بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم
Home
Al Quran
Khazeena e Emaan
Friday Sermon
Live
Shah Turab Ul Haq Qadri
Shah Abdul Haq Qadri
Other Ulama
Events
Library
Article
Hamd o Naat
Books
Dalail ul Khairat
Qasida Burda
Video
About Us
Memon Masjid
Support
بالغ لڑکے اور لڑکی کا ولی کی موجودگی کے بغیر نکاح کرنا۔
آپ کا براؤزر آڈیو سپورٹ نہیں کرتا۔
مقرر:
حضرت علامہ سید شاہ تراب الحق قادری
زمرہ:
نکاح طلاق
زبان:
اردو
👁️
109
بار دیکھا گیا
اسی زمرے کے دیگر سوالات
★
بہارِ شریعت “باب النکاح”میں لکھا ہے کہ اگر لڑکا اور لڑکی دونوں بالغ ہوں تو گواہوں کی ضرورت نہیں ہے، کیا یہ درست ہے ؟؟
★
1۔ ایک عرصہ تک اگر شوہر اپنی بیوی سے صحبت نہ کرے تو کیا نکاح ختم ہو جائے گا؟؟
★
2۔ کیا وہ دوسری شادی کرسکتا ہے ؟؟
★
2۔ لڑکی کو منگنی سے لے کر شادی تک کا عرصہ کس طرح گزارنا چاھیئے ؟؟
★
کسی غیر مسلم لڑکی کواسلام قبول کروانے کے بعد والدین کی رضامندی سے اس کے ساتھ نکاح کرنا۔
واپس خزینہ ایمان
keyboard_arrow_up
Menu