بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم
Home
Al Quran
Khazeena e Emaan
Friday Sermon
Live
Shah Turab Ul Haq Qadri
Shah Abdul Haq Qadri
Other Ulama
Events
Library
Article
Hamd o Naat
Books
Dalail ul Khairat
Qasida Burda
Video
About Us
Memon Masjid
Support
میرے ایک رشتہ دار نے بینک میں اکاؤنٹ کھلوایا۔ اس ملک میں کوئی بھی بینک ایسا نہ تھا جو سود نہ دیتا ہو اس لئے اُسے سود کی رقم لینی پڑی۔ اب اس سود کی رقم کا کیا کیا جائے؟؟ کیا اسے خیرات میں دے دیا جائے؟؟
آپ کا براؤزر آڈیو سپورٹ نہیں کرتا۔
مقرر:
حضرت علامہ سید شاہ تراب الحق قادری
زمرہ:
سود
زبان:
اردو
👁️
87
بار دیکھا گیا
اسی زمرے کے دیگر سوالات
★
کچھ علماء کہتے ہیں کہ سود لینا جائز ہے جبکہ کچھ علماء اسے نا جائز کہتے ہیں۔
★
1۔ کیا کریڈٹ کارڈ کا استعمال جائز ہے؟؟ واضح ہو کہ کارڈ کی فیس 500سے1,000روپے سالانہ ہے اور کارڈ کے عوض جو خریداری کی جائے اس کی ادائیگی اگر ایک مہینے میں کردی جائے تو سود ادا نہیں کرنا پڑتا لیکن اگر ادائیگی ایک مہینے کے بعد کریں گے تو اس صورت میں سود ادا کرنا ہو گا۔
★
کیا بینک سے حاصل کیا ہوا منافع (سود)ذاتی استعمال میں لایا جا سکتا ہے یا یہ کسی غریب کو دینا چاہیے ؟؟
★
1۔ کیا بینک سے قرض لے کر کار خریدنا جائز ہے؟؟
★
کیا کسی غیر اسلامی ملک سے منافع لینا جائز ہے؟؟
واپس خزینہ ایمان
keyboard_arrow_up
Menu