عَلَیْھِمَا مِنْ وَّرَقِ الْجَنَّۃِ}
اور وہ انجیر کے درخت کے پتے تھے۔ اسی بناء پر انجیر کی قسم ارشادہوئی۔
انجیر کی چند ظاہری خصوصیات ہیں۔
یہ خوش ذائقہ غذا ہے اور بہترین دوا بھی۔
اسے نہارمنہ کھانا زیادہ نفع دیتا ہے۔
یہ لطیف اور زودہضم ہے،
بلغم تحلیل کرتا ہے،
جگر اور تِلی کے سُدّوں کو کھولتا ہے،
گردوں کو صاف کرتا ہے،
مثانہ سے پتھری کو خارج کرتا ہے،
فاسد مواد کو پسینہ کے ذریعہ نکالتا ہے،
بدن کو فربہ کرتا ہے۔
یہ منہ کی بو کو زائل کرتا ہے،
سر کے بالوں کو لمبا کرتا ہے
اور بدن کو فالج سے محفوظ رکھتا ہے۔
حدیث شریف میں ہے کہ نبی کریم ﷺ نے انجیر تناول فرمائے اور صحابہ سے فرمایا:
اسے کھاؤ۔ اگر میں کہتا کہ کوئی پھل جنت سے نازل ہوا ہے تو میں کہتا، وہ یہی پھل ہے۔ کیونکہ جنت کے پھل بغیر گٹھلی کے ہوتے ہیں۔
اسے کھاؤ، یہ بواسیر کو ختم کرتا ہے اور جوڑوں کے درد میں فائدہ دیتا ہے۔ انجیر کی بعض باطنی خصوصیات بھی ہیں جو اہلِ فضل و کمال سے مشابہہ ہیں۔
اول: اہلُ اللّٰہ کی طرح اس کا ظاہر و باطن یکساں ہے۔ کیونکہ اس میں گٹھلی ہے نہ چھلکا اور نہ ہی اس میں پھینکنے کی کوئی اور چیز ہے یعنی پورے کا پورا قیمتی ہے۔
دوم: انجیر کا درخت پھول آنے سے پہلے پھل دیتا ہے جبکہ دوسرے درختوں پر پہلے پھول آتے ہیں پھر پھل۔گویا اس میں ایثار کی صفت پائی جاتی ہے کہ یہ خود پھولوں سے آراستہ ہونے سے پہلے دوسروں کو فائدہ پہنچاتا ہے۔جبکہ دوسرے درخت پہلے اپنا اور پھر دوسروں کا خیال کرتے ہیں۔
سوم: دوسرے درخت سال میں ایک ہی بار پھل دیتے ہیں جبکہ یہ سال میں کئی بار پھل دیتا ہے۔اس لیے اس کا فیض دوسرے پھل دار درختوں سے زیادہ ہے۔
چہارم: یہ درخت زیادہ بلند نہیں ہوتا اور نہ ہی اس میں کانٹا ہوتا ہے۔یعنی اس سے پھل حاصل کرنا آسان ہوتا ہے اور اس میں کسی طرح کی اذیت کا اندیشہ نہیں ہوتا ۔یہ بھی اہلُ اللّٰہ کی صفت ہوتی ہے کہ وہ طالبانِ فیض کے قریب ہوتے ہیں اور بداخلاق بھی نہیں ہوتے۔

