بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم
Home
Al Quran
Khazeena e Emaan
Friday Sermon
Live
Shah Turab Ul Haq Qadri
Shah Abdul Haq Qadri
Other Ulama
Events
Library
Article
Hamd o Naat
Books
Dalail ul Khairat
Qasida Burda
Video
About Us
Memon Masjid
Support
کیا بینک سے حاصل کیا ہوا منافع (سود)ذاتی استعمال میں لایا جا سکتا ہے یا یہ کسی غریب کو دینا چاہیے ؟؟
آپ کا براؤزر آڈیو سپورٹ نہیں کرتا۔
مقرر:
حضرت علامہ سید شاہ تراب الحق قادری
زمرہ:
سود
زبان:
اردو
👁️
254
بار دیکھا گیا
اسی زمرے کے دیگر سوالات
★
ہمارے یہاں ایک مولانا کہتے ہیں کہ غیر مسلموں سے سود لینا جائز ہے اور اس بارے میں امام ابو حنیفہ کا فتویٰ بھی ہے، کیا یہ صحیح ہے؟؟
★
1۔آج کل لوگ اپنے آپ کو فرقے کے نام سے شناخت کراتے ہیں جبکہ اپنے آپ کو مسلمان کوئی نہیں کہتا، کیا اس طرح شناخت کرانا درست ہے ؟؟
★
’سود‘ اور’انشورنس‘سے متعلق ایک سوال۔
★
1۔ ریٹائر مینٹ حاصل کرنے کے بعد ملنے والی گریجویٹی اور دوسری مد میں ملنی والی رقوم کا اکثر لوگ بینک، وغیرہ میں جمع کرا دیتے ہیں تا کہ سود یا منافع کی مد میں ملنے والی رقم سے بقیہ زندگی گزارنے کا سامان ہو سکے کیونکہ ان کے پاس اور کوئی ذرائع بھی نہیں ہوتے۔ تو اس طرح کی رقم حاصل کرنا مکمل طور پر حرام ہے یا اسلام میں اس کی کوئی گنجائش ہے؟؟
★
1۔کسی غیر مسلم بینک سے قرض لے کر اسے سود ادا کرناکیسا ہے ؟؟
واپس خزینہ ایمان
keyboard_arrow_up
Menu