Anwaar ul Quran

Total Pages: 164

Page 40 of 164

قاضی ثناء اللّٰہ پانی پتی رحمہ اللّٰہ لکھتے ہیں:

’’انسان جب اپنی صلاحیت ضائع کردیتا ہے، اور شکرِ الہٰی،فوز و فلاح دینے والے کام اور رضائے الہٰی والے اسباب چھوڑ دیتا ہے اور اُن کاموں کو کرنے لگتا ہے جو کفر اور غضبِ الہٰی کا باعث ہیں تو بد سے بدتر ہوجاتا ہے اور اس کا مرتبہ ہر پست مخلوق سے بھی نیچے ہوجاتا ہے۔ پھر اس کا حال اور انجام کتے اور خنزیر سے بھی برا ہو جاتا ہے بلکہ شیاطین سے بھی‘‘۔

مذکورہ عبارت تنگ نظری اور تعصب کی بناء پر نہیں ہے بلکہ یہ افکارِ قرآن سے مستفاد ہے۔

باری تعالیٰ کا ارشاد ہے،

{قُلْ ھَلْ اُنَبِّئُکُمْ بِشَرٍّ مِّنْ ذٰلِکَ مَثُوْبَۃً عِنْدَ اللّٰہِ مَنْ لَّعَنَہُ اللّٰہُ وَغَضِبَ عَلَیْہِ وَجَعَلَ مِنْھُمُ الْقِرَدَۃَ وَالْخَنَازِیْرَ وَعَبَدَ الطَّاغُوْتَ اُولٰٓئِکَ شَرٌّ مَّکَانًا وَّاَضَلُّ عَنْ سَوَآءِ السَّبِیْلِ}

’’(اے حبیب)تم فرماؤ!کیا میں بتادوں جو اللّٰہ کے یہاں اس سے بدتر درجہ میں ہیں، وہ جن پر اللّٰہ نے لعنت کی اور اُن پر غضب فرمایا، اور اُن میں سے کردیے بندر اور سؤر اور شیطان کے پجاری۔ ان کا ٹھکانا زیادہ بُرا ہے، اور یہ سیدھی راہ سے زیادہ بہکے‘‘۔(پ6،مائدہ:60)

 

آیت ۶ کی تفسیر:

جو لوگ اللّٰہ تعالیٰ اور اس کے حبیبِ لبیب پر ایمان لاتے ہیں اور اعمالِ صالحہ پر کاربند رہتے ہیں، یہی وہ لوگ ہیں جو اُس احسنِ تقویم پر قائم رہتے ہیں جس پر اللّٰہ تعالیٰ نے انہیں پیدا کیا تھا۔ ایسے سعادت مندوں کے لیے رب کریم کی طرف سے ایسا اجر ہے جو کبھی ختم نہ ہوگا۔ یہ خوش نصیب جب دنیا سے رخصت ہو رہے ہونگے تو انہیں یہ نویدِ جانفزا سنائی جائے گی،

{ یٰٓاَیَّتُھَا النَّفْسُ الْمُطْمَئِنَّۃُo ارْجِعِیْ ٓاِلٰی رَبِّکِ رَاضِیَۃً مَّرْضِیَّۃًo فَادْخُلِیْ فِیْ عِبٰدِیْ o وَادْخُلِیْ جَنَّتِیْ}

’’اے اطمینان والی جان! اپنے رب کی طرف واپس ہو یوں کہ تُو اس سے راضی، وہ تجھ سے راضی، پھر میرے خاص بندوں میں داخل ہو اور میری جنت میں آ‘‘۔ (پ30فجر،27-30)

 

ایک قول یہ ہے کہ:

اَسْفَلَ سَافِلِیْن  سے مراد بڑھاپے کی حالت ہے۔اس قول کی بناء پر آیت کی تفسیر یہ ہوگی کہ بڑھاپے میں اعمال کم ہوجانے کے باوجود صالح مومن کے نامۂ اعمال میں وہی اعمال درج کیے جاتے ہیں جو وہ صحت و جوانی کے دنوں میں کیا کرتا تھا۔

تفسیر جلالین میں ہے،

’’ جب کوئی اس قدر بوڑھا ہوجائے کہ عمل کرنے سے عاجز آ جائے تو اُس کے لیے وہی عمل لکھے جاتے ہیں جو وہ پہلے کیا کرتا تھا‘‘۔

 

رسولِ معظم کا ارشادہے،

جب مسلمان بیمار ہوجاتا ہے یا سفر کرتا ہے (اور اس مجبوری کی وجہ سے معمول کے نیک عمل نہیں کرپاتا) تو اللّٰہ تعالیٰ فرشتوں کو حکم دیتا ہے کہ جو نیک اعمال یہ صحت یا اقامت کے دنوں میں کیا کرتا تھا، وہ اب بھی اس کے نامۂ اعمال میں لکھتے رہو۔

 

آیت ۷، ۸ کی تفسیر:

اس آیت کا ایک مفہوم یہ ہے کہ:

’’اے منکر! تو اب کیا چیز تجھے انصاف یعنی جزا و سزا کے جھٹلانے کا باعث ہے‘‘۔

 

اور دوسرا مفہوم یہ ہے کہ:

’’اے حبیب ! اِس قدر دلائل کے بعد جزا و سزا کے معاملہ میں تمہیں کون جھٹلا سکتا ہے‘‘۔ انسان خوب جانتا ہے کہ اللّٰہ تعالیٰ نے اسے پانی کی ایک بوند سے پیدا کیا، پھر اسے تدریجاً اچھی شکل عطا فرمائی، پھر اسے بچہ سے جوان کیا، پھر اسے ادھیڑ عمر تک پہنچایا حتیٰ کہ اس پر بڑھاپا طاری کر دیا۔یہ جسمانی تغیر اس بات کی روشن دلیل ہے کہ وہ انسان کو مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کرنے پر بھی قادر ہے۔ 

Share:
keyboard_arrow_up