بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم
Home
Al Quran
Khazeena e Emaan
Friday Sermon
Live
Shah Turab Ul Haq Qadri
Shah Abdul Haq Qadri
Other Ulama
Events
Library
Article
Hamd o Naat
Books
Dalail ul Khairat
Qasida Burda
Video
About Us
Memon Masjid
Support
اگرمسجد کا پیسہ (ہندوستان میں)بینک میں رہے تو کیا اس پر ملنے والے سود کو مسجد میں استعمال کرنا جائز ہے ؟؟
آپ کا براؤزر آڈیو سپورٹ نہیں کرتا۔
مقرر:
حضرت علامہ سید شاہ تراب الحق قادری علیہ الرحمہ
زمرہ:
سود
زبان:
اردو
👁️
354
بار دیکھا گیا
اسی زمرے کے دیگر سوالات
★
1۔ سود کس صورت میں جائز ہے؟؟
★
1۔آج کل لوگ اپنے آپ کو فرقے کے نام سے شناخت کراتے ہیں جبکہ اپنے آپ کو مسلمان کوئی نہیں کہتا، کیا اس طرح شناخت کرانا درست ہے ؟؟
★
1۔ تنخواہ سے ہونے والی لازمی کٹوتی جو کہ ’’پراویڈنٹ فنڈ‘‘ کی مد میں ہوتی ہے۔ کیا اس پر سود لینا جائز ہے؟؟
★
میں اور میرے بھائی نے مشترکہ نام سے قرض پر ایک مکان خریدا جس پر سود ادا کیا جاتا ہے، اب مجھے احساس ہو رہا ہے کہ میں نے گناہ کیا، میں اب چاہتا ہوں کہ وہ گھر بیچ دوں لیکن بھائی اور والد راضی نہیں ہیں، میں اپنا حصہ منتقل بھی نہیں کر سکتا کیونکہ بھائی کی اتنی آمدنی نہیں ہے کہ وہ تنہا قرض کی اقساط ادا کر سکے اور بینک بھی اس کی اجازت نہیں دے گا، کرایہ پر مکان مہنگے ہیں، میں اپنے عمل پر نادم ہوں۔ براہِ کرم کوئی حل بتائیں۔
★
ہالینڈ میں ہماری تنخواہ بینک میں جمع ہوتی ہے اور اس طرح تنخواہ میں سود شامل ہو جاتا ہے کیا اس صورتِ حال میں کیا جانے والا حج قبول ہو گا ؟؟
واپس خزینہ ایمان
keyboard_arrow_up
Menu