بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم
Home
Al Quran
Khazeena e Emaan
Friday Sermon
Live
Shah Turab Ul Haq Qadri
Shah Abdul Haq Qadri
Other Ulama
Events
Library
Article
Hamd o Naat
Books
Dalail ul Khairat
Qasida Burda
Video
About Us
Memon Masjid
Support
اگر نکاح اس نیت سے کیا جائے کہ میں ایک مہینہ بعد طلاق دے دوں گا اور لڑکی کو بھی اس بات کا علم ہو،کیا یہ نکاح درست ہوگا؟؟
آپ کا براؤزر آڈیو سپورٹ نہیں کرتا۔
مقرر:
حضرت علامہ سید شاہ تراب الحق قادری
زمرہ:
نکاح طلاق
زبان:
اردو
👁️
112
بار دیکھا گیا
اسی زمرے کے دیگر سوالات
★
بہارِ شریعت “باب النکاح”میں لکھا ہے کہ اگر لڑکا اور لڑکی دونوں بالغ ہوں تو گواہوں کی ضرورت نہیں ہے، کیا یہ درست ہے ؟؟
★
’بائنہ‘ سے کیا مراد ہے؟؟
★
2۔ اگر کوئی شخص ذہنی پریشانی اور الجھن کے دوران بیوی سے یہ کہے کہ میرا تم سے کوئی تعلق نہیں ہے(نیّت طلاق کی نہ ہو) تو کیا طلاق ہو جائے گی؟؟ (جبکہ اس سے مراد یہ ہو کہ جب تک میں پریشان ہوں، میرے سے دور رہو اور بات نہ کرو)۔
★
1۔ کیا لڑکا اپنی منگیتر کو شادی کی تاریخ طے ہونے سے پہلے دیکھ سکتا ہے ؟؟
★
ایک لڑکی کا نکاح سنّی حنفی مذہب پر ہوا۔ شادی کے کچھ عرصے بعد پتہ چلا کہ لڑکا شیعہ ہے، کیا نکاح باقی ہے؟؟
واپس خزینہ ایمان
keyboard_arrow_up
Menu