فَ لْ یَدْعُ نَادِیَ ہٗ
پس چاہیے وہ بلائے مجلس (کو) اپنی
سَ نَدْعُ الزَّبَانِیَۃَ
ابھی ہم بلاتے ہیں عذاب کے فرشتوں (کو)
کَلَّا لَا تُطِعْ ہُ وَ اسْجُدْ وَ اقْتَرِبْ
ہاں ہاں نہ مانو تم اُس (کی) اور سجدہ کرو اور قریب ہوجاؤ اس آیت کی تلاوت کرنے یا سننے والے پر سجدۂ تلاوت واجب ہے۔
ربط و مناسبت:
سورۃ التین سے اس سورت کا گہرا ربط و تعلق ہے۔ سورۃ التین میں انسان کو احسنِ تقویم میں پیدا کرنے کا ذکر تھا، اس سورت میں انسان کو احسنِ تقویم کے سانچے پر قائم رکھنے کے لیے راہِ ہدایت بتائی گئی ہے جس کا پہلا مرحلہ علم کا حصول ہے۔
سورۃ التین میں انسان کی صورت کی تشکیل کا ذکر تھا یہاں اس کی مادی تخلیق کا بیان ہے۔
سابقہ سورت میں انسان کا بہترین ساخت میں پیدا کرنا بیان ہوا، اس سورت میں انسان کی جمے ہوئے خون سے پیدائش کا ذکر کیا گیا۔
سابقہ سورت میں انسان کااشرف المخلوقات اور جامع الکمالات ہونا مذکور تھا، یہاں انسان کی حقیقت بیان ہوئی کہ خون کی پھٹکی سے پیدا ہوا مگر علومِ الٰہیہ نے اسے جامع الکمالات اور اشرف المخلوقات بنا دیا۔
سورۃ التین میں جھٹلانے والوں کی مذمت کی گئی اور انہیں اسفل سافلین میں پہنچنے کی وعید سنائی گئی جبکہ اس سورت میں جھٹلانے والوں کے سردار ابوجہل کے تکبر اور اس کی ناپاک حرکتوں کا تذکرہ ہے جن کی بناء پر وہ اسفل السافلین کا مستحق ہوا۔
شانِ نزول:
اس سورت کے دو حصے ہیں۔
اس کی پہلی پانچ آیات سے رسولِ معظم ﷺ پر نزولِ وحی کا آغاز ہوا، جبکہ چھٹی آیت سے آخر تک آیات اس وقت نازل ہوئیں جب حضورِ اکرم ﷺ نے حرمِ کعبہ میں نماز پڑھنا شروع کی اور ابوجہل نے آپ کو دھمکیاں دے کر اس سے روکنے کی ناپاک کوشش کی۔
جمہور مفسرین کے نزدیک نبی کریم ﷺ پر پہلی وحی کے طور پر سورۃ العلق کی پہلی پانچ آیات نازل ہوئیں البتہ جو مکمل سورت آپ ﷺ پر سب سے پہلے نازل ہوئی، وہ سورت فاتحہ ہے۔
اُمُ المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللّٰہ عنہا فرماتی ہیں،
رسولِ معظم ﷺ پر وحی کی ابتدا سچے خوابوں کی صورت میں ہوئی۔آپ جو خواب دیکھتے، بالکل ویسے ہی واقعہ رونما ہوجاتا۔ پھر حضورﷺ کے دل میں خلوت نشیں ہونے کا شوق پیدا ہوگیا۔ آپ غارِ حرا جاکر تنہائی میں اپنے رب کی عبادت کرنے لگے۔ آپ کھانے پینے کاضروری سامان ساتھ لے جاتے اورکئی کئی راتیں وہاں عبادت میں مصروف رہتے۔ اسی دوران آپ پر اچانک وحی نازل ہوئی۔
جبریل آئے اور عرض کیا،
اِقْرَأْ۔ پڑھیے۔
حضور ﷺنے فرمایا:
مَا اَنَا بِقَارِیءٍ۔
’’میں پڑھنے والا نہیں ہوں‘‘۔
حضرت جبریل نے آپ کو اپنے سینے سے لگا کر نہایت زور سے دبایا، پھر چھوڑ کر کہا، پڑھیے۔ آپ نے وہی جواب دیا۔ تین مرتبہ ایسا ہی ہوا۔ پھر جبریل علیہ سلام نے کہا،
{ اِقْرَاْ بِاسْمِ رَبِّکَ الَّذِیْ خَلَقَ ۔ خَلَقَ الْاِنْسَانَ مِنْ عَلَقٍ ۔ اِقْرَاْ وَرَبُّکَ الْاَکْرَمُ ۔ الَّذِیْ عَلَّمَ بِالْقَلَمِ ۔ عَلَّمَ الْاِنْسَانَ مَا لَمْ یَعْلَمْ }
’’پڑھو اپنے رب کے نام سے جس نے پیدا کیا، آدمی کو خون کی پھٹک سے بنایا۔ پڑھو ! اور تمہارا رب ہی سب سے بڑا کریم(ہے) ، جس نے قلم سے لکھنا سکھایا، آدمی کو سکھایا جو نہ جانتا تھا‘‘۔
حضور ﷺ نے یہ پانچ آیات تلاوت فرما دیں۔اس واقعہ سے آپ پر خوف طاری ہو گیا۔ گھر لوٹے تو بدن پر کپکپی طاری تھی۔آپ نے حضرت خدیجہ رضی اللّٰہ عنہا سے فرمایا:
مجھے چادر اوڑھا دو۔ انہوں نے چادر اوڑھا دی۔جب خوف دور ہوگیا تو آپ ﷺ نے حضرت خدیجہ رضی اللّٰہ عنہا کو سارا واقعہ سنا دیا اور فرمایا، مجھے تو اپنی جان کا اندیشہ ہے۔

