ارشادِ باری تعالیٰ ہے،
{وَمَا کَانَ لِبَشَرٍ اَنْ یُّکَلِّمَہُ اللّٰہُ اِلَّا وَحْیًا اَوْ مِنْ وَّرَآئِ حِجَابٍ اَوْ یُرْسِلَ رَسُوْلًا فَیُوْحِیَ بِاِذْنِہٖ مَا یَشَآءُ}
’’اور کسی آدمی کے لائق نہیں کہ اللّٰہ اس سے کلام فرمائے مگر وحی کے طور پر، یا یوں کہ وہ بشر پردۂ عظمت کے اِدھر ہو(کہ متکلم کو دیکھتا نہ ہو)،یا کوئی فرشتہ بھیجے کہ وہ اس کے حکم سے وحی کرے جو وہ چاہے ‘‘۔ (پ25،شوری:51)
قرآن واحادیث کی روشنی میں وحی کی چند اقسام درج ذیل ہیں:-
٭حضورﷺ کا کلامِ قدیم سننا جیسے موسیٰ علیہ سلام نے کلامِ قدیم سنا۔
٭مقرب فرشتے کے ذریعے وحی نازل ہونا۔
٭ دل میں کسی بات کا الہام کیا جانا (خواب میں ہو یا بیداری میں)۔
٭گھنٹی (جس)کی آواز کی صورت میں وحی کا نازل ہونا۔
٭خواب میں اللّٰہ تعالیٰ کا حضور ﷺ سے کلام فرمانا جیسا کہ ترمذی میں حدیث ہے۔
٭بیداری میں اللّٰہ تعالیٰ کا حضور ﷺ سے کلام فرمانا جیسا کہ شبِ معراج میں ہوا۔
٭حضرت جبریل علیہ سلام کا کسی صحابی یا اعرابی کی صورت میں آکر کلام کرنا۔
٭جبریل علیہ سلام کا اصل شکل میں آنا جیسے وہ چھ سو پروں کے ساتھ آئے۔
٭حضورِ اکرم ﷺ کو خواب میں کوئی واقعہ دکھایا جانا، جیسے حضرت ابراہیم علیہ سلام نے خواب میں دیکھا کہ وہ اپنے بیٹے کو ذبح کر رہے ہیں۔
اعلان سے قبل نبوت:
صدرُ الشریعہ علامہ محمد امجد علی اعظمی رحمہ اللّٰہ فرماتے ہیں:
’’نبوت کسبی نہیں کہ آدمی عبادت و ریاضت کے ذریعہ سے حاصل کرسکے، بلکہ محض عطائے الہٰی ہے کہ جسے چاہتا ہے اپنے فضل سے دیتا ہے۔ ہاں! دیتا اُسی کو ہے جسے اسے منصبِ عظیم کے قابل بناتا ہے‘‘۔
ارشادِ باری تعالیٰ ہوا،
{اَللّٰہُ اَعْلَمُ حَیْثُ یَجْعَلُ رِسَالَتَہٗ}
’’اللّٰہ خوب جانتا ہے جہاں اپنی رسالت رکھے‘‘۔(پ8،انعام:124)
ہر نبی پیدائشی نبی ہوتا ہے اور عارفِ الہٰی ہوتا ہے۔ البتہ وہ اپنی نبوت کا اعلان رب تعالیٰ کے حکم سے کرتا ہے خواہ وہ بچپن ہی میں اعلان کرے جیسا کہ حضرت عیسیٰ علیہ سلام نے کیا ، یا چالیس سال کی عمر میں اعلان فرمائے جیسا کہ حضور رحمتِ عالم ﷺ کو حکم دیا گیا۔
{ یٰٓاَیُّھَا الْمُدَثِّرُ oقُمْ فَاَنْذِرْ}
’’اے چادر اوڑھنے والے ! کھڑے ہوجاؤ پھر ڈر سناؤ‘‘۔(پ29،مدثر:1-2)
ہمارے آقا کریم ﷺ کو بچپن ہی سے رب تعالیٰ کی سب سے زیادہ معرفت حاصل تھی۔ آپ جب پیدا ہوئے تو آپ نے سجدہ کیا۔
سیدہ آمنہ رضی اللّٰہ عنہا فرماتی ہیں،
میں نے دیکھا کہ ولادت کے بعد آپ نے دونوں ہاتھ زمین پر رکھے ہوئے تھے اور سر مبارک آسمان کی طرف اٹھایا ہوا تھا۔
نبی کریم ﷺ کے خصائص میں سے یہ بھی ہے کہ آپ نے پیدا ہوتے ہی کلام فرمایا اور آپ کا پہلا کلام یہ تھا، اللّٰہ اکبر کبیراً والحمدللّٰہ کثیراً۔
قرآن کریم میں ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ سلام کو پیدا ہوتے ہی نبوت کا منصب عطا ہوا۔
اور آپ نے ارشاد فرمایا:
{اِنِّیْ عَبْدُاللّٰہِ اٰتٰنِیَ الْکِتٰبَ وَجَعَلَنِیْ نَبِیًّا}
’’میں ہوں اللّٰہ کا بندہ، اس نے مجھے کتاب دی اور مجھے غیب کی خبریں دینے والا (نبی) کیا‘‘۔(پ16،مریم:30)
قرآن کریم میں ہے کہ حضرت یوسف علیہ سلام کو جب انکے بھائیوں نے کنوئیں میں ڈالا تو اللّٰہ تعالیٰ نے ان پر وحی فرمائی، اُس وقت ان کی عمر سات یا بارہ سال تھی۔ حضرت ابراہیم ں پر بھی بچپن میں وحی نازل ہوئی۔
ایمان و عقل کا تقاضا یہی ہے کہ جب حضرت عیسیٰ کو پیدا ہوتے ہی نبوت ملے اور یحییٰ و دیگر بھی بچپن ہی میں نبوت سے سرفراز کیے جائیں تو آقا و مولیٰ ا، امامُ الانبیاء اور افضلُ الرُسُل ہونے کی وجہ سے زیادہ حقدار ہیں کہ پیدا ہوتے ہی منصبِ نبوت پر فائوز ہں۔

