Anwaar ul Quran

Total Pages: 164

Page 54 of 164

 اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ اس انسان میں تکبر اور غرور پیدا ہو جاتا ہے۔ وہ مال و دولت کی کثرت دیکھ کر دوسروں کو حقیر اور خود کو فرعون و قارون سمجھنے لگتا ہے۔

 

غیب بتانے والے آقا ومولیٰ نے فرمایا:

جس کے دل میں رائی کے برابر بھی تکبر ہو گا وہ جنت میں نہیں جائے گا۔ صحابہ نے عرض کی، یا رسول اللہ ! ہم میں سے ہر کوئی پسند کرتا ہے کہ اس کا لباس اچھا ہو، اس کا جوتا اچھا ہو۔

حضور نے فرمایا:

یہ تکبر نہیں،بلکہ حق کو ٹھکرا دینا اور لوگوں کو حقیر سمجھنا تکبر ہے۔

اس صورتحال میں اسے حق بات سمجھائی جائے تو وہ ٹھکرا دیتا ہے اور خالق ومالک کی بندگی چھوڑ کر نفسانی خواہشات کی بندگی میں لگا رہتا ہے۔ اس طرح وہ اللّٰہ تعالیٰ کی نافرمانی میں حد سے تجاوز کر جاتا ہے۔

 

رب تعالیٰ فرماتا ہے:

’’ہاں ہاں! بیشک آدمی سرکشی کرتا ہے، اس پر کہ اپنے آپ کو غنی سمجھ لیا، بیشک تمہارے رب ہی کی طرف پِھرنا ہے‘‘۔

اے کم عقل! تُو خود کو مجھ سے بے نیاز اور غنی سمجھتا ہے حالانکہ اگر تو غور کرے تو صرف مال و دولت اور آسائشوں کے حصول ہی میں نہیں بلکہ اپنی ہر ہر حرکت اور ہر ہر چیز میں تُو میرا محتاج ہے۔ (سورۃ الواقعہ کی آیات ۵۸تا ۷۲ ملاحظہ فرمائیں)

 

اے ناسمجھ! یہ سرکشی کب تک؟

اگر تو ہزار سال بھی زندہ رہے تو بہرحال تیرا انجام تو موت ہی ہے۔ موت ایک ایسی حقیقت ہے جس کا دنیا میں کوئی بھی منکر نہیں۔ تو جب تم مرو  گے تو تمہیں دوبارہ زندہ کیا جائے گا اور پھر تمہیں اپنے رب کے پاس اپنی سرکشی و نافرمانی اور اپنے ظلم و تکبر کا حساب دینا پڑے گا۔

ارشاد ِ ربانی ہے،

{وَلَا تَحْسَبَنَّ اللّٰہَ غَافِلًا عَمَّا یَعْمَلُ الظّٰلِمُوْنَ اِنَّمَا یُؤَخِّرُھُمْ لِیَوْمٍ تَشْخَصُ فِیْہِ الْاَبْصَارُ} (پ13،ابراہیم:42)

’’اور ہرگز اللّٰہ کو بے خبر نہ جاننا ظالموں کے کام سے، (وہ) انہیں ڈھیل نہیں دے رہا ہے مگر ایسے دن کے لیے جس میں آنکھیں کھلی کی کھلی رہ جائیں گی‘‘۔

رب تعالیٰ تمہارے کرتوتوں سے بے خبر نہیں، بے نیاز ہے۔ وہ کسی نافرمان کو نہ پکڑے تو اس کی شانِ بے نیازی، مگر جب پکڑلے تو کوئی چھڑا نہیں سکتا۔

 

{مَا مِنْ دَآبَّۃٍ اِلَّا ھُوَاٰخِذٌۢبِنَاصِیَتِھَا} 

’’کوئی چلنے والا نہیں جس کی پیشانی اس کے قبضۂ قدرت میں نہ ہو‘‘۔

(پ12،ھود:56)

 

{اِنَّ بَطْشَ رَبِّکَ لَشَدِیْدٌ}

’’بیشک تیرے رب کی گرفت بہت سخت ہے‘‘۔

(پ30،بروج:12)

 

{اِنَّ اِلٰی رَبِّکَ الرُّجْعٰی}

کا ایک مفہوم تویہی ہے کہ مرنے کے بعد بارگاہِ الہٰی میں پیش ہو کر اپنے تمام اعمال کا حساب دینا ہے۔

 

اور دوسرا مفہوم یہ ہے کہ:

اگر تم کسی مصیبت و مشکل میں پھنس جاؤ جس سے نکلنے کی کوئی صورت نہ ہو، یا تم کسی آفت کی وجہ سے مفلس و محتاج ہو جاؤ تو پھر تمہیں اللّٰہ تعالیٰ ہی کی طرف آنا ہوگا اور اسی سے فریاد کرنی ہوگی۔ چونکہ ایسا شخص ناشکرا ہوتا ہے اس لیے جب مصیبت ٹل جائے تو پھر وہ اپنے رب سے غافل ہوجاتا ہے۔

 

ارشاد ہوا:

{وَاِذَا مَسَّ الْاِنْسَانَ الضُّرُّدَعَا نَا لِجَنْۢبِهٖۤ اَوْ قَاعِدًا اَوْ قَآئِمًا فَلَمَّا کَشَفْنَا عَنْہُ ضُرَّہٗ مَرَّکَاَنْ لَّمْ یَدْعُنَآ اِلٰی ضُرٍّمَّسَّہٗ}

’’اور جب آدمی کو تکلیف پہنچتی ہے تو ہمیں پکارتا ہے لیٹے اور بیٹھے اور کھڑے، پھر جب ہم اس کی تکلیف دور کر دیتے ہیں تو چل دیتا ہے گویا کبھی کسی تکلیف کے پہنچنے پر ہمیں پکارا ہی نہ تھا‘‘۔(پ11،یونس:12، )

Share:
keyboard_arrow_up