Anwaar ul Quran

Total Pages: 164

Page 51 of 164

ایک دن رسول کریم مسجد میں تشریف لائے تو دیکھا کہ وہاں صحابہ کرام دو گروہوں کی صورت میں بیٹھے ہیں۔ آپ نے فرمایا:

دونوں مجلسیں اچھی ہیں اور ایک دوسری سے افضل ہے۔ یہ لوگ اللّٰہ تعالیٰ سے دعا کرتے ہیں اور اس کی طرف رغبت کرتے ہیں، وہ چاہے تو ان کو دے اور چاہے تو منع فرما دے۔

اور یہ دوسری مجلس والے علم سیکھتے ہیں اور دوسروں کو سکھاتے ہیں، یہ افضل ہیں۔اور میں بھی معلم بنا کر بھیجا گیا ہوں۔

یہ فرما کر حضور اس مجلس میں تشریف فرما ہو گئے۔

حضرت علی فرماتے ہیں:

’’اللّٰہ تعالیٰ کا بڑا کرم ہے کہ اس نے اپنے بندوں کو ان چیزوں کا علم دیا جن کو وہ نہ جانتے تھے۔ اور ان کو جہالت کے اندھیروں سے علم کی روشنی کی طرف نکالا اور علمِ کتابت کی ترغیب دی۔

اس میں بیشمار فائدے ہیں جن کا اللّٰہ تعالیٰ کے سوا کوئی احاطہ نہیں کر سکتا۔ تمام علوم و احکام کی تدوین، اولین و آخرین کی تاریخ اور اللّٰہ تعالیٰ کی نازل کی ہوئی کتابیں سب قلم ہی کے ذریعے لکھی گئیں۔ اگر قلم نہ ہو تو دنیا کے تمام کام معطل ہو جائیں‘‘۔

قلم اللّٰہ تعالیٰ کی عظیم نعمت ہے۔باری تعالیٰ نے {وَالْقَلَمِ وَمَا یَسْطُرُوْنَ} فرما کر قلم اور اس کی تحریروں کی قسم ارشاد فرمائی تاکہ مسلمان علم کے حصول سے اور قلم کی طاقت سے غافل نہ رہیں اور اپنے سینوں کو علم و حکمت سے لبریز کرنے کی مبارک سعی سے تھک نہ جائیں۔

مبارک ہیں وہ ہستیاں جنہوں نے اپنے اقلام سے قرآن کریم اور اس کی تفاسیر لکھیں، احادیثِ رسول ا اور آثارِ صحابہ محفوظ کیے، فقہاء کے اقوال اور فتاویٰ تحریر کیے اور اپنی تحریروں کے ذریعے محبت و عظمتِ مصطفی ﷺ کا نور تقسیم کیا۔ یہی وہ نفوسِ قدسیہ ہیں جنہوں نے اپنے قلم کی سیاہی سے دینِ حق کو روشن کردیا۔

سورۃ العلق کی دوسری آیت میں انسان کی ادنیٰ حالت بیان ہوئی اور پھر شانِ کریمی کے ذکر کے بعد آخری حالت علم والی بیان فرمائی۔

گویا رب تعالیٰ نے فرمایا:

میں  نے انسان کو ادنیٰ سے اعلیٰ مرتبہ تک پہنچایا۔ تخلیق کرنا، زندگی دینا، قدرت و رزق دینا کرم اور ربوبیت ہے لیکن ’’اکرم ‘‘وہ ذات ہے جس نے تمہیں علم عطا کیا کیونکہ علم انتہائی افضل و اشرف صفت ہے۔

اس آیت سے علم اور قلم دونوں کی فضیلت ثابت ہوتی ہے۔لوگوں کو قلم جیسی بے جان چیز سے علم کی دولت سے مالا مال کردینا بلاشبہ رب تعالیٰ کی شانِ کرم ہی کا جلوہ ہے۔ ہاں! جس قادرِ مطلق نے انسانوں کو قلم اور معلمین کے ذریعے علم عطا کیا ہے، اُس کے لیے کیا مشکل ہے کہ اپنے حبیب کو قلم اور معلم کے بغیر علوم و معارف کا سرچشمہ اور منبع بنا دے۔

 

پس اس آیت کامفہوم یہ ہوا کہ:

’’ اللّٰہ تعالیٰ نے ہر پڑھنے والے کو قلم کے ذریعے علم سکھایا، مگر اے حبیب! آپ کا رب آپ کو قلم کی تحریر کے بغیر ہی علم کا سمندر بنادے گا۔ اور اس کی یہ عطا اُس کا بہت بڑا کرم ہے‘‘۔

عَلَّمَ الْاِنْسَانَ مَا لَمْ یَعْلَمْ:

قلم کے ذریعے علم سکھانے کا ذکر کرنے کے بعد فرمایا،

’’ آدمی کو سکھایا جو نہ جانتا تھا‘‘۔

یعنی انسان کو قلم کے ذریعے بھی اور قلم کے بغیر بھی جو کچھ سکھایا ہے وہ اللّٰہ تعالیٰ ہی نے سکھایا ہے۔ تعلیم کا ایک طریقہ یہ ہے کہ کسی درسگاہ میں معلم و کتاب کے ذریعے سیکھا جائے۔ اس طریقۂ تعلیم میں قلم کی بڑی اہمیت ہے جو مذکور ہوئی۔

تعلیم کا دوسرا طریقہ یہ ہے کہ:

انسان ظاہری و باطنی حواس اور عقل و خرد کے ذریعے کسی قلم یا معلم کے بغیر فکر و نظر سے علم حاصل کرے۔ یہ صلاحیتیں رب تعالیٰ کی طرف سے سب کو عطا ہوتی ہیں۔

ارشاد ہوا:

’’پھر اس (انسان) کی بدکاری اور اس کی پرہیزگاری اس کے دل میں ڈالی‘‘۔ (پ30،شمس:8)

Share:
keyboard_arrow_up