بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم
Home
Al Quran
Khazeena e Emaan
Friday Sermon
Live
Shah Turab Ul Haq Qadri
Shah Abdul Haq Qadri
Other Ulama
Events
Library
Article
Hamd o Naat
Books
Dalail ul Khairat
Qasida Burda
Video
About Us
Memon Masjid
Support
کیا بینک سے حاصل کیا ہوا منافع (سود)ذاتی استعمال میں لایا جا سکتا ہے یا یہ کسی غریب کو دینا چاہیے ؟؟
آپ کا براؤزر آڈیو سپورٹ نہیں کرتا۔
مقرر:
حضرت علامہ سید شاہ تراب الحق قادری علیہ الرحمہ
زمرہ:
سود
زبان:
اردو
👁️
385
بار دیکھا گیا
اسی زمرے کے دیگر سوالات
★
ہمارے یہاں ایک مولانا کہتے ہیں کہ غیر مسلموں سے سود لینا جائز ہے اور اس بارے میں امام ابو حنیفہ کا فتویٰ بھی ہے، کیا یہ صحیح ہے؟؟
★
1۔ کیا بینک سے قرض لے کر کار خریدنا جائز ہے؟؟
★
مغرب میں غیر مسلم اداروں میں رقم جمع کرا کر ان سے سود لینا کیسا ہے، براہِ کرم اعلیٰ حضرت علیہ رحمۃ کا نقطئہ نظر بتائیں ۔
★
1۔ تنخواہ سے ہونے والی لازمی کٹوتی جو کہ ’’پراویڈنٹ فنڈ‘‘ کی مد میں ہوتی ہے۔ کیا اس پر سود لینا جائز ہے؟؟
★
میں بینک سے قسطوں پر ٹیکسی لینا چاہتا ہوںکیا یہ جائز ہو گا ؟؟ ٹیکسی کی اقساط 60,000روپے کے برابر ہو گی جبکہ مارکیٹ میں ٹیکسی کی قیمت 48,000روپے ہے۔
واپس خزینہ ایمان
keyboard_arrow_up
Menu