بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم
Home
Al Quran
Khazeena e Emaan
Friday Sermon
Live
Shah Turab Ul Haq Qadri
Shah Abdul Haq Qadri
Other Ulama
Events
Library
Article
Hamd o Naat
Books
Dalail ul Khairat
Qasida Burda
Video
About Us
Memon Masjid
Support
1۔ کیا طلاق کے لئے 3مرتبہ لفظِ طلاق کہنا ضروری ہے ؟؟
آپ کا براؤزر آڈیو سپورٹ نہیں کرتا۔
مقرر:
حضرت علامہ سید شاہ تراب الحق قادری علیہ الرحمہ
زمرہ:
نکاح طلاق
زبان:
اردو
👁️
167
بار دیکھا گیا
اسی زمرے کے دیگر سوالات
★
ایک سوال کے جواب میں آپ نے فرمایا کہ موجودہ زمانے کے یہودی اور عیسائی لڑکی سے شادی جائز ہے جبکہ علامہ قاضی شمس الدین علیہ الرحمۃ نے اپنی کتاب قانونِ شریعت میں موجودہ یہودی اور عیسائی کو “لا مذہب”کہا اور امام جلال الدین سیوطی علیہ الرحمۃنے بھی “تاریخ الخلفأ”میں حضرت ابو بکرِ صدیق رضی ﷲ عنہ کاقول نقل فرمایا کہ یہودی اور عیسائی سے شادی کرنا منع ہے۔ تو کیا یہ لوگ اہلِ کتاب ہیں ؟؟
★
1۔ میرے شوہر نے مجھے مئی2000میں طلاق دی تھی(تین مرتبہ)۔ اب وہ کہتے ہیں کہ میری نیّت نہیں تھی بلکہ خاندان والوں کی وجہ سے طلاق نامے پر دستخط کیئے تھے۔ کیا طلاق ہو گئی؟؟
★
بہارِ شریعت “باب النکاح”میں لکھا ہے کہ اگر لڑکا اور لڑکی دونوں بالغ ہوں تو گواہوں کی ضرورت نہیں ہے، کیا یہ درست ہے ؟؟
★
شیعہ ،سنّی کے درمیان نکاح۔
★
اگر شوہر غصہ کی حالت میں بیوی سے کہے کہ “طلاق جاؤ”، ایک مرتبہ کہا نیز اس نے کہا کہ “اگر تم چاہوتو میں دو اور بھی دے سکتا ہوں”، حکمِ شرع کیا ہے؟؟ایک طلاق ہوئی یا تین؟؟ کفارہ کیا ہو گا ؟؟
واپس خزینہ ایمان
keyboard_arrow_up
Menu