بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم
Home
Al Quran
Khazeena e Emaan
Friday Sermon
Live
Shah Turab Ul Haq Qadri
Shah Abdul Haq Qadri
Other Ulama
Events
Library
Article
Hamd o Naat
Books
Dalail ul Khairat
Qasida Burda
Video
About Us
Memon Masjid
Support
رہائشی مکان کے لئے بینک سے سود پررقم لینا۔
آپ کا براؤزر آڈیو سپورٹ نہیں کرتا۔
مقرر:
حضرت علامہ سید شاہ تراب الحق قادری علیہ الرحمہ
زمرہ:
سود
زبان:
اردو
👁️
176
بار دیکھا گیا
اسی زمرے کے دیگر سوالات
★
کورٹ میں بطورِ زر ضمانت کے لئے ڈیفینس سرٹیفیکٹ بنائے تھے، تین سال بعد کورٹ سے سرٹیفیکٹ واپس مل گئے۔ جب کیش کرانے گئے تو اصل رقم کے ساتھ سود بھی ملا جو کہ یقناً نا جائز ہے ، معلوم یہ کرنا ہے کہ: i) کیا ہماری اصل رقم بھی ناجائز ہو گی؟؟ ii) سو د کی رقم کیا کسی مسلمان کو دے سکتے ہیں؟؟
★
میں نے سنا ہے کہ رقم بینک میں نہیں رکھنا چاہیے اور یہ بھی معلو م ہوا ہے کہ مفتی نظام الدین رضوی (جامعہء اشرفیہ) کااس بارے میں کوئی فتوٰی ہے، کیا مجھے وہ فتوٰی مل سکتا ہے ؟؟
★
کوئی بوڑھا شخص جس میں کمانے کی طاقت نہ ہویا ایک مجاہد جو کہ اپنے پیچھے گھر والوں کی مالی اعانت کے لئے، بینک میں رقم رکھ کر منافع حاصل کر سکتے ہیں؟؟(یاد رہے کہ پاکستان میں بینک کہتے ہیں کہ یہ منافع ہے، سود نہیں ہے)۔
★
’سود‘ اور ’کمیشن‘ میں کیا فرق ہے؟؟
★
میں اور میرے بھائی نے مشترکہ نام سے قرض پر ایک مکان خریدا جس پر سود ادا کیا جاتا ہے، اب مجھے احساس ہو رہا ہے کہ میں نے گناہ کیا، میں اب چاہتا ہوں کہ وہ گھر بیچ دوں لیکن بھائی اور والد راضی نہیں ہیں، میں اپنا حصہ منتقل بھی نہیں کر سکتا کیونکہ بھائی کی اتنی آمدنی نہیں ہے کہ وہ تنہا قرض کی اقساط ادا کر سکے اور بینک بھی اس کی اجازت نہیں دے گا، کرایہ پر مکان مہنگے ہیں، میں اپنے عمل پر نادم ہوں۔ براہِ کرم کوئی حل بتائیں۔
واپس خزینہ ایمان
keyboard_arrow_up
Menu