حضرت عبداللّٰہ بن عباس رضی اللّٰہ عنہما کا ارشاد ہے،
اگر میرے اونٹ کی رسی گم ہو جائے تو میں قرآن کریم کے ذریعے اسے تلاش کر لوں گا۔ علوم و معارف کی ایسی جامع کتاب رب تعالیٰ نے اپنے حبیب ﷺ کو سکھائی۔
ارشادِ باری تعالیٰ ہے،
{ اَلرَّحْمٰنُ o عَلَّمَ الْقُرْاٰنَ }
’’رحمان نے اپنے محبوب کو قرآن سکھایا‘‘۔ (پ27،رحمن:1-2)
اور اِس شان سے سکھایا کہ:
{ سَنُقْرِئُکَ فَلاَ تَنْسٰٓی}
’’اب ہم تمہیں پڑھائیں گے کہ تم نہ بھولو گے‘‘۔ (پ30،الاعلی:6)
جب استاد کامل و اکمل ہے، شاگرد کامل و اکمل ہے اور پڑھائی جانے والی کتاب بھی کامل و اکمل ہے تو پھر یقینا مصطفیٰ کریم ﷺ کا مقدس سینہ تمام علوم و معارف کا گنجینہ ہے۔
باَلفاظِ دیگر جب تمام الہامی علوم اور ساری گذشتہ و آئندہ باتوں کاعلم قرآن کریم میں ہے اور قرآنِ کریم سینۂ مصطفیٰ ﷺ میں ہے، تو پھر تمام علوم سینۂ مصطفیٰ ﷺ میں کیوں نہیں؟
ارشادِ باری تعالیٰ ہوا:
{ عٰلِمُ الْغَیْبِ فَلاَ یُظْہِرُ عَلٰی غَیْبِہٖٓ اَحَدًاo اِلَّا مَنِ ارْتَضٰی مِنْ رَّسُوْلٍ}
’’غیب کا جاننے والا اللّٰہ ہے، تو اپنے غیب پر کسی کو مسلط نہیں کرتا سوائے اپنے پسندیدہ رسولوں کے‘‘۔ (پ27،جن:26-27)
’’سیدُ الرسل خاتم الانبیاء حضرت محمد مصطفی ﷺ مرتضیٰ رسولوں میں سب سے اعلیٰ ہیں۔ اللّٰہ تعالیٰ نے آپ کو تمام اشیاء کے علوم عطا فرمائے جیسا کہ صحاح کی معتبر احادیث سے ثابت ہے اور یہ آیت حضور ﷺ کے اور تمام مرتضیٰ رسولوں کے لیے غیب کا علم ثابت کرتی ہے‘‘۔
حضرت عمر فرماتے ہیں کہ:
ایک دن رسول کریم ﷺ ہمارے درمیان تشریف لائے اور آپ نے ابتدائے تخلیق سے خبریں بیان کرنا شروع کیں یہاں تک کہ جنتیوں کے جنت میں جانے اور جہنمیوں کے جہنم میں جانے تک کے تمام حالات و واقعات بیان فرما دیے۔ جس نے یاد رکھا، یاد رکھا اور جس نے بھلا دیا، بھلا دیا۔
اوَّلُ الذکر حدیث کے اس حصے پر غور کیجیے کہ:
حضرت جبریل علیہ سلام نے حضور ﷺ کو تین بار اپنے سینے سے لگا کر اس قدر دبایا کہ حضورِ اکرم ﷺ کو مشقت محسوس ہوئی۔ یہ دبانا یقینا رب تعالیٰ کے حکم سے تھا۔ اس کی ایک حکمت یہ سمجھ میں آتی ہے کہ اس طرح نبی کریم ﷺ کو ملکوتی صفات کے ساتھ ایک خاص مناسبت حاصل ہو جائے اور آپ ﷺ کے لیے وحی کا برداشت کرنا آسان ہو جائے۔
آیت ۶ تا آیت ۸: ارشاد ہوا:
’’ہاں ہاں! بیشک آدمی سرکشی کرتا ہے، اس پر کہ اپنے آپ کو غنی سمجھ لیا، بیشک تمہارے رب ہی کی طرف پِھرنا ہے‘‘۔(پ30،علق:6-8 )
سورۃ العلق کی آیت ۶ سے آخر تک تمام آیات ابوجہل کے رَد میں نازل ہوئیں مگر ان سے وہ تمام انسان مراد ہو سکتے ہیں جن میں مذکورہ علامات پائی جائیں۔ سابقہ آیات میں بتایا گیا تھا کہ اللّٰہ تعالیٰ نے انسان کو ان باتوں کا علم دیا جنہیں وہ نہیں جانتا تھا۔ اس علم کا تقاضا تو یہ تھا کہ انسان عقل و فہم سے کام لے اور ہدایت کے راستے پر چلے، لیکن انسان مال و دولت اور آسائشوں کی وجہ سے سرکش ہوجاتا ہے اور وہ خودکو اپنے رب سے بے نیاز اور مستغنی سمجھ لیتا ہے۔ دراصل وہ یہ حقیقت بھول جاتا ہے کہ اسے مرنے کے بعد اپنے رب ہی کے پاس جانا ہے۔ یہاں انسان سے مراد وہ شخص ہے جو کفر اور تکبر میں حد سے گزرگیا۔
قرآن حکیم میں کئی جگہ اس بات کا ذکر ہے کہ جب انسان خوشحال ہو جاتا ہے اور اسے مال و دولت اور دیگر نعمتیں حاصل ہوتی ہیں تو وہ اُس خوشحالی کو اپنی تدبیر و ذہانت اور علوم و فنون میں مہارت کا نتیجہ سمجھ لیتا ہے۔اور کہتا ہے،
{ اِنَّمَآ اُوْتِیْتُہٗ عَلٰی عِلْمٍ عِنْدِیْ} (پ20،قصص:78)
’’یہ تو مجھے ایک علم سے ملا ہے جو میرے پاس ہے‘‘۔

