Imam e Azam

Author: Allama Syed Shah Turab ul Haq Qadri

Total Pages: 168

Page 2 of 168

آپ نے صرف خطابت ہی نہیں بلکہ تصنیف و تالیف کے میدان میں بھی انمٹ نقوش چھوڑے۔

1۔’’ضیاء الحدیث‘‘،

2۔’’جمالِ مصطفیٰ‘‘،

3۔’’تصوف و طریقت‘‘،

4۔ ’’فلاحِ دارین‘‘،

5۔ ’’خواتین اور دینی مسائل‘‘،

6۔ ’’کتاب الصلوٰۃ‘‘،

7۔ ’’مسنون دعائیں‘‘،

8۔ ’’تفسیر انوار القرآن‘‘،

9۔ ’’فضائل صحابہ و اہلبیت‘‘ جیسی کتابوں سے آپ کا علمی ذوق اور وسعت مطالعہ جھلکتا ہے۔

تحریکات اور جماعتی خدمات:  شاہ تراب الحق قادری صرف منبر کے خطیب یا مصنف ہی نہیں تھے بلکہ میدانِ عمل کے مردِ مجاہد بھی تھے۔ جماعت اہلسنت کے پلیٹ فارم سے آپ نے تنظیمی و تحریکی خدمات انجام دیں۔ سنی تحریکات کی قیادت کی، گستاخانِ رسالت کے مقابل ڈٹے، قادیانیت کی فتنہ گری کا توڑ کیا اور تحریک ختم نبوت و تحریک نظام مصطفیٰ میں بھرپور کردار ادا کیا۔

ان کی استقامت نے باطل کو ہمیشہ پسپا کیا۔ 1985ء میں قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے اور سیاست کے میدان میں بھی دین کی ترجمانی کی۔ مختلف کمیٹیوں، بورڈز اور تعلیمی اداروں میں خدمات انجام دیں۔ درجنوں سماجی اور دینی اداروں کے سرپرست و ناظم رہے۔ ان کی سیاسی و سماجی زندگی بھی مسلکِ اہل سنت کے تحفظ اور دین کی سربلندی کے لیے وقف رہی۔

اوصاف و اخلاق: علامہ شاہ تراب الحق قادری رحمہ اللّٰہ کی زندگی میں اخلاص، بے خوفی، تقویٰ اور عشقِ رسول نمایاں تھے۔ وہ مسلک اسلاف کے سچے ترجمان تھے، مداہنت کو برداشت نہ کرتے، باطل کے سامنے کلمہ حق بلند کرتے۔ ان کی درویشی میں قیادت کا جلال چھپا ہوا تھا، خاکساری کے پردے میں عظمت کا نور چھلکتا تھا۔ وہ اپنے اسلاف کی حیاتِ مبارکہ کی عملی تصویر تھے۔

وصال:  6 اکتوبر 2016ء (4 محرم 1438ھ) کو طویل علالت کے بعد آپ اس جہانِ فانی سے کوچ کر گئے۔ میمن مسجد کراچی سے متصل آپ کے استاد و سسر قاری مصلح الدین صدیقی رحمۃ اللّٰہ علیہ کے پہلو میں سپرد خاک کیے گئے۔ ان کے جنازے میں ہزاروں علما، مشائخ، سیاسی رہنما اور عوام الناس شریک ہوئے۔ شاہ تراب الحق قادری کی زندگی جہدِ مسلسل کا استعارہ تھی۔ وہ عشقِ رسول کے علم بردار، تحفظِ ناموسِ رسالت کے پاسبان، مسلکِ رضا کے سفیر اور لاکھوں دلوں کے رہبر تھے۔ اللّٰہ کریم ان کی تربت پر اپنی رحمتوں کے انوار کی بارش فرمائے اور ان کے مشن کو زندہ رکھنے کی توفیق عطا کرے۔ آمین۔

Share:
keyboard_arrow_up