اس پر حضرت خدیجہ رضی اللّٰہ عنہا نے عرض کی،
ہرگز نہیں! اللّٰہ تعالیٰ کی قسم! اللّٰہ تعالیٰ آپ کو ہرگز شرمندہ نہیں ہونے دے گا۔ آپ صلہ رحمی کرتے ہیں، سچ بولتے ہیں، کمزوروں کا بوجھ اٹھاتے ہیں، محتاجوں کو مال دیتے ہیں، مہمانوں کی تواضع کرتے ہیں اور مصیبت زدہ لوگوں کی مدد کرتے ہیں۔
پھرحضرت خدیجہ رضی اللّٰہ عنہا آپ کو اپنے چچا زاد بھائی ورقہ بن نوفل کے پاس لے گئیں جو انجیل کو عربی میں لکھتے تھے۔وہ بہت بوڑھے تھے اور انکی بینائی ختم ہوچکی تھی۔
حضرت خدیجہ رضی اللّٰہ عنہا نے کہا،اے چچا زاد!اپنے بھتیجے کی بات سنو۔ حضور ﷺ نے سارا واقعہ سنا دیا تو ورقہ نے کہا، آپ پر وہی فرشتہ نازل ہوا ہے جو موسیٰ علیہ سلام پر نازل ہوتا تھا۔کاش میں اس وقت جوان ہوتا۔کاش میں اُس وقت زندہ ہوتا جب آپ کی قوم آپ کو وطن سے نکال دے گی۔
حضور ﷺنے فرمایا: کیا میری قوم مجھے یہاں سے نکال دے گی؟ ورقہ نے کہا، ہاں! جب بھی کوئی آپ جیسا پیغام لیکر آیا ، اسے تکلیفیں دی گئیں۔اگر میں اُس وقت زندہ ہوا تو آپ کی بھرپور مدد کروں گا۔
حدیث کے چند نکات:
پہلے سچے خوابوں کے ذریعے حضور ﷺ کے دل میں علومِ غیبیہ اِلقاء کیے جاتے رہے پھر تنہائی کی محبت پیدا کی گئی تاکہ آپ کا قلبِ اطہر دنیاوی معاملات اور تفکرات سے خالی ہو اور آپ اپنے رب کی طرف یکسوئی سے متوجہ رہیں۔
اللّٰہ تعالیٰ نے حضور ﷺ کے قلبِ انور میں اپنی معرفت کا جو نور القاء کیا تھا، آپ غارِ حرا میں اس کے مطابق عبادت کیا کرتے، حتیٰ کہ آپ کو بیداری میں عالمِ ملکوت کا مشاہدہ ہونے لگا۔ اسی بناء پر آپ نے جبریل علیہ سلام کو دیکھتے ہی پہچان لیا۔ جس طرح ہم انسانوں اور جانوروں کے درمیان فرق کر لیتے ہیں اسی طرح اللّٰہ تعالیٰ ہر نبی کو ایسی صفت عطا فرماتا ہے جس کی بناء پر وہ فرشتوں کا مشاہدہ کرتے ہیں نیز فرشتوں اور شیاطین کے درمیان امتیاز کر لیتے ہیں۔
وحی کے نزول کے بعد حضور پر خوف اور گھبراہٹ طاری ہونا اور یہ فرماناکہ ’’مجھے اپنی جان کا اندیشہ ہے‘‘یہ کسی شبہ کی وجہ سے نہیں تھا۔ غورطلب بات ہے کہ جب حضورﷺ نے جبریل علیہ سلام کو پہچان لیا، اور وحی نازل ہو چکی، اور آپ نے وحی کا کلامُ اللّٰہ ہونا یقین کر لیا تو کیا پھر بھی آپ کو اپنے نبی ہونے میں شک ہو سکتا تھا؟ ہرگز نہیں۔
اصل بات یہ ہے کہ یہ خوف نبوت و رسالت کی ذمہ داری کے عظیم ہونے کے باعث تھا کہ کہیں فرائضِ نبوت و رسالت کی ادائیگی میں کوئی کمی نہ رہ جائے۔
امام نووی رحمہ اللّٰہ لکھتے ہیں کہ قاضی عیاض مالکی رحمہ اللّٰہ نے فرمایا:
’’نبی کریم ﷺ کے خوف کی وجہ یہ نہیں تھی کہ آپ کو اس کلام کے وحی ٔ الہٰی ہونے میں کوئی شک تھا۔ بلکہ آپ کو یہ خوف تھا کہ اس عظیم ذمہ داری کو ادا کرنے میں آپ سے کہیں کوئی کمی نہ رہ جائے یا ایسا نہ ہو کہ آپ وحی ٔ الہٰی کے تقاضوں کو پورا نہ کر سکیں‘‘۔
اسی لیے حضرت خدیجہ رضی اللّٰہ عنہا نے آپ ﷺ کو یہ جواب دیا،
کَلاَّ وَاللہِ مَا یُخْزِیْکَ اللّٰہُ اَبَداً۔
’’ہرگز نہیں اللّٰہ تعالیٰ کی قسم!اللّٰہ تعالیٰ آپ کو کبھی شرمندہ نہیں ہونے دے گا یا آپ کو کبھی نا کام نہیں ہونے دے گا‘‘۔
وحی کی اقسام:
وحی کے لغوی معنی ہیں، ’’خفیہ طریقے سے خبر دینا‘‘۔ اسی بناء پر الہام کو بھی وحی کہا جاتا ہے۔
محدث علی قاری رحمہ اللّٰہ مرقاۃ شرح مشکوٰۃ میں فرماتے ہیں:
وحی کا اصطلاحی معنی یہ ہے کہ یہ اللّٰہ تعالیٰ کا کلام ہے جو قلبِ نبوی سے واصل ہوتا ہے۔ پس جس کلام کے الفاظ اور معانی دونوں نازل ہوئے اور یہ نزول جبریل علیہ سلام کے ذریعے سے ہوا،وہ قرآن کریم ہے۔ اور جس کلام کو حضور ﷺ پر صرف معناً نازل کیا گیا اور اس کلام کو آپ نے اپنے الفاظ میں بیان فرمایا، وہ حدیثِ نبوی ہے۔

