Anwaar ul Quran

Total Pages: 164

Page 41 of 164

ارشاد ہوا:

{قَالَ مَنْ یُّحْیِ الْعِظَامَ وَھِیَ رَمِیْمٌo قُلْ یُحْیِیْھَا الَّذِیْٓ اَنْشَاَھَآ اَوَّلَ مَرَّۃٍط وَھُوَ بِکُلِّ خَلْقٍ عَلِیْمْ}

’’(کافر)بولا، ایسا کون ہے کہ ہڈیوں کو زندہ کرے جب وہ بالکل گل گئیں؟ (اے حبیب) تم فرماؤ! انہیں وہ زندہ کرے گا جس نے پہلی بار انہیں بنایا، اور اسے ہر پیدائش کا علم ہے‘‘۔(پ23،یس:78-79)

 

انسان خود اپنی آنکھوں سے دیکھ رہا ہے کہ کچھ لوگ ایمان اور اعمالِ صالحہ کے ساتھ احسنِ تقویم والی زندگی گزارتے ہیں اور کچھ لوگ حرص و ہوس، خود غرضی و کمینہ پن اور ظلم و تکبر کے ساتھ دیگر برائیوں میں مبتلا ہو کر اخلاقی پستی میں سب سے نچلے درجے تک پہنچ جاتے ہیں حتیٰ کہ ان کی زندگی اور کسی جانور کی زندگی کے مقاصد میں کوئی نمایاں فرق باقی نہیں رہتا۔ آپ خود فیصلہ کیجیے کہ کیا عقل و شعور کا تقاضا یہ ہے کہ دونوں کا انجام ایک جیسا ہو؟کیا عدل و انصاف یہ چاہے گا کہ پاکیزہ اور اخلاقِ حسنہ والی زندگی گزارنے والے کو کوئی جزا نہ دی جائے اور اسفل سافلین میں گرنے والوں کو کوئی سزا نہ ملے؟

سورۃ القلم میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

{اَفَنَجْعَلُ الْمُسْلِمِیْنَ کَالْمُجْرِمِیْنَo مَا لَکُمْ کَیْفَ تَحْکُمُوْنَ} 

’’کیا ہم مسلمانوں کو مجرموں جیسا کردیں؟ تمہیں کیا ہوا، کیسا حکم لگاتے ہو‘‘۔ (پ29،قلم:35-36)

 

{اَمْ حَسِبَ الَّذِیْنَ اجْتَرَحُواالسَّیِّاٰتِ اَنْ نَّجْعَلَھُمْ کَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ سَوَآءً مَّحْیَاھُمْ وَمَمَاتُھُمْ سَآءَ مَا یَحْکُمُوْنَ}

’’کیا جنہوں نے برائیوں کا ارتکاب کیا، (وہ) یہ سمجھتے ہیں کہ ہم انہیں اُن جیسا کر دیں گے جو ایمان لائے اور اچھے کام کیے، کہ اِن کی (اور) اُن کی زندگی اور موت برابر ہوجائے؟ (ہرگز نہیں) کیا بُرا حکم لگاتے ہیں‘‘۔ (پ25،جاثیہ:21)

 

یعنی جب نیک اور بُرے لوگوں کی زندگی یکساں نہیں تو ان کی موت اور آخرت بھی یکساں نہیں ہو سکتی، عدل کا یہی تقاضا ہے۔ جب دنیا کے کسی چھوٹے سے علاقے کے حاکم سے تم انصاف کی توقع رکھتے ہو اور تم یہ چاہتے ہو کہ وہ مجرموں کو سزا دے اور اچھے کام کرنے والوں کو انعام دے۔ تو تم خود ہی بتاؤ کہ کیا اللّٰہ تعالیٰ سب حاکموں سے بڑا حاکم نہیں ہے؟ یقیناً ہے تو پھر کیا تم اس سے یہ توقع رکھتے ہو کہ وہ عدل وانصاف نہیں کرے گا؟ کیاوہ بُروں اور اچھوں کو ایک جیسا کر دے گا؟ ہرگز نہیں۔

 

وہ خود فرماتا ہے،

{ وَمَا یَسْتَوِی الْاَعْمٰی وَالْبَصِیْرُo وَلَا الظُّلُمٰتُ وَلَا النُّوْرُ o وَلَا الظِّلُّ وَلَا الْحَرُوْرُ o وَمَا یَسْتَوِی الْاَحْیَآءُ وَلَا الْاَمْوَاتُ}

’’اور برابر نہیں اندھا اور آنکھوں والا، اور نہ اندھیریاں اور اجالا، اور نہ سایہ اور تیز دھوپ ، اور برابر نہیں زندے اور مُردے‘‘۔(پ22،فاطر:19-22)

 

اسی طرح سورۃ المجادلہ میں{حِزْبُ الشَّیْطٰن} اور {حِزْبُ اللّٰہ} کا ذکر فرمایا گیا اور ارشاد ہوا،

شیطان کا گروہ نقصان میں ہے اور اللّٰہ کا گروہ کامیاب ہے۔

سورۃ التین کی آخری آیت میں حضور کو تسلی دی گئی کہ اے حبیب! آپ رنجیدہ نہ ہوں، کیا اللّٰہ تعالیٰ سب حاکموں سے بڑا حاکم نہیں؟ یقیناً ہے تو وہ تمہارے اور تمہیں جھٹلانے والوں کے درمیان فیصلہ فرما دے گا اور منکروں کو عذاب دے گا۔

 

آقا و مولیٰ کا ارشاد ہے:

جب اس سورت کی تلاوت کرو اورآخری آیت پڑھو تو کہو،

بَلٰی وَاَنَا عَلٰی ذٰلِکَ مِنَ الشَّاہِدِیْن۔

ہاں ! میں بھی اس پر گواہی دینے والوں میں سے ہوں۔

Share:
keyboard_arrow_up