Anwaar ul Quran

Total Pages: 164

Page 38 of 164

یہ چاروں چیزیں برکت و نفع والی ہیں۔ اس لیے ان کی قسمیں ارشاد فرما کر انسان کے احسنِ تقویم یعنی ’’بہترین ساخت پر‘‘ یا ’’شکل وعقل کے لحاظ سے بہترین اعتدال پر‘‘ ہونے کا اعلان فرمایا گیا۔

اس میں اشارہ ہے کہ جس طرح انسان کی جسمانی غذا اور امراض سے شِفا کے لیے انجیر اور زیتون پیدا کیے گئے، انسان کی روحانی غذا اور امن وسکون کے لیے طورِ سینا اور مکہ مکرمہ بنائے گئے، ایسے ہی انسان کی روحانی تربیت اور فلاحِ دارین عطا کرنے کے لیے انبیاء کرام مبعوث فرمائے گئے جو احسنِ تقویم کی بہترین مثال ہیں۔

دوسری تفسیر یہ ہے کہ:

انجیر کی پیدا وار کی جگہ، بیت المقدس  عیسیٰ کی پیدائش کی جگہ ہے اور زیتون کی پیداوار کی جگہ ، ملک شام کثیر انبیاء کرام کی پیدائش کی جگہ ہے۔ کوہِ طور پر موسیٰ علیہ سلام  اللّٰہ تعالیٰ سے ہم کلام ہوئے اور مکہ مکرمہ میں رحمتِ عالم کی ولادت ہوئی۔ ان قسموں کا مقصد درحقیقت انبیاء کرام کی عظمت و شان کا اظہار ہے کیونکہ یہ ہستیاں احسنِ تقویم کی بہترین مثال ہیں۔ اوران نفوسِ قدسیہ کی ذات و صفات اور سیرت و کردار اس بات پر گواہ ہے کہ اللّٰہ تعالیٰ نے انسان کوعقل و شکل کے اعتبار سے بہترین اعتدال پر پیدا فرمایا ہے۔

 

ایک اور تفسیر یہ ہے کہ:

تین اور زیتون پہاڑ کے نام ہیں جو بیت المقدس میں ہیں جہاں عیسیٰ علیہ سلام مبعوث ہوئے۔ طورِ سینا پر موسیٰ علیہ سلام  مبعوث ہوئے اور مکہ میں سیدنا محمد مصطفی مبعوث ہوئے۔ان جلیل القدر انبیاء کرام کی بعثت کے یہ مقامات گواہ ہیں کہ انسانی فطرت کو بہترین عدل و اعتدال کے سانچے میں ڈھالا گیا ہے۔

فِیْ ٓ اَحْسَنِ تَقْوِیْمٍ:  

ارشاد ہوا:

’’بے شک ہم نے آدمی کو اچھی صورت پر بنایا‘‘۔

یہ مذکورہ قسموں کا جواب ہے۔ مطلب یہ ہے کہ ہم نے انسان کو شکل و صورت، قد وقامت، جبلت و فطرت،عقلی و ذہنی قوت، غرض یہ کہ ہر اعتبار سے بہترین بنایا ہے۔

 

فِیْ ٓ اَحْسَنِ تَقْوِیْمٍ  سے مراد ہے، فِیْ اَعْدَلِ خَلْقٍ۔

یعنی ’’عدل واعتدال کی بہترین ساخت میں(پیدا کیا)‘‘۔

 

مفسرین کرام کے تمام اقوال کا خلاصہ یہی ہے کہ اللّٰہ تعالیٰ نے انسان کو جسمانی اور عقلی اعتبار سے جیسا بہترین ہونا چاہیے ، ویسا ہی پیدا فرمایا ہے۔

شیخ ابن عربی رحمہ اللّٰہ فرماتے ہیں:

اللّٰہ تعالیٰ نے انسان سے زیادہ خوبصورت کسی اور مخلوق کو پیدا نہیں کیا۔ رب کریم نے انسان کوحیات، علم، قدرت، ارادہ، باتیں کرنے، سننے، دیکھنے ، تدبیر کرنے اور حکمت کی صفات عطا کیں۔ (

یہ سب اللّٰہ تعالیٰ کی صفات ہیں گویا انسان باری تعالیٰ کی صفات کا مظہر ہے۔

آقا و مولیٰ کا ارشاد ہے،

بیشک اللّٰہ  نے انسان کو اپنی صفت پر پیدا کیاہے۔ (بخاری)

اللّٰہ تعالیٰ نے انسان کو نورِ عقل اور بصیرتِ قلبی سے نوازا، اور ظاہری و باطنی حواس سے آراستہ کر کے زمین میں خلافتِ الہٰیہ کا منصب عطا فرمایا۔  پھر عزت و فضیلت کا تاج اس ’’احسنِ تقویم‘‘کے سر پر سجا دیا۔

ارشاد ہوا:

{وَلَقَدْکَرَّمْنَا بَنِیْٓ اٰدَمَ وَحَمَلْنٰھُمْ فِی الْبَرِّ وَالْبَحْرِ وَرَزَقْنٰہُمْ مِّنَ الطَّیِّبٰتِ وَفَضَّلْنٰھُمْ عَلٰی کَثِیْرٍ مِّمَّنْ خَلَقْنَا تَفْضِیْلًا} (پ15،بنی اسرائیل:70)

’’اور بیشک ہم نے اولادِ آدم کو عزت دی، اور ان کو خشکی اور تری میں سوار کیا، اور ان کو ستھری چیزیں روزی دیں، اور ان کو اپنی بہت مخلوق سے افضل کیا‘‘۔

 

حدیث پاک میں ہے کہ:

مومن اللّٰہ تعالیٰ کے نزدیک ملائکہ سے زیادہ کرامت رکھتا ہے۔ وجہ یہ ہے کہ فرشتوں میں عقل ہے مگر خواہشات نہیں۔ اسی لیے وہ ہر لمحہ رب تعالیٰ کی اطاعت میں ہیں۔ جبکہ جانوروں میں خواہشات ہیں، عقل نہیں۔ اس لیے وہ اپنی خواہشات پر عمل پیرا رہتے ہیں۔اور انسان خواہشات اور عقل دونوں کا جامع ہے۔ جس نے عقل کو شہوَت پر غالب کیا وہ ملائکہ سے افضل ہے اور جس نے شہوت کو عقل پر غالب کیا وہ جانوروں سے بدتر ہے۔ 

Share:
keyboard_arrow_up