Anwaar ul Quran

Total Pages: 164

Page 50 of 164

ہر مخلوق کو زندگی کی بقا کے لیے جو جو چیزیں درکار ہیں، رب کریم نے ہر ہر چیز اسی مخلوق کی ضرورت کے اعتبار سے مہیا فرما دی ہے۔ ہوا، فضا، پانی، مٹی، کھیت، صحرا، بادل، پہاڑ، چشمے، دریا،  سورج، چاند، روشنی، حرارت، غرض یہ کہ کائنات میں جس طرف نگاہ ڈالیے، رب کریم کی شانِ ربوبیت کے جلوے نظر آرہے ہیں۔

ارشاد ہوا:

{وَفِی الْاَرْضِ اٰیٰتٌ لِّلْمُوْقِنِیْنَo وَفِیْ اَنْفُسِکُمْ اَفَلَا تُبْصِرُوْنَ}

’’اور زمین میں نشانیاں ہیں یقین والوں کو۔ اور خود تم میں، تو کیا تمہیں سوجھتا نہیں‘‘۔ (پ27،ذاریات:20-21)

 

یعنی زمین و آسمان میں، تمہاری پیدائش اور تمہارے ظاہر و باطن میں اللّٰہ تعالیٰ کی قدرت کے ایسے بیشمار عجائب و غرائب ہیں جن سے اُس کی شان معلوم ہوتی ہے۔

درحقیقت اللّٰہ تعالیٰ ہی کریم ہے۔ اس کی ذات و صفات میں کوئی شریک نہیں۔ کریم، رحیم، سمیع، بصیر یا اس جیسی دوسری صفات کا جب اللّٰہ تعالیٰ کے علاوہ کسی اور پر اطلاق کیا جائے تو وہ بطور مجاز ہوتا ہے کیونکہ دوسرا شخص تو صرف اللّٰہ تعالیٰ کی صفت کرم اور رحمت وغیرہ کا مظہر یا آئینہ ہوتاہے۔

توحید و شرک کے متعلق تفصیلی گفتگو اِنْ شا ء اللّٰہ سورۃ الاخلاص کے تحت تحریر ہوگی۔

الَّذِیْ عَلَّمَ بِالْقَلَمِ:

اس سورت کے آغاز میں رب کریم نے دوبار پڑھنے کا حکم ارشاد فرما کر مسلمانوں کو علم و دانش کی درسگاہ کا طالبِ علم بننے اور جہالت کے اندھیروں سے نکل کر علم کی روشنی کی طرف آنے کا حکم دیا ہے۔ قرآن حکیم علم کی برتری کا علمبردار ہے اور علم مومن کا ہتھیار ہے۔ علم کے بغیر دنیا میں کوئی کمال حاصل نہیں ہوتا۔ اگر اللّٰہ تعالیٰ کے نزدیک کوئی شے علم سے بہتر ہوتی تو ملائکہ کے مقابلے میں حضرت آدم علیہ سلام  کو دی جاتی، جب فرشتوں کی تسبیح و عبادت حضرت آدم علیہ سلام  کے علمِ اَسماء کے برابر نہ ٹھہری تو علمِ دین کا کس قدر اعلیٰ مقام ہوگا!!

ارشادِ باری تعالیٰ ہے،

{وَ عَلَّمَ اٰدَمَ الْاَسْمَآءَ كُلَّهَا ثُمَّ عَرَضَهُمْ عَلَى الْمَلٰٓىٕكَةِۙ-فَقَالَ اَنْۢبِـُٔوْنِیْ بِاَسْمَآءِ هٰۤؤُلَآءِ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ}

’’اور اللّٰہ تعالیٰ نے آدم کو تمام (اشیاء کے)نام سکھائے پھر سب (اشیاء) کو ملائکہ پر پیش کر کے فرمایا، سچے ہو تو ان کے نام تو بتاؤ‘‘۔(پ1،بقرہ:31)

 

قرآن کریم میں یہ بھی فرمایا گیا کہ جاہل اور عالم ہرگز برابر نہیں ہیں۔

ارشاد ہوا:

 

{ قُلْ ھَلْ یَسْتَوِی الَّذِیْنَ یَعْلَمُوْنَ وَالَّذِیْنَ لَا یَعْلَمُوْنَ اِنَّمَا یَتَذَکَّرُ اُولُوا الْاَلْبَاب}

’’تم فرماؤکیا برابر ہیں جاننے والے اور انجان، نصیحت تو وہی مانتے ہیں جو عقل والے ہیں‘‘۔(پ23،زمر:9)

 

مزید فرمایا،

{یَرْفَعِ اللّٰہُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مِنْکُمْ وَالَّذِیْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ دَرَجٰت}

’’اللّٰہ تمہارے ایمان والوں کے اور اُن کے جن کو علم دیا گیا، درجے بلند فرمائے گا‘‘۔ (پ28،مجادلہ:11)

 

علم کی اہمیت ہی کی بناء پر سرکارِ دو عالم،رحمتِ عالم نے فرمایا:

’’علمِ دین سیکھنا ہر مسلمان مرد و عورت پر فرض ہے‘‘۔

معلوم ہوا کہ دینی علم کا سیکھنا سکھانا، نوافل پڑھنے اور دیگر نفل عبادات سے افضل ہے کیونکہ نوافل اور تسبیحات تو نفل ہیں مگر علمِ دین سیکھنا فرض ہے۔

حضرت عبداللّٰہ بن عباس رضی اللّٰہ عنہما نے فرمایا:

ایک لمحہ رات میں علمِ دین پڑھنا پڑھانا ساری رات عبادت سے افضل ہے۔

Share:
keyboard_arrow_up