’’ اے جابر! اللّٰہ تعالیٰ نے سب سے پہلے تیرے نبی کے نور کو اپنے نور (کے فیض)سے پیدا فرمایا۔ پھر وہ نور جہاں خدا نے چاہا سیر کرتا رہا۔ اُس وقت نہ لوح تھی نہ قلم نہ جنت نہ دوزخ نہ فرشتے نہ آسمان نہ زمین نہ سورج نہ چاند نہ جن نہ انسان۔
امام سیوطی رحمہ اللّٰہ ،امام سبکی رحمہ اللّٰہ کا مزید کلام نقل کرتے ہیں،
’’پس نبی کریم ﷺ کی وہ حقیقت (یعنی نورِ محمدی) جو آدم علیہ سلام کی تخلیق سے پہلے موجود تھی، اللّٰہ تعالیٰ نے اسے وصفِ نبوت عطا فرمایا اور اُسے اُسی وقت فیض عطا فرمایا تو آپ نبی ہوگئے۔ باری تعالیٰ نے آپ کا نام عرش پر لکھ دیا پھر ملائکہ اور دیگر مخلوق کو اس پر آگاہ فرما دیا تاکہ سب آپ کے عظیم مرتبہ کو پہچان لیں‘‘۔
مذکورہ حدیث کے متعلق امام شعرانی رحمہ اللّٰہ فرماتے ہیں:
حضور ﷺ کو تمام انبیاء سے پہلے نبوت دی گئی۔ اور نبوت اُسی وقت ثابت اور متحقق ہوتی ہے جب اللّٰہ تعالیٰ کی طرف سے مقدر کی ہوئی شریعت کی معرفت حاصل ہوجائے۔ (الیواقیت والجواہر)
حضرت ابوہریرہ سے مروی ایک اور حدیث پاک میں ارشاد ہے:
کُنْتُ اَوَّلَ النَّبِیِّیْنَ فِی الْخَلْقِ وَاٰخِرَہُمْ فِی الْبَعْثِ۔
’’میں تخلیق میں سب نبیوں سے پہلا ہوں اور بعثت کے لحاظ سے آخری ہوں‘‘۔
خاتم الانبیاء ﷺکو نبوت بلکہ ختمِ نبوت کا مرتبہ آدم علیہ سلام کی پیدائش سے قبل مل چکا تھا اگر چہ اس منصب و مرتبہ کا ظہور عمر مبارک کے چالیسویں سال میں ہوا۔
بقول شخصے:
’’یہ تأخر مرتبۂ ظہور میں ہے، مرتبۂ ثبوت میں نہیں‘‘۔(نشرُ الطیب)
ان تمام دلائل و براہین سے ثابت ہوگیا کہ ہر نبی پیدائشی نبی ہوتاہے البتہ وہ نبوت کا اعلان حکمِ الہٰی کے مطابق کرتا ہے۔
نیز ہمارے آقا و مولیٰ حبیبِ کبریاء ﷺ سب انبیاء سے قبل منصبِ نبوت پر فائز ہوئے اور سب سے آخر میں مبعوث ہوئے۔
اِقْرَاْ بِاسْمِ رَبِّکَ الَّذِیْ خَلَقَ:
رحمتِ عالم نورِ مجسم ﷺ غارِ حرا میں مصروفِ عبادت تھے کہ فرشتے نے آکر عرض کی، پڑھیے۔ تو آپ ﷺ نے انکار فرمایا۔ ایسا تین بار ہوا۔
دراصل آپ نے نہ چاہا کہ اللّٰہ تعالیٰ کی عبادت میں خلل آئے۔ جب چوتھی بار فرشتے نے کہا، ’’اپنے رب کے نام سے پڑھیے‘‘ ۔ تو آپ اس طرف متوجہ ہوئے کہ جس ذات کی تجلیات کے مشاہدے میں اور جس کی محبت و عبادت میں ، مَیں مستغرق ہوں، یہ بھی تو اسی کا ذکر کر رہا ہے۔ پھر آپ نے وہ آیات تلاوت فرمائیں۔
دوسری تفسیر یہ ہے کہ
’’بِاسْمِ رَبِّکَ‘‘ میں باء استعانت کے لیے ہے۔ گویا آپ نے فرشتے سے فرمایا:
میں تیری قوت اور تیرے پڑھانے سے پڑھنے والا نہیں ہوں۔ اس پر جبریل نے مذکورہ آیات تلاوت کیں۔
گویا یوں عرض کیا:
یا رسول اللّٰہ ﷺ! آپ اپنے رب کی مدد اور قوت سے پڑھیے۔ آپ کا رب فرماتا ہے، اے حبیب! میرا نام لے کر پڑھو۔ پڑھنا تمہارا کام ہے اور تمہارے سینے کو علوم و معارف سے لبریز کردینا میرا کام ہے۔
یہاں ’’بسم اللّٰہ ‘‘ نہیں فرمایا بلکہ ’’بِاسْمِ رَبِّکَ‘‘ فرمایا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ لفظ ’’اللّٰہ‘‘ باری تعالیٰ کا ذاتی نام ہے۔ جبکہ معرفتِ ذات کا واحد طریقہ یہ ہے کہ اللّٰہ تعالیٰ کے آثار و صفات میں غور و فکر کیا جائے۔صفاتِ باری تعالیٰ میں انسانوں سے سب سے زیادہ نمایاں تعلق رکھنے والی صفات تخلیق اور ربوبیت کی صفات ہیں۔
یہ صفات اس پر شاہد ہیں کہ ہر مخلوق پہلے معدوم تھی۔ اسے تخلیق کیا گیا اور پھر اس کی پرورش کی گئی۔ نیز ہر مخلوق کا وجود اس بات کی دلیل ہے کہ اس کا کوئی خالق بھی ہے اور جو خالق ہے وہ ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ رہے گا۔ اُس کی صفات زوال پذیر نہیں اوراس میں کوئی نقص یا عیب نہیں۔لہٰذا ذاتِ الہٰی کی معرفت کے لیے معرفتِ ربوبیت پہلی شرط ہے۔

