زیتون ایک برکت والا درخت ہے۔ قرآن کریم میں اسے شجرۂ مبارکہ فرمایا گیا۔
حدیث شریف میں ارشاد ہے،
زیتون کھاؤ اور اس کا تیل استعمال کرو کیونکہ یہ برکت والے درخت سے ہے۔
انجیر کی طرح یہ غذا بھی ہے،
دوا بھی اور میوہ بھی۔
زیتون کے درخت کے پتے نہیں گرتے۔
انجیر میں جو فوائد ہیں ان میں سے اکثر زیتون میں بھی پائے جاتے ہیں اور بعض اس سے زائد بھی ہیں۔
کچے زیتون کا روغن چراغ میں جلانے کے کام آتا ہے،
نہایت صاف و پاکیزہ روشنی دیتا ہے۔
پکے زیتون کا تیل جوڑوں کے درد میں فائدہ مند ہے،
جسم اور سر پر بھی لگایا جاتا ہے،
نیز سالن کی جگہ روٹی سے بھی کھایا جاتا ہے۔
اس میں کولیسٹرول نہیں ہوتا بلکہ یہ کولیسٹرول کم کرنے کے لیے بہترین دوا ہے۔
اس کے پینے سے پیٹ کے کیڑے اور پِتے کی پتھری خارج ہوجاتی ہے۔
یہ بصارت کو تقویت دیتا ہے اور موتیا کو روکتا ہے۔
زیتون کی لکڑی مسواک کے لیے مفید ہے۔
سرکارِ دوعالم ﷺ زیتون کے درخت کے پاس سے گزرے تو آپ نے اس سے مسواک توڑی اور فرمایا، بہترین مسواک برکت والے درخت زیتون کی ہے۔ یہ منہ کو پاکیزہ بناتی ہے اور بدبو دور کرتی ہے۔ زیتون کی مسواک میری اور مجھ سے پہلے انبیاء کی سنت ہے۔
زیتون کی بھی چند باطنی خصوصیات ہیں جو اولیاء اللّٰہ سے مشابہہ ہیں۔
اول: زیتون کا تیل چمکدار ہوتا ہے، اور جلایا جائے تو اعلیٰ درجہ کی روشنی دیتا ہے جو دھوئیں سے پاک ہوتی ہے۔
اولیاء اللّٰہ کے وجود بھی نورانی ہوتے ہیں اور ان کی نورانیت نفسانی کدورتوں سے پاک ہوتی ہے۔
دوم: قرآن میں حضرت ابراہیم کو زیتون کے درخت سے تشبیہ دی گئی ہے۔
ارشاد ہوا:
{یُّوْقَدُ مِنْ شَجَرَۃٍ مُّبٰرَکَۃٍ زَیْتُوْنَۃٍ}
(پ18،نور:35)
’’روشن ہوتا ہے برکت والے درخت زیتون سے‘‘۔ اولیاء اللہ بھی نورِ مصطفیٰ ﷺ سے فیض پاکر ایسے روشن ہوتے ہیں کہ ان پر انوارِ الہٰیہ منکشف ہوتے ہیں اور وہ اپنے طالبانِ فیض کو نورِ ہدایت عطا کرتے ہیں۔
سوم: زیتون کا درخت خشک پہاڑوں میں اُگتا ہے اور بغیر دیکھ بھال کے ہزاروں برس تک رہتا ہے۔ اولیاء اللّٰہ کے فیوض و برکات بھی دنیا میں طویل مدت تک لوگوں کو نفع دیتے رہتے ہیں۔
چہارم: زیتون کا وطن ملک شام، کثیر انبیاء کرام علیہم السلام کا معدن و مرکز رہا ہے اور اہلِ وطن کو اپنے دوسرے اہلِ وطن سے خاص مناسبت ہوتی ہے۔
’’تِین‘‘ اور ’’زیتون‘‘ کی تفسیر میں مفسرین کے کئی اقوال ہیں۔
ایک قول یہ ہے کہ:
’تین‘ سے مراد وہ مسجد ہے جو طوفان کے بعد نوح نے کوہِ جُودی پر تعمیر کی تھی، اور ’زیتون‘ سے مراد بیت المقدس کی مسجد ہے۔
ایک اور قول یہ ہے کہ:
تین اور زیتون سے مراد وہ علاقے ہیں جہاں یہ درخت بکثرت پیدا ہوتے ہیں۔اور وہ ملک شام ہے جو کثیر انبیاء کرام کا مولد و مسکن ہے اور قرآن کریم نے اسے برکت والی زمین فرمایا ہے۔
ارشاد ہوا:
{اِلَی الْاَرْضِ الَّتِیْ بٰرَکْنَا فِیْھَا لِلْعٰلَمِیْنَ}
’’اُس زمین کی طرف جس میں ہم نے جہاں والوں کے لیے برکت رکھی ‘‘۔
(پ17،انبیاء:71)
وَطُوْرِ سِیْنِیْنَ:
طُور سے مراد پہاڑ ہے اور’ سینین‘ سے مراد خوبصورت اور مبارک۔
طُورِ سینا وہ مقام ہے جہاں حضرت موسیٰ اللّٰہ تعالیٰ سے ہم کلام ہوئے۔
الْبَلَدِ الْاَمِیْنِ:
اس سے مراد مکہ مکرمہ ہے۔ شہر کے امین ہونے کا معنی یہ ہے کہ وہ اپنے اندر داخل ہونے والے کی اس طرح حفاظت کرتا ہے جیسے امانت دار ، امانت کی حفاظت کرتا ہے۔ چنانچہ جو انسان یا جانور مکہ میں داخل ہو ،وہ امن والا ہو جاتا ہے۔

