سراجُ الامّہ، امام الائمہ حضرت سیدنا امامِ اعظم رضی اللّٰہ عنہ
علامہ سید تراب الحق قادری رحمۃ اللّٰہ علیہ
عزمِ نَو پبلشرز، کراچی
بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم
جملہ حقوق محفوظ ہیں: نام کتاب سیّدنا امامِ اعظم رضی اللّٰہ عنہ
مصنف:ولیِ کامل حضرت علامہ سید شاہ تراب الحق قادری رحمۃ اللّٰہ علیہ
علامہ سید شاہ تراب الحق قادری علیہ الرحمۃ؛ ایک ہمہ جہت شخصیت علامہ سید شاہ تراب الحق قادری صاحب علیہ الرحمہ کی شخصیت ہمہ جہت خوبیوں کا مرقع تھی۔
وہ اپنی ذات میں ایک تحریک تھے، ایک انجمن تھے، ایک تنظیم تھے، ایک بزم تھے۔ وہ جلوہ گر تو کراچی میں تھے لیکن ان کی گونج پوری دنیائے سنیت میں سنائی دیتی ہے۔
وہ وقت اور فاصلے کی قید سے ماورا تھے، ان کے فیضان سے قریب و بعید سبھی سیراب ہوتے رہے۔
ابتدائی زندگی اور تعلیمی پس منظر: شاہ تراب الحق قادری صاحب 27 رمضان 1365ھ بمطابق 25 اگست 1946ء کو ریاست حیدرآباد دکن کے ایک گاؤں کلمبر میں پیدا ہوئے۔ والد ماجد سید شاہ حسین قادری اور والدہ محترمہ اکبرالنساء بیگم رحمۃ اللّٰہ علیہما تھیں۔ ایک طرف سے سادات کی نسبت تھی اور دوسری طرف فاروقی خانوادے کی وراثت۔ ابتدائی تعلیم حیدرآباد کے مدارس میں حاصل کی اور پھر قیام پاکستان کے بعد 1951ء میں ہجرت کرکے کراچی میں سکونت اختیار کی۔ فیض عام ہائی اسکول اور دارالعلوم امجدیہ سے تعلیم حاصل کی اور اپنے وقت کے جید علما سے فیض یاب ہوئے۔
روحانی تربیت اور خلافت: شاہ تراب الحق قادری صاحب علیہ الرحمۃ کو روحانی فیضان کا سرچشمہ بریلی شریف میں ملا۔ مفتی اعظم ہند مولانا مصطفیٰ رضا خان نوری رحمہ اللّٰہ کے دستِ حق پرست پر بیعت کی اور خلافت سے بھی نوازے گئے۔ قطب مدینہ مولانا ضیاء الدین مدنی رحمۃ اللّٰہ علیہ کی صحبت میں بھی فیض حاصل کیا۔ سلسلہ قادریہ رضویہ کے اس عظیم شیخ نے ہزاروں دلوں کی پیاس بجھائی اور دنیا کے کئی خطوں تک اپنا روحانی فیضان پھیلایا۔
امامت و خطابت: 1965ء سے آپ نے امامت و خطابت کا فریضہ انجام دینا شروع کیا۔ محمدی مسجد کورنگی، اخوند مسجد کھارادر اور آخرکار میمن مسجد مصلح الدین گارڈن آپ کا مستقل مرکزِ تبلیغ بن گئی۔ نصف صدی تک آپ کی خطابت نے لاکھوں دلوں کو گرمایا۔ آپ کے خطبات میں مدلل استدلال، قرآنی و حدیثی دلائل کی روشنی، سادہ اور شستہ زبان، عام فہم انداز اور بے ساختہ اخلاص جھلکتا تھا۔

