غرور و تکبر اور نافرمانی و سرکشی کا بہترین علاج یہی ہے کہ بندہ اس آیت کو بار بار تلاوت کرے اور اس پر غور کرے کہ بہر حال ایک دن اسے ضرور اپنے رب کے پاس حاضر ہونا ہے اور اپنے ہر عمل کا حساب دینا ہے۔
یہ تصور اسے راہِ ہدایت سے بھٹکنے اور تکبر و سرکشی سے محفوظ رکھے گا۔
آیت ۹ تا آیت ۱۴: ارشادِ باری تعالیٰ ہے،
’’بھلا دیکھو تو جو منع کرتا ہے بندے کو جب وہ نماز پڑھے۔ بھلا دیکھو تو اگر وہ ہدایت پر ہوتا یا پرہیزگاری بتاتا تو کیا خوب تھا۔ بھلا دیکھو تو اگر جھٹلایا اور منہ پھیرا تو کیا حال ہوگا۔ کیا نہ جانا کہ اللّٰہ دیکھ رہا ہے‘‘۔ (پ30،علق:9-12، )
ان آیات کے شانِ نزول میں مفسرین فرماتے ہیں کہ:
ابوجہل نے اپنے ساتھیوں سے کہا، کیا محمد تمہارے سامنے سجدہ کرتا ہے؟ انہوں نے کہا، ہاں۔ اس نے کہا، لات و عزیٰ کی قسم! اگر میں نے انہیں ایسا کرتے دیکھا تو میں معاذ اللّٰہ ان کی گردن پاؤں سے کچل ڈالوں گا اور ان کا چہرہ خاک آلود کردوں گا۔
پھر وہ اسی فاسد ارادے سے حضور ﷺ کے نماز پڑھتے وقت آیا اور گستاخی کی نیت سے قریب پہنچا۔ پھر اچانک اُلٹے پاؤں واپس بھاگا، دونوں ہاتھ آگے بڑھائے ہوئے جیسے کوئی کسی مصیبت کو روکنے کے لیے ہاتھ آگے بڑھاتا ہے۔اس کے چہرے کا رنگ اُڑ گیا، اعضاء کانپنے لگے۔ لوگوں نے کہا، کیا ہوا؟ کہنے لگا، میں نے دیکھا کہ میرے اور محمد ﷺ کے درمیان ایک خندق ہے۔ جس میں آگ بھری ہوئی ہے اور دہشت ناک پرندے بازو پھیلائے ہوئے ہیں۔ سیدِ عالم ﷺ نے فرمایا، اگر وہ میرے قریب آتا تو فرشتے اس کا ایک ایک عضو جدا کر ڈالتے۔ اس پر یہ آیات نازل ہوئیں۔
ان آیات کی ایک تفسیر یہ ہے کہ ،
’’بڑے تعجب کی بات ہے کہ منع کرنے والا بندے کو نماز سے روکتا ہے جبکہ جسے منع کیا جا رہا ہے وہ ہدایت پر ہے اور تقوی کا حکم دیتا ہے۔ ساتھ ہی ساتھ یہ بھی ہے کہ منع کرنے والا جھٹلانے والا اور ایمان سے منہ پھیرنے والا ہے‘‘۔
دوسری تفسیر یہ ہے کہ:
’’اے حبیب ﷺ! جب تم نماز پڑھتے ہو تو جو منع کرتا ہے کیا وہ سرکش نہیں؟ اگر ابوجہل اپنی سرکشی سے باز آکر ہدایت قبول کرلیتا اور دوسروں کو تقوی کی دعوت دیتا تو کتنا اچھا ہوتا ۔
اے حبیب! اگر ابوجہل تمہیں جھٹلائے اور حق سے منہ پھیرلے تو وہ کیسے نجات پاسکتا ہے۔ کیا وہ نہیں جانتا کہ اللّٰہ تعالیٰ سب کچھ دیکھ رہا ہے‘‘۔
ان آیات سے یہ بھی معلوم ہوا کہ کسی کو عبادت سے روکنا ظلم و سرکشی ہے۔ سورۃ القلم میں ایک کافر کے دس عیب بیان کیے گئے ان میں ایک یہ ہے،
{مَّنَّاعٍ لِّلْخَیْرِ}
یعنی ’’بھلائی سے بڑا روکنے والا ہے‘‘۔
اس میں اُن لوگوں کے لیے نصیحت ہے جو مسلمانوں کو دینی مجالس اور ذکرِ رسول ﷺ کی محافل سے روکتے ہیں۔
ایک اور جگہ ارشاد ہوا:
{وَمَنْ اَظْلَمُ مِمَّنْ مَّنَعَ مَسٰجِدَ اللّٰہِ اَنْ یُّذْکَرَ فِیْھَا اسْمُہٗ}
’’اور اس سے بڑھ کر ظالم کون جو اللّٰہ کی مسجدوں کو روکے اُن میں نامِ خدا لیے جانے سے‘‘۔ (پ1،بقرہ:114)
جو بھی ایسا جرم کرے گا وہ ظالم و سرکش اور ابوجہل کی طرح مجرم قرار پائے گا۔ اگر یہ یقین پختہ ہوجائے کہ ’’اللّٰہ دیکھ رہا ہے‘‘ تو پھر ظلم و سرکشی سے بندہ بچ سکتا ہے۔
آیت ۱۵ تا آیت ۱۹: ارشاد ہوا:
’’ہاں ہاں! اگر باز نہ آیا تو ضرور ہم پیشانی کے بال پکڑ کر کھینچیں گے۔ کیسی پیشانی؟ جھوٹی، خطاکار۔ اب پکارے اپنی مجلس کو، ابھی ہم سپاہیوں کو بلاتے ہیں۔ ہاں ہاں! اس کی نہ سنو، اور سجدہ کرو اور ہم سے قریب ہوجاؤ‘‘۔(پ30،علق:15-19، )

