تعلیم کا تیسرا طریقہ:
اللّٰہ تعالیٰ کی طرف سے انبیاء کرام اور اولیائے کاملین کے لیے مخصوص ہے۔ اس طریقۂ تعلیم میں کوئی انسان معلم نہیں ہوتا بلکہ رب تعالیٰ خود علمِ لدُنی تعلیم فرماتا ہے۔ اس میں وحی انبیاء کرام کے لیے مخصوص ہے جبکہ الہام ،سچے خواب اور فراست وغیرہ سے خاص اولیاء کرام کو رحمتِ عالم ﷺ کے وسیلے سے فیض ملتا ہے۔
حضرت خضر علیہ سلام کے متعلق ارشاد ہوا:
{ وَعَلَّمْنٰہُ مِنْ لَّدُنَّا عِلْمًا}
’’اور اُسے اپنا علمِ لدُنی عطا کیا‘‘۔ (پ15،کہف:65)
آیتِ مذکورہ {عَلَّمَ الْاِنْسَانَ} میں انسان سے مراد،ایک قول کے مطابق ہر انسان ہوسکتا ہے، کیونکہ رب تعالیٰ کا ارشاد ہے،
{وَاللّٰہُ اَخْرَجَکُمْ مِّنْۢ بُطُوْنِ اُمَّھٰتِکُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ شَیْئًا وَّجَعَلَ لَکُمُ السَّمْعَ وَالْاَبْصَارَ وَالْاَفْئِدَۃَ لَعَلَّکُمْ تَشْکُرُوْنَ} (پ14،نحل:78)
’’اور اللّٰہ نے تمہیں تمہاری ماؤں کے پیٹ سے پیدا کیا کہ کچھ نہ جانتے تھے، اور تمہیں کان اور آنکھ اور دل دیے کہ( علم سیکھو اور ) تم احسان مانو‘‘۔
دوسرا قول یہ ہے کہ:
انسان سے مراد حضرت آدم علیہ سلام ہیں کیونکہ اللّٰہ تعالیٰ نے انہیں علم ُالاسماء(ناموں کا علم) سکھایا۔( پ1،بقرہ:31)
تیسرا قول یہ ہے کہ:
انسان سے مراد ہمارے آقا و مولیٰ سیدنا محمد مصطفی ﷺ ہیں کیونکہ آپ کے متعلق اللّٰہ تعالیٰ نے فرمایا ہے،
{وَاَنْزَلَ اللّٰہُ عَلَیْکَ الْکِتٰبَ وَالْحِکْمَۃَ وَعَلَّمَکَ مَا لَمْ تَکُنْ تَعْلَمُ وَکَانَ فَضْلُ اللّٰہِ عَلَیْکَ عَظِیْمًا} (پ5،نساء:113)
’’اور اللّٰہ نے تم پر کتاب اور حکمت اُتاری، اور تمہیں (وہ سب کچھ) سکھا دیا جو کچھ تم نہ جانتے تھے، اور اللّٰہ کا تم پر بڑا فضل ہے‘‘۔ (تفسیر قرطبی)
یہ بات قابلِ غور ہے کہ سورۃ العلق کی آیت ۵ میں عَلَّمَ کو قلم کے ساتھ مقید نہیں کیا گیا حالانکہ اس سے قبل آیت ۴ میں قلم کے ذریعے علم سکھانا مذکور ہے۔ اور قلم سے دیا ہوا تمام علم لوحِ محفوظ میں لکھا ہوا ہے۔
اب آیت ۵ کا مفہوم یہ ہوا کہ انسان کو وہ علم بھی عطا ہوا جو قلم کے ذریعے ملتا ہے اور وہ بھی جو قلم کے علاوہ ہے۔
قرآن مجید میں ہے کہ کوئی چھوٹی بڑی، خشک و تر چیز ایسی نہیں جو لوحِ محفوظ میں تحریر نہ ہو۔
{وَلَا رَطْبٍ وَّ لَایَابِسٍ اِلَّا فِیْ کِتٰبٍ مُّبِیْنٍ}( پ7،انعام:59)
جب اللّٰہ تعالیٰ نے فرمایا:
{وَعَلَّمَ اٰدَمَ الْاَسْمَآءَ کُلَّھَا}
اللّٰہ نے آدم کو تمام نام سکھائے اورپھر فرشتوں سے وہ نام پوچھے تو وہ بتا نہ سکے۔اگر آدم کا علم وہی تھا جو لوحِ محفوظ میں لکھا ہے تو پھر فرشتے جواب کیوں نہ دے سکے۔
معلوم ہوا کہ آدم علیہ السلام کو دیا ہوا علم لوحِ محفوظ میں تحریر علم سے زیادہ ہے۔
بقول امام شرف الدین بوصیری رحمہ اللّٰہ،
فَاِنَّ مِنْ جُوْدِکَ الدُّنْیَا وَضَرَّتَہَاوَمِنْ عُلُوْمِکَ عِلْمَ اللَّوْحِ وَالْقَلَمِ ’’یارسول اللّٰہ!
دنیا اور آخرت آپ کی سخاوت کا ایک حصہ ہیں،اور لوح وقلم کا علم آپ کے علوم کا ایک حصہ ہے‘‘۔ (قصیدہ بُردہ شریف)
دنیا اور آخرت کی کوئی چیز ایسی نہیں جس کا ذکر قرآن میں نہ ہو۔
ارشاد ہوا:
{ وَنَزَّلْنَا عَلَیْکَ الْکِتٰبَ تِبْیَانًا لِّکُلِّ شَیْئٍ } (پ14،نحل:89)
’’اور ہم نے تم پر یہ قرآن اتارا کہ ہر چیز کا روشن بیان ہے‘‘۔
یعنی تمام علوم اور مَاکَانَ وَمَا یَکُوْن یعنی جو کچھ ہو چکا اورجو کچھ آئندہ ہوگا، سب کا اِس میں بیان ہے اور جمیع اشیاء کا اس میں علم ہے۔

