عظیم مفسر علامہ آلوسی رحمہ اللّٰہ فرماتے ہیں:
جب حضرت یحییٰ علیہ سلام کو نہایت کم عمر میں اور حضرت عیسیٰ علیہ سلام کو پیدا ہوتے ہی نبوت مل سکتی ہے تو رسولِ معظم ﷺ پیدائش کے وقت نبوت سے کیونکر محروم ہو سکتے ہیں جبکہ آپ اللّٰہ کے محبوب ہیں اور آپ ہی کے صدقے میں اللّٰہ تعالیٰ نے تمام انبیاء کو نبوت عطا فرمائی ہے۔
متعدد احادیث اس بات پر شاہد ہیں کہ بچپن میں رسول کریم ﷺ کا شقِ صدر کیا گیا۔
خود حضور ﷺ نے شقِ صدر کے واقعے کو اپنی نبوت کی نشانی سمجھا اور اسے اپنی نبوت کی دلیل قرار دیا۔
حضرت ابوذر غفاری فرماتے ہیں کہ میں نے بارگاہِ رسالت میں عرض کی، یا رسول اللہ ﷺ! آپ کو کیسے علم ہوا کہ آپ اللّٰہ کے نبی ہیں؟
حضور ﷺ نے فرمایا:
اے ابوذر! میں مکہ میں تھا ۔ میرے پاس دو فرشتے آئے۔ ایک زمین پر آگیا اور دوسرا فضا میں رہا۔ ایک نے پوچھا ،کیایہ وہی ہیں؟ دوسرے نے کہا، ہاں۔ اُس نے کہا، ان کا ایک مرد کے ساتھ وزن کرو۔ جب وزن کیا گیا تو میں غالب رہا۔ پھر اس نے کہا، ان کا دس مردوں کے ساتھ وزن کرو۔ جب وزن کیا گیا تو میں پھر غالب رہا۔پھر اس کے کہنے پر میرا سو اور پھر ہزار مردوں کے ساتھ وزن کیا گیاتو میں ان پر بھی غالب رہا۔ پھر ایک فرشتے نے کہا، ان کا سینہ شَق کرو۔ چنانچہ میرا سینہ چاک کیا گیا اور میرے دل کو نکالا گیا پھر اس میں سے سیاہ خون کا لو تھڑا نکال دیا گیا۔ پھر ایک نے کہا، ان کا سینہ سی دو۔ تو انہوں نے میرا سینہ سی دیا۔ پھر انہوں نے میرے کندھوں کے درمیان مہرِ نبوت کو رکھ دیا۔ میں یہ تمام واقعہ دیکھ رہا تھا۔
تقریباً ایسا ہی مضمون عتبہ بن عبدالسلمی نے روایت کیا ہے اور اس کی سند حسن ہے۔
حضرت ابی بن کعب نے بھی شقِ صدر کا واقعہ روایت کیا ہے اور اس میں تصریح ہے کہ وہ دو فرشتے حضرت جبریل اور حضرت میکائیل علیہ سلام تھے۔
حافظ ہیثمی نے اس حدیث کے راویوں کو ثقہ قرار دیا ہے۔
ہمارے آقا ومولیٰ ، امامُ الانبیاء ﷺ منصبِ نبوت پرکب فائز ہوئے؟
اس بارے میں امام ترمذی رحمہ اللّٰہ نے صحیح سند سے درج ذیل حدیث روایت کی ہے۔ نبی کریم ﷺ کی خدمت میں عرض کیا گیا:
مَتٰی وَجَبَتْ لَکَ النُّبُوَّۃُ۔ یارسول اللّٰہ ا!
آپ کے لیے نبوت کب ثابت ہوئی؟
رحمتِ عالم نورِ مجسم ﷺ نے ارشاد فرمایا:
{ وَاٰدَمُ بَیْنَ الرُّوْحِ وَالْجَسَد}
’’ اُس وقت جب کہ آدم روح اور جسم کے درمیان تھے‘‘۔
’’امام تقی الدین سبکی رحمہ اللّٰہ فرماتے ہیں:
جس نے اس حدیث کا یہ مطلب بیان کیا کہ حضورﷺ علمِ الہٰی میں نبی تھے، وہ اس حدیث کے معنی نہیں سمجھا۔ کیونکہ اللّٰہ تعالیٰ کا علم تو تمام اشیاء کو محیط ہے (یعنی علمِ الہٰی میں تو تمام انبیاء ہی نبی تھے پھر اس میں حضور کی کیا خصوصیت ہوئی) پس نبی کریم ﷺ کو اُس وقت نبوت سے موصوف کرنے کا مفہوم یہ ہے کہ آپ کی نبوت اُس وقت ثابت ہو چکی تھی۔ اسی لیے حضرت آدم نے عرش پر آپ کا نام یوں لکھا دیکھا،
محمدٌ رَّسولُ اللّٰہ۔ محمد اللّٰہ کے رسول ہیں۔
لہٰذا ضروری ہے کہ رسول کریم ﷺ کی اس خصوصیت کو ثابت اور متحقق مانا جائے۔ اسی بناء پر حضور ﷺ نے اپنی امت کو اس خصوصیت سے آگاہ فرما دیا تاکہ امت کو آپکے اس مرتبہ کی معرفت حاصل ہو جو اللّٰہ کے نزدیک آپ کو حاصل ہے، پھر انہیں اس معرفت کے ذریعے بھلائی ملے‘‘۔
امام بخاری وامام مسلم کے استاذُ الاستاذ اور امام احمد بن حنبل کے استاذ امام عبدالرزاق رحمہم اللّٰہ نے اپنی کتاب المصنف میں اس حدیث کو صحیح سند سے روایت کیا ۔
حضرت جابر نے بارگاہِ نبوی میں عرض کی، یارسول اللّٰہ ﷺ! اللّٰہ تعالیٰ نے سب سے پہلے کسے پیدا فرمایا؟ نورِ مجسم ﷺ نے فرمایا:

