بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم
Home
Al Quran
Khazeena e Emaan
Friday Sermon
Live
Shah Turab Ul Haq Qadri
Shah Abdul Haq Qadri
Other Ulama
Events
Library
Article
Hamd o Naat
Books
Dalail ul Khairat
Qasida Burda
Video
About Us
Memon Masjid
Support
اگرمسجد کا پیسہ (ہندوستان میں)بینک میں رہے تو کیا اس پر ملنے والے سود کو مسجد میں استعمال کرنا جائز ہے ؟؟
آپ کا براؤزر آڈیو سپورٹ نہیں کرتا۔
مقرر:
حضرت علامہ سید شاہ تراب الحق قادری علیہ الرحمہ
زمرہ:
سود
زبان:
اردو
👁️
436
بار دیکھا گیا
اسی زمرے کے دیگر سوالات
★
1۔ میں کمپیوٹر کے ایک ایسے ادارے میں کام کرتا ہوں جو کہ ادھار پر مال فروخت کرتاہے، اگر مقررہ مدت میں رقم وصول نہیں ہوتی تو ادارہ قرض کی رقم کے ساتھ سود بھی وصول کرتا ہے اور اس طرح ادارے کے منافع میں سود کی رقم بھی شامل ہو جاتی ہے، کیا اس ادارہ میں ملازمت کرنا جائز ہے؟؟
★
کچھ علماء کہتے ہیں کہ سود لینا جائز ہے جبکہ کچھ علماء اسے نا جائز کہتے ہیں۔
★
میرے ایک رشتہ دار نے بینک میں اکاؤنٹ کھلوایا۔ اس ملک میں کوئی بھی بینک ایسا نہ تھا جو سود نہ دیتا ہو اس لئے اُسے سود کی رقم لینی پڑی۔ اب اس سود کی رقم کا کیا کیا جائے؟؟ کیا اسے خیرات میں دے دیا جائے؟؟
★
1۔ کیا کسی غیر اسلامی بینک میں کچھ رقم دے کر ملازمت حاصل کرنا جائز ہے ؟؟
★
ہمارے یہاں ایک مولانا کہتے ہیں کہ غیر مسلموں سے سود لینا جائز ہے اور اس بارے میں امام ابو حنیفہ کا فتویٰ بھی ہے، کیا یہ صحیح ہے؟؟
واپس خزینہ ایمان
keyboard_arrow_up
Menu