Anwaar ul Quran

Total Pages: 164

Page 39 of 164

تمام جانور زمین پر سر جھکا کر چلتے ہیں اور ہر جانور کو غذا حاصل کرنے کے لیے اپنا سر زمین کی طرف جھکانا پڑتا ہے لیکن رب تعالیٰ نے انسان کو دراز قد بنایا۔ اسی لیے چلتے ہوئے اس کا چہرہ زمین کی طرف نہیں ہوتا اور اسے اپنی غذا کے لیے زمین کی طرف سر نہیں جھکانا پڑتا۔ وہ اپنے ہاتھوں سے لقمہ اُٹھا کر منہ میں ڈال لیتا ہے۔

’’احسنِ تقویم‘‘ کے مفہوم میں یہ بات داخل ہے کہ:

جس مقصد کے لیے انسان کو پیدا کیا گیا، وہ اس مقصد کے لیے بالکل ٹھیک اور مناسب بنایا گیا۔

چنانچہ ارشادہوا:

{وَنَفْسٍ وَّمَا سَوّٰھَا o فَاَلْھَمَھَا فُجُوْرَھَا وَ تَقْوٰھَا o قَدْ اَفْلَحَ مَنْ زَکّٰھَا o وَقَدْ خَابَ مَنْ دَسّٰھَاo} (پ30،شمس:7-10)

’’اور جان کی قسم! اور اُ س کی جس نے اسے ٹھیک بنایا۔ پھر اس کی بدکاری اور اس کی پرہیزگاری دل میں ڈالی۔ بیشک مراد کو پہنچایا جس نے اسے (نفس کو) ستھرا کیا، اور نامراد ہوا جس نے اسے معصیت میں چھپایا‘‘۔

 

انسان اور جانوروں میں سماعت، بصارت، بھوک پیاس، شہوَت اور بقائے نسل، دشمن سے لڑائی اور حفاظت وغیرہ متعدد معاملات میں کوئی فرق نہیں۔

فرق ہے تو عقل و شعور اور اس الہامی ہدایت کا، جس کی بناء پر انسان کو یہ حکم ہے کہ وہ اپنے ارادہ و اختیار سے نیکی کا راستہ اختیار کرے اور اپنے نفس کو گناہوں سے بچائے۔

اس آیت کے تحت علامہ قرطبی رحمہ اللّٰہ نے ایک دلچسپ واقعہ لکھا ہے۔

خلیفہ منصور کے مصاحب عیسیٰ بن موسیٰ نے اپنی بیوی سے کہہ دیا، اگر تو چاند سے زیادہ حسین نہ ہو تو تجھے تین طلاق۔ وہ یہ سن کر پردہ میں چلی گئی اور کہا، آپ نے مجھے طلاق دیدی ۔ عیسیٰ پریشان ہو گیا۔ اس نے خلیفہ سے یہ واقعہ بیان کیا۔ علماء سے پوچھاگیا، سب نے کہا، طلاق ہو گئی۔ایک عالم جو امام اعظم کے شاگرد تھے، وہ خاموش رہے۔ خلیفہ نے ان سے پوچھا تو انہوں نے بسم اللّٰہ پڑھ کر سورۃ والتین تلاوت کی اور کہا، اے امیر المومنین!  اللّٰہ تعالیٰ نے انسان کو سب سے بہترین صورت میں بنایا ہے، کوئی شے اس سے زیادہ حسین نہیں ہو سکتی۔ یہ سن کر سب علماء حیران رہ گئے اور انہوں نے متفقہ طور پر کہا، واقعی اس عورت کو طلاق نہیں ہوئی۔

اَسْفَلَ سٰفِلِیْنَ:

پھر ارشاد فرمایا گیا،

’’پھر اسے ہر نیچی سے نیچی حالت کی طرف پھیر دیا‘‘۔ یہ حقیقت ہے کہ جو چیز زیادہ بلند ہوتی ہے جب وہ گرتی ہے تو زیادہ بلندی سے گرنے کے نتیجے میں نقصان بھی زیادہ ہوتا ہے۔چونکہ انسان کو عقل وخرد اور ارادہ و اختیار کی نعمتوں سے نوازا گیا اس لیے جب وہ عقل و فہم کی روشنی بجھا کر نفسانی خواہشات کی تکمیل میں اس قدر مگن ہوجاتا ہے کہ اسے اپنے خالق و مالک عزَّوَجل اور آقا و مولیٰ کی اطاعت کا خیال ہی نہیں آتا تو وہ اشرفُ المخلوقات کے مرتبہ سے گر کر ناسمجھ حیوانوں سے بھی بدتر ہوجاتا ہے۔

جب ایسا شخص حق بات کا مسلسل انکار کرتے ہوئے جانتے بوجھتے برائی کے راستے پر چلتا رہتا ہے تو ہم اُسے اُس کے اختیار کیے ہوئے سب سے نیچی حالت والے کاموں میں غرق ہونے کے لیے چھوڑ دیتے ہیں۔جن کا ٹھکانا جہنم ہے جو یقیناً سب سے اسفل وبدتر ٹھکانا ہے۔

ارشادِباری تعالیٰ ہے،

 

{ وَلَا تَکُوْنُوْا کَالَّذِیْنَ نَسُوا اللّٰہَ فَاَنْسٰھُمْ اَنْفُسَھُمْ اُولٰٓئِکَ ھُمُ الْفٰسِقُوْنَ}

’’اور اُن جیسے نہ ہو جو اللّٰہ کو بھول بیٹھے تو اللّٰہ نے اُنہیں بلا میں ڈالا کہ اپنی جانیں یاد نہ رہیں، وہی فاسق ہیں‘‘۔

(پ28،حشر:19)

چونکہ انسان کو رب تعالیٰ نے بہترین عقل و شکل عطا کی ہے اور اپنی صفات کا مظہر بننے کی صلاحیت بخشی ہے۔ اب اگر یہ اس صلاحیت کو ضائع کردے تو یہ اسفل سافلین کے حقیر مرتبہ پر پہنچ جاتا ہے۔

Share:
keyboard_arrow_up