بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم
Home
Al Quran
Khazeena e Emaan
Friday Sermon
Live
Shah Turab Ul Haq Qadri
Shah Abdul Haq Qadri
Other Ulama
Events
Library
Article
Hamd o Naat
Books
Dalail ul Khairat
Qasida Burda
Video
About Us
Memon Masjid
Support
اگرمسجد کا پیسہ (ہندوستان میں)بینک میں رہے تو کیا اس پر ملنے والے سود کو مسجد میں استعمال کرنا جائز ہے ؟؟
آپ کا براؤزر آڈیو سپورٹ نہیں کرتا۔
مقرر:
حضرت علامہ سید شاہ تراب الحق قادری علیہ الرحمہ
زمرہ:
سود
زبان:
اردو
👁️
329
بار دیکھا گیا
اسی زمرے کے دیگر سوالات
★
1۔ ریٹائر مینٹ حاصل کرنے کے بعد ملنے والی گریجویٹی اور دوسری مد میں ملنی والی رقوم کا اکثر لوگ بینک، وغیرہ میں جمع کرا دیتے ہیں تا کہ سود یا منافع کی مد میں ملنے والی رقم سے بقیہ زندگی گزارنے کا سامان ہو سکے کیونکہ ان کے پاس اور کوئی ذرائع بھی نہیں ہوتے۔ تو اس طرح کی رقم حاصل کرنا مکمل طور پر حرام ہے یا اسلام میں اس کی کوئی گنجائش ہے؟؟
★
1۔ کیا کریڈٹ کارڈ کا استعمال جائز ہے؟؟ واضح ہو کہ کارڈ کی فیس 500سے1,000روپے سالانہ ہے اور کارڈ کے عوض جو خریداری کی جائے اس کی ادائیگی اگر ایک مہینے میں کردی جائے تو سود ادا نہیں کرنا پڑتا لیکن اگر ادائیگی ایک مہینے کے بعد کریں گے تو اس صورت میں سود ادا کرنا ہو گا۔
★
1۔ کیا ہم کسی بینک سے منافع لے کر روز مرہ کے اخراجات پورے کر سکتے ہیں۔
★
میں ایک لباس اور جوتے کی دکان پر کام کرتا ہوں معمول کے کام کے علاوہ میری ذمہ داری یہ بھی ہے کہ میں کسٹمرز سے کہوں کہ وہ ہماری دکان کا کریڈٹ کارڈ بھی استعمال کریں، جس پر سود لاگو ہوتا ہے۔ کیا یہ ملازمت جائز ہے۔ (جب کہ امریکہ دارالحرب ہے)۔
★
1۔کسی غیر مسلم بینک سے قرض لے کر اسے سود ادا کرناکیسا ہے ؟؟
واپس خزینہ ایمان
keyboard_arrow_up
Menu