میں اپنی بیوی اور بچی کے ساتھ عمرے پر گیا، ہم جب میقات پہنچے تو وہاں وضو کے لئے پانی نہیں تھا، ہم پھر’مسجدِعائشہ‘ گئے، وضو کیا، نوافل ادا کئے، تلبیہ پڑھا اور عمرہ ادا کیا۔ میرے ایک عزیز نے کہا کہ میں بغیر احرام کے حدودِحرم میں داخل ہوا، لہذاٰ مجھ پر دم واجب ہوگا، براہِ کرم رہنمائی فرمائیں۔
ہمارے یہاں ایک مولانا کہتے ہیں کہ غیر مسلموں سے سود لینا جائز ہے اور اس بارے میں امام ابو حنیفہ کا فتویٰ بھی ہے، کیا یہ صحیح ہے؟؟
کیا کسی ایسے امام کے پیچھے نماز ہو جائے گی جو یہ کہے کہ ’میں نہیں مانتا کہ اعلیٰ حضرت بہت بڑے ولی ﷲ تھے‘ ؟
2۔ کیا متعہ حرام ہے، کیا حضور ﷺ نے اسے منع فرمایا، حضرت عمر رضی اﷲ عنہ کے دور میں کیوں منع فرمایا گیا؟؟