نبی کریم ﷺ ایک دن مقامِ ابراہیم پر نماز ادا فرمارہے تھے کہ ابوجہل آگیا اور گستاخانہ لہجے میں بولا، کیا میں نے تمہیں اس کام سے منع نہیں کیا تھا؟
حضور ﷺ نے اسے سختی سے جھڑک دیا۔ وہ بولا، تم مجھے جھڑکتے ہو۔ خدا کی قسم!میں تمہارے مقابل سوار اور پیدل جوانوں سے اس وادی کو بھر دوں گا کیونکہ مکہ میں مجھ سے زیادہ بڑے جتھے اور مجلس والا کوئی نہیں۔ اس پر یہ آیات نازل ہوئیں۔
ارشاد ہوا:
کَلَّا۔ ’’ہرگز نہیں‘‘۔
اس ایک لفظ پر غور کیجیے۔ اس میں اللّٰہ تعالیٰ نے گستاخِ رسول ﷺ، ابوجہل کی سرکشی اور گستاخی کی مذمت بھی فرمادی اور اپنے محبوب ﷺ کی مدد و نصرت کا اعلان بھی فرما دیا۔
’’ہاں ہاں! اگر وہ سرکشی اور گستاخی سے باز نہ آیا تو ضرور ہم اس کی پیشانی کے بال پکڑ کر کھینچیں گے‘‘۔
رب تعالیٰ کا یہ فرمان غزوۂ بدر میں پورا ہوا جب ابوجہل کا جتھا اس کے کچھ کام نہ آیا اور اسے دو کم سن بچوں نے تلوار کے وار کر کے شدید زخمی کردیا۔
ا بن مسعود نے اس ملعون کو پڑا ہوا دیکھا تو اس کے سینے پر چڑھ گئے۔ وہ تکبر سے بولا، اپنے صاحب کو کہنا کہ مجھے زندگی میں بھی وہ سخت ناپسند تھے اور اب بھی ایسا ہی ہے۔
حضور ﷺ نے یہ سنا تو فرمایا،
میری امت کا فرعون موسیٰ کے فرعون سے سخت ہے کیونکہ اُس فرعون نے مرتے وقت کہا تھا، میں ایمان لاتاہوں جبکہ ابوجہل کے تکبر میں اضافہ ہوا۔
حضرت عبداللّٰہ بن مسعود نے اس ملعون کی گردن کاٹی پھر اسے اُٹھا نہ سکے کیونکہ آپ بہت ضعیف و نحیف تھے۔ آپ نے ابوجہل کے کان میں سوراخ کیا اور اس میں رسی ڈال کر اسے گھسیٹتے ہوئے آقا و مولیٰ ﷺ کے پاس لے گئے۔
’’الزَّبَانِیَۃَ‘‘ سے جہنم کے داروغہ اُنیس فرشتے مراد ہیں جن کا ذکر سورہ مدثر میں آیا ہے۔
ایک قول یہ ہے کہ:
اس سے مراد وہ فرشتے ہیں جن کی پکڑ بہت سخت ہے۔ دوبارہ ’’کَلاَّ‘‘ ارشاد ہوا۔ اس کے معنی ہیں، یہ بات یقینی ہے ۔
یعنی جو ارشاد ہوا ہے کہ اگر وہ اپنے لوگوں کو بلائے گا تو ہم عذاب کے فرشتوں کو بلا لیں گے۔ یہ بات ہو کے رہے گی۔اے حبیب ﷺ ! آپ اس جھوٹے خطا کار کی بات مت سنیں۔ آپ نماز و سجدہ میں مشغول رہیں اور رب تعالیٰ کا قرب حاصل کرتے ر ہیں۔
اگرچہ نماز و سجدہ کے ذریعے قربِ الہٰی پانا حضور ﷺ کے لیے ارشاد ہوا لیکن حضور کی محبوبیت بارگاہِ الہٰی میں ایسی ہے کہ جو حضور ﷺ کے اطاعت گزار ہیں، انہیں بھی آپ کے صدقے میں اس فیضان سے سجدہ میں قربِ الہٰی نصیب ہوتا ہے۔
سرکارِ دوعالم ﷺ نے فرمایا:
بندہ جب سجدے کی حالت میں ہوتا ہے تو اپنے رب کے زیادہ قریب ہوتا ہے، اس حالت میں زیادہ دعا کیا کرو۔
یہ بھی ارشاد ہوا:
اللّٰہ تعالیٰ کو اپنے بندے کی یہ حالت سب سے زیادہ محبوب ہے کہ وہ سجدہ کرے اور اس کی پیشانی خاک آلود ہوجائے۔
حضرت ثوبان نے بارگاہِ نبوی میں عرض کی، یا رسول اللّٰہﷺ!اللّٰہ تعالیٰ کو کون سا عمل زیادہ محبوب ہے؟
آقا ومولیٰ ﷺ نے فرمایا:
کثرت سے سجدہ کیا کرو۔ اللّٰہ تعالیٰ ہر سجدے کی وجہ سے تیرا ایک درجہ بلند کرے گا اور ایک گناہ معاف فرما دے گا۔
حضرت ربیعہ حضور ﷺ کے خادمِ خاص ہیں۔ آپ حضور ﷺ کے وضو کے لیے پانی رکھا کرتے تھے۔
ایک بار سرکارِ دوعالم ﷺ نے خوش ہوکر ان سے فرمایا:
مانگ لو جو تم چاہو۔ انہوں نے عرض کی، جنت میں آپ کی رفاقت چاہتا ہوں۔ آپ نے فرمایا: اور بھی کچھ مانگ لو۔ عرض کی، بس یہی کافی ہے۔ آپ نے فرمایا: اے ربیعہ! اپنے حق میں سجدوں کی کثرت سے مجھ سے تعاون کرنا۔
امام اعظم ابوحنیفہ کے نزدیک اس سورت کی آخری آیت پر سجدۂ تلاوت واجب ہے۔
حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے کہ
رسولِ معظم ﷺ جب یہ آیت پڑھتے تو سجدۂ تلاوت ادا فرماتے۔

