بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم
Home
Al Quran
Khazeena e Emaan
Friday Sermon
Live
Shah Turab Ul Haq Qadri
Shah Abdul Haq Qadri
Other Ulama
Events
Library
Article
Hamd o Naat
Books
Dalail ul Khairat
Qasida Burda
Video
About Us
Memon Masjid
Support
ہمارے یہاں ایک مولانا کہتے ہیں کہ غیر مسلموں سے سود لینا جائز ہے اور اس بارے میں امام ابو حنیفہ کا فتویٰ بھی ہے، کیا یہ صحیح ہے؟؟
آپ کا براؤزر آڈیو سپورٹ نہیں کرتا۔
مقرر:
حضرت علامہ سید شاہ تراب الحق قادری علیہ الرحمہ
زمرہ:
سود
زبان:
اردو
👁️
284
بار دیکھا گیا
اسی زمرے کے دیگر سوالات
★
کوئی بوڑھا شخص جس میں کمانے کی طاقت نہ ہویا ایک مجاہد جو کہ اپنے پیچھے گھر والوں کی مالی اعانت کے لئے، بینک میں رقم رکھ کر منافع حاصل کر سکتے ہیں؟؟(یاد رہے کہ پاکستان میں بینک کہتے ہیں کہ یہ منافع ہے، سود نہیں ہے)۔
★
اگرمسجد کا پیسہ (ہندوستان میں)بینک میں رہے تو کیا اس پر ملنے والے سود کو مسجد میں استعمال کرنا جائز ہے ؟؟
★
ایسی غیر اسلامی بینک جس میں کسی بھی مسلمان کی کوئی شراکت نہ ہو کیا ایسے بینک سے سود لینا جائز ہے ؟؟
★
1۔آج کل لوگ اپنے آپ کو فرقے کے نام سے شناخت کراتے ہیں جبکہ اپنے آپ کو مسلمان کوئی نہیں کہتا، کیا اس طرح شناخت کرانا درست ہے ؟؟
★
بینک ایک ’اجارہ‘ اسکیم کے تحت مجھے ایک کار، جو وہ پہلے اپنے نام پر خریدیں گے، پھر مجھے اُس کے لئے انہیں ماہا نہ قسط جمع کروانی ہو گی جس میں کار کی اصل رقم بھی ہوگی اور کار کا ماہانہ کرایہ بھی اور مدّتِ معینہ کے بعد وہ کار میرے نام کردیں گے۔ وُہ اسے اسلامی طریقہ بتاتے ہیں، براہِ کرم بتائیں کہ کیا یہ جائز ہے یا یہ سود کے زمرے میں آتا ہے؟؟ براہِ کرم تفصیل سے جواب عنایت فرمائیں تا کہ میں کوئی درست فیصلہ کر سکوں۔
واپس خزینہ ایمان
keyboard_arrow_up
Menu