بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم
Home
Al Quran
Khazeena e Emaan
Friday Sermon
Live
Shah Turab Ul Haq Qadri
Shah Abdul Haq Qadri
Other Ulama
Events
Library
Article
Hamd o Naat
Books
Dalail ul Khairat
Qasida Burda
Video
About Us
Memon Masjid
Support
میرے ایک رشتہ دار نے بینک میں اکاؤنٹ کھلوایا۔ اس ملک میں کوئی بھی بینک ایسا نہ تھا جو سود نہ دیتا ہو اس لئے اُسے سود کی رقم لینی پڑی۔ اب اس سود کی رقم کا کیا کیا جائے؟؟ کیا اسے خیرات میں دے دیا جائے؟؟
آپ کا براؤزر آڈیو سپورٹ نہیں کرتا۔
مقرر:
حضرت علامہ سید شاہ تراب الحق قادری
زمرہ:
سود
زبان:
اردو
👁️
135
بار دیکھا گیا
اسی زمرے کے دیگر سوالات
★
1۔ تنخواہ سے ہونے والی لازمی کٹوتی جو کہ ’’پراویڈنٹ فنڈ‘‘ کی مد میں ہوتی ہے۔ کیا اس پر سود لینا جائز ہے؟؟
★
’سود‘ اور’انشورنس‘سے متعلق ایک سوال۔
★
میں ایک لباس اور جوتے کی دکان پر کام کرتا ہوں معمول کے کام کے علاوہ میری ذمہ داری یہ بھی ہے کہ میں کسٹمرز سے کہوں کہ وہ ہماری دکان کا کریڈٹ کارڈ بھی استعمال کریں، جس پر سود لاگو ہوتا ہے۔ کیا یہ ملازمت جائز ہے۔ (جب کہ امریکہ دارالحرب ہے)۔
★
2۔ میرے ایک عزیز بہت ہی مالدار ہیں، وہ میرے ساتھ ایک بھلائی کرنا چاہتے ہیں، اگر میں کچھ رقم انہیں دوں تو وہ مجھے ایک معین منافع دیں گے، میری نیّت سود کی نہیں ہے اور نہ ہی وہ سود دینے کے حق میں ہیں، صرف بھلائی کے طور پر ہو مجھے منافع دینا چاہتے ہیں، تاہم نقصان کے صورت میںوہ مجھ سے نقصان نہیں لینگے کیونکہ میری رقم مختلف کاروبار میں استعمال کریں گے لہذٰامیری مخصوص رقم کا انکے لئے الگ سے حساب رکھنا ممکن نہیں ہے۔
★
کیا بینک سے حاصل کیا ہوا منافع (سود)ذاتی استعمال میں لایا جا سکتا ہے یا یہ کسی غریب کو دینا چاہیے ؟؟
واپس خزینہ ایمان
keyboard_arrow_up
Menu