بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم
Home
Al Quran
Khazeena e Emaan
Friday Sermon
Live
Shah Turab Ul Haq Qadri
Shah Abdul Haq Qadri
Other Ulama
Events
Library
Article
Hamd o Naat
Books
Dalail ul Khairat
Qasida Burda
Video
About Us
Memon Masjid
Support
میرے ایک رشتہ دار نے بینک میں اکاؤنٹ کھلوایا۔ اس ملک میں کوئی بھی بینک ایسا نہ تھا جو سود نہ دیتا ہو اس لئے اُسے سود کی رقم لینی پڑی۔ اب اس سود کی رقم کا کیا کیا جائے؟؟ کیا اسے خیرات میں دے دیا جائے؟؟
آپ کا براؤزر آڈیو سپورٹ نہیں کرتا۔
مقرر:
حضرت علامہ سید شاہ تراب الحق قادری
زمرہ:
سود
زبان:
اردو
👁️
167
بار دیکھا گیا
اسی زمرے کے دیگر سوالات
★
1۔ کیا ہم کسی بینک سے منافع لے کر روز مرہ کے اخراجات پورے کر سکتے ہیں۔
★
1۔کیا سود لینے اور دینے والے ہی صرف گناہ گار ہیں یا اس سے متعلق تمام افراد ؟؟
★
1۔کچھ لوگ کہتے ہیں کہ غیر مسلم ملک کے بینک سے منافع لینا درست ہے، کیا یہ صحیح ہے ؟؟
★
2۔ میرے ایک عزیز بہت ہی مالدار ہیں، وہ میرے ساتھ ایک بھلائی کرنا چاہتے ہیں، اگر میں کچھ رقم انہیں دوں تو وہ مجھے ایک معین منافع دیں گے، میری نیّت سود کی نہیں ہے اور نہ ہی وہ سود دینے کے حق میں ہیں، صرف بھلائی کے طور پر ہو مجھے منافع دینا چاہتے ہیں، تاہم نقصان کے صورت میںوہ مجھ سے نقصان نہیں لینگے کیونکہ میری رقم مختلف کاروبار میں استعمال کریں گے لہذٰامیری مخصوص رقم کا انکے لئے الگ سے حساب رکھنا ممکن نہیں ہے۔
★
کوئی بوڑھا شخص جس میں کمانے کی طاقت نہ ہویا ایک مجاہد جو کہ اپنے پیچھے گھر والوں کی مالی اعانت کے لئے، بینک میں رقم رکھ کر منافع حاصل کر سکتے ہیں؟؟(یاد رہے کہ پاکستان میں بینک کہتے ہیں کہ یہ منافع ہے، سود نہیں ہے)۔
واپس خزینہ ایمان
keyboard_arrow_up
Menu