’’بِاسْمِ رَبِّکَ‘‘ فرمانے کا ایک مفہوم یہ ہے کہ
اپنے رب کے نام کی مدد سے قرآن پڑھو۔ یعنی دین و دنیا کے تمام کاموں میں اللّٰہ تعالیٰ کے نام کو سہارا بناؤ۔
اور دوسرا مفہوم یہ ہے کہ:
اس عمل کو محض اپنے رب کے لیے کرو۔ گویا جب عبادت اللّٰہ تعالیٰ کے لیے ہو گی تو اس میں شیطان تصرف نہ کر سکے گا۔
آج تعلیم تو عام ہو رہی ہے مگر انسانیت زوال پذیر ہے۔ سبب یہ ہے کہ علم کا حصول محض رزق حاصل کرنے کے لیے یا کسی اور دنیاوی مفاد کی غرض سے ہے۔ جب اللّٰہ تعالیٰ کی یاد حصولِ علم کا جزو بن جائے اور ہر لمحہ بندہ یہ تصور رکھے کہ اس کا رب اسے دیکھ رہا ہے، تو یقیناً کردار میں پاکیزگی اور سیرت میں حسن پیدا ہوگا۔
شانِ ربوبیت کا تقاضا ہے کہ مخلوق کو کم درجہ سے اعلیٰ درجہ تک لے جایا جائے۔ یہاں لفظ ’’رب‘‘ سے اس طرف اشارہ ہے کہ آپ کا رب آپ کی مکمل تربیت فرمائے گا اور آپ کو نبوت و رسالت کے اعلیٰ درجات تک پہنچائے گا۔
جب جبریل علیہ سلام نے کہا، اپنے رب کے نام سے پڑھیے۔ تو نبی کریم ﷺ نے یہ نہ دریافت فرمایا کہ رب کون ہے۔ اس سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ آقا و مولیٰ ﷺ کو پہلے ہی اپنے رب کی معرفت حاصل تھی ورنہ آپ ضرور دریافت فرماتے۔
پھر قابلِ توجہ بات یہ ہے کہ پہلی آیت میں ہی ربوبیت کی اضافت و نسبت اپنے محبوب کی طرف فرمائی، یہ حضور ﷺ کی شانِ محبوبیت پر روشن دلیل ہے۔ اس سورت میں تین بار صفت ربوبیت کا ذکر آیا ہے اور ہر جگہ ’’ربك‘‘ ارشاد ہوا ہے۔
ضمناً عرض کر دوں کہ سورۃ النساء آیت ۶۵ میں ’’وَرَبِّکَ‘‘ ارشاد ہوا ہے جس کے معنی ہیں،
’’اے محبوب! تمہارے رب کی قسم‘‘۔ یعنی اللّٰہ تعالیٰ نے اپنی قسم ارشاد فرمائی مگر اپنا نام نہ ذکر فرمایا بلکہ محبوب کی طرف نسبت فرمائی۔ کیا وجد آفریں کلام ہے اور کیا محبت بھرا انداز ہے۔ اس کلام کا کیف و سُرور اور لطف و لذت وہی محسوس کر سکتے ہیں جن کے دل میں عشقِ حقیقی کی شمع فروزاں ہو۔
یہاں بھی وہی انداز ہے۔ اس اندازِ تخاطب کی ایک حکمت یہ ہے کہ لوگوں کو معلوم ہو جائے کہ’’ رب تعالیٰ کو مانو اور مصطفی ﷺ کے وسیلے سے مانو‘‘۔
اسی لیے بارگاہِ رسالت میں عاشقِ صادق امام احمد رضا محدث بریلوی رحمہ اللّٰہ عرض کرتے ہیں،
وہی رب ہے جس نے تجھ کو ہمہ تن کرم بنایا
امام رازی رحمہ اللّٰہ فرماتے ہیں:
گویا اللّٰہ تعالیٰ نے فرمایا: ’’ اے حبیب! تو میرے لیے ہے اور میں تیرے لیے ہوں‘‘۔
اس کی تائید اس آیت کریمہ سے بھی ہوتی ہے،
{ مَنْ یُّطِعِ الرَّسُوْلَ فَقَدْ اَطَاعَ اللّٰہَ }
’’جس نے رسول کا حکم مانا بے شک اس نے اللّٰہ کا حکم مانا‘‘۔(پ5،نساء:80)
ہم یوں بھی کہہ سکتے ہیں، اللّٰہ تعالیٰ کا اپنی ذاتِ اقدس کی اضافت اپنے بندے کی طرف کرنا اس سے احسن ہے کہ بندے کی نسبت اس کی طرف ہو۔
حضور ﷺ کی محبوبیت پر امام رازی رحمہ اللّٰہ نے جس آیت کو دلیل بنایا ہے اس طرح کی کئی آیات سورۃ الضحیٰ کی تفسیر میں ایک جگہ جمع کر دی گئی ہیں۔
اس آیت میں اللّٰہ تعالیٰ جلَّ جلالہ ٗنے اپنی ذات کو دیگر ذوات سے ممتاز کرنے کے لیے صفتِ خالقیت ذکر فرمائی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اس صفت میں کسی اور کی شرکت محال ہے۔ اسی سے علماء نے استدلال کیا کہ اللّٰہ تعالیٰ کے سوا کوئی خالق نہیں، یہ اس کی صفتِ خاص ہے۔
خَلَقَ الْاِنْسَانَ:
پہلی آیت میں’’خَلَقَ‘‘ مطلقاً فرمایا گیا یعنی ارشاد ہوا:
’’پیدا کیا‘‘۔
یہ نہیں فرمایا کہ کیا پیدا کیا۔ اس لیے معنی یہ ہوئے کہ ساری مخلوق کو پیدا کیا۔
دوسری آیت میں بطورِ مخلوق انسان کا ذکر کیا گیا۔

