بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم
Home
Al Quran
Khazeena e Emaan
Friday Sermon
Live
Shah Turab Ul Haq Qadri
Shah Abdul Haq Qadri
Other Ulama
Events
Library
Article
Hamd o Naat
Books
Dalail ul Khairat
Qasida Burda
Video
About Us
Memon Masjid
Support
اگر شوہر غصہ کی حالت میں بیوی سے کہے کہ “طلاق جاؤ”، ایک مرتبہ کہا نیز اس نے کہا کہ “اگر تم چاہوتو میں دو اور بھی دے سکتا ہوں”، حکمِ شرع کیا ہے؟؟ایک طلاق ہوئی یا تین؟؟ کفارہ کیا ہو گا ؟؟
آپ کا براؤزر آڈیو سپورٹ نہیں کرتا۔
مقرر:
حضرت علامہ سید شاہ تراب الحق قادری علیہ الرحمہ
زمرہ:
نکاح طلاق
زبان:
اردو
👁️
272
بار دیکھا گیا
اسی زمرے کے دیگر سوالات
★
شیعہ لڑکی کو سنّی کر کے اُس سے شادی کرنا۔
★
لڑکے اور لڑکی کی باہمی رضامندی سے نکاح کے متعلق آپ کی کیا رائے ہے ؟؟
★
ایک سوال کے جواب میں آپ نے فرمایا کہ موجودہ زمانے کے یہودی اور عیسائی لڑکی سے شادی جائز ہے جبکہ علامہ قاضی شمس الدین علیہ الرحمۃ نے اپنی کتاب قانونِ شریعت میں موجودہ یہودی اور عیسائی کو “لا مذہب”کہا اور امام جلال الدین سیوطی علیہ الرحمۃنے بھی “تاریخ الخلفأ”میں حضرت ابو بکرِ صدیق رضی ﷲ عنہ کاقول نقل فرمایا کہ یہودی اور عیسائی سے شادی کرنا منع ہے۔ تو کیا یہ لوگ اہلِ کتاب ہیں ؟؟
★
1۔ ایک گونگے ، بہرے شخص کے چچا نے طلاق نامہ لکھ کر اُس گونگے، بہرے شخص سے انگوٹھا لگوا لیا۔ اس پر تین طلاقیں لکھی ہوئی تھیں اور گونگے شخص کے مطابق میں نے ایک طلاق دی ہے۔ یاد رہے کہ نکاح ہو چکا ہے لیکن رخصتی نہیں ہوئی ہے، حکمِ شرع کیا ہے؟؟
★
بہارِ شریعت “باب النکاح”میں لکھا ہے کہ اگر لڑکا اور لڑکی دونوں بالغ ہوں تو گواہوں کی ضرورت نہیں ہے، کیا یہ درست ہے ؟؟
واپس خزینہ ایمان
keyboard_arrow_up
Menu