اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ اجزاء کے اعتبار سے انسان کامل ترین مخلوق ہے کیونکہ جو چیز عالَمِ کبیر میں ہے وہ انسان میں موجود ہے۔ اسی لیے انسان کو عالَمِ صغیر بھی کہا جاتا ہے۔
انسان کی تخلیق کا ذکر گویا یہ ارشاد فرماناہے کہ:
اللّٰہ تعالیٰ نے عالَمِ خَلق اور عالَمِ اَمر کی تمام مخلوق کو پیدا کیا۔
دوسری وجہ یہ ہے کہ:
انسان اشرف المخلوقات ہے اور اس میں رب تعالیٰ کی تجلیات کو اخذ کرنے کی استعداد موجود ہے، اس لیے یہ معرفت کا مستحق ہے اور معرفتِ الہٰی ہی کائنات کی تخلیق کامقصود ہے۔
فرمانِ الہٰی ہے:
{وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْاِنْسَ اِلَّا لِیَعْبُدُوْنِ}
’’اور میں نے جن اور آدمی اتنے ہی (اسی لیے) بنائے کہ میری بندگی کریں‘‘۔(پ27،ذاریات:56)
اس آیت میں لِیَعْبُدُوْنِ کا معنی ہے، لِیَعْرِفُوْنِ۔کہ وہ مجھے پہچانیں۔
حدیثِ قدسی ہے،
لَوْلَاکَ لَمَا خَلَقْتُ الْاَفْلَاکَ وَلَمَا اَظْہَرْتُ الرَّبُوْبِیَّۃَ۔
یعنی ’’اے حبیب! اگر تمہیں پیدا نہ کرتا تو کائنات پیدا نہ کرتا اور نہ ہی اپنا رب ہونا ظاہر کرتا‘‘۔
دوسری حدیثِ قدسی میں رب تعالیٰ کا ارشاد ہے:
کُنْتُ کَنْزاً مَخْفِیّاً فَاَحْبَبْتُ اَنْ اُعْرَفَ فَخَلَقْتُ الْخَلْقَ۔
’’میں مخفی خزانہ تھا، میں نے چاہا کہ میں پہچانا جاؤں تو میں نے مخلوق کو پیدا کیا‘‘۔
یہاں مخلوق سے مراد انسان ہے اور اس کی عظمت و شرافت کا اظہارمقصود ہے۔ یہ احتمال بھی موجود ہے کہ اس آیت میں ’الانسان‘ سے مراد حضورِ اکرم ﷺ کی ذات ہو۔ آپ کا ذکر اس لیے فرمایا تاکہ آپ کے خصوصی فضل و شرف کا اظہار ہو۔
اور دوسری وجہ یہ ہے کہ ان آیات میں آپ ﷺ ہی مخاطب ہیں۔
مِنْ عَلَقٍ:
’’عَلَق ‘‘ کا معنی ہے ’’جما ہوا خون‘‘۔ یہ تخلیقِ انسانی کا درمیانی مرحلہ ہے اور درمیانی مرحلہ کا ذکر ہوناسب مراحل کی طرف اشارہ ہے۔ سب سے پہلے انسان کی غذا سے خون بنتا ہے پھر خون سے مادّۂ تولید بنتا ہے پھر اس سے رحم میں نُطفہ قرار پاتا ہے۔ پھر چالیس دن بعد نطفہ، عَلَقہ یعنی جما ہوا خون بنتا ہے، پھر چالیس دن گزرنے کے بعد گوشت کی شکل اختیار کرتا ہے، پھر چالیس دن بعد اس میں روح پھونکی جاتی ہے، اور پھر مخصوص مدت گزار کر انسان پیدا ہوتا ہے۔
ارشاد ہوا:
{ثُمَّ خَلَقْنَا النُّطْفَۃَ عَلَقَۃً فَخَلَقْنَا الْعَلَقَۃَ مُضْغَۃً فَخَلْقَنَا الْمُضْغَۃَ عِظٰمًا فَکَسَوْنَا الْعِظٰمَ لَحْمًا ثُمَّ اَنْشَاْنٰہُ خَلْقًا اٰخَرَ فَتَبٰرَکَ اللّٰہُ اَحْسَنُ الْخٰلِقِیْنَ}
’’پھر ہم نے اس پانی کی بوند کو خون کی پھٹک کیا، پھر خون کی پھٹک کو گوشت کی بوٹی، پھر گوشت کی بوٹی کو ہڈیاں، پھر ان ہڈیوں پر گوشت پہنایا، پھر اسے اور صورت میں اُٹھان دی، تو بڑی برکت والا ہے اللّٰہ سب سے بہتر بنانے والا‘‘۔ (پ18،مومنون:14)
اِقْرَاْ وَرَبُّکَ الْاَکْرَمُ:
اس آیت میں دوسری بار پڑھنے کا حکم تاکید کے لیے ہے۔ یا پہلے ’’اِقرأ‘ ‘سے مراد ہے ’’ اپنے لیے پڑھو‘‘۔ اور دوسرے ’’اِقرأ‘‘ سے مراد ہے،’’ دوسروں کو تبلیغ و تعلیم کے لیے پڑھو‘‘۔ ’’الْاَکْرَمُ‘‘ یا تو رَبُّکَ کی صفت ہے یا اس کی خبر ہے۔
اکرم میں کریم سے زیادہ مبالغہ ہے۔ اکرم اُسے کہتے ہیں جو ہر کریم سے بڑھ کر ہو کیونکہ ’’اکرم‘‘بغیر کسی غرض کے احسان فرماتا ہے اور اس قدر زیادہ احسانات کرتا ہے کہ اس کے احسانات کو مقدار اور کیفیت کے اعتبار سے شمار نہیں کیا جا سکتا۔

