بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم
Home
Al Quran
Khazeena e Emaan
Friday Sermon
Live
Shah Turab Ul Haq Qadri
Shah Abdul Haq Qadri
Other Ulama
Events
Library
Article
Hamd o Naat
Books
Dalail ul Khairat
Qasida Burda
Video
About Us
Memon Masjid
Support
کیا بینک سے حاصل کیا ہوا منافع (سود)ذاتی استعمال میں لایا جا سکتا ہے یا یہ کسی غریب کو دینا چاہیے ؟؟
آپ کا براؤزر آڈیو سپورٹ نہیں کرتا۔
مقرر:
حضرت علامہ سید شاہ تراب الحق قادری
زمرہ:
سود
زبان:
اردو
👁️
214
بار دیکھا گیا
اسی زمرے کے دیگر سوالات
★
بینک ایک ’اجارہ‘ اسکیم کے تحت مجھے ایک کار، جو وہ پہلے اپنے نام پر خریدیں گے، پھر مجھے اُس کے لئے انہیں ماہا نہ قسط جمع کروانی ہو گی جس میں کار کی اصل رقم بھی ہوگی اور کار کا ماہانہ کرایہ بھی اور مدّتِ معینہ کے بعد وہ کار میرے نام کردیں گے۔ وُہ اسے اسلامی طریقہ بتاتے ہیں، براہِ کرم بتائیں کہ کیا یہ جائز ہے یا یہ سود کے زمرے میں آتا ہے؟؟ براہِ کرم تفصیل سے جواب عنایت فرمائیں تا کہ میں کوئی درست فیصلہ کر سکوں۔
★
ایسی غیر اسلامی بینک جس میں کسی بھی مسلمان کی کوئی شراکت نہ ہو کیا ایسے بینک سے سود لینا جائز ہے ؟؟
★
میرے ایک رشتہ دار نے بینک میں اکاؤنٹ کھلوایا۔ اس ملک میں کوئی بھی بینک ایسا نہ تھا جو سود نہ دیتا ہو اس لئے اُسے سود کی رقم لینی پڑی۔ اب اس سود کی رقم کا کیا کیا جائے؟؟ کیا اسے خیرات میں دے دیا جائے؟؟
★
بغیر ثواب کی نیّت سے سود کی رقم صدقہ کرنا کیسا ہے ؟؟
★
1۔آج کل لوگ اپنے آپ کو فرقے کے نام سے شناخت کراتے ہیں جبکہ اپنے آپ کو مسلمان کوئی نہیں کہتا، کیا اس طرح شناخت کرانا درست ہے ؟؟
واپس خزینہ ایمان
keyboard_arrow_up
Menu