بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم
Home
Al Quran
Khazeena e Emaan
Friday Sermon
Live
Shah Turab Ul Haq Qadri
Shah Abdul Haq Qadri
Other Ulama
Events
Library
Article
Hamd o Naat
Books
Dalail ul Khairat
Qasida Burda
Video
About Us
Memon Masjid
Support
میرے ایک رشتہ دار نے بینک میں اکاؤنٹ کھلوایا۔ اس ملک میں کوئی بھی بینک ایسا نہ تھا جو سود نہ دیتا ہو اس لئے اُسے سود کی رقم لینی پڑی۔ اب اس سود کی رقم کا کیا کیا جائے؟؟ کیا اسے خیرات میں دے دیا جائے؟؟
آپ کا براؤزر آڈیو سپورٹ نہیں کرتا۔
مقرر:
حضرت علامہ سید شاہ تراب الحق قادری
زمرہ:
سود
زبان:
اردو
👁️
86
بار دیکھا گیا
اسی زمرے کے دیگر سوالات
★
1۔ کپڑا پاک کرنے کیا طریقہ ہے؟؟
★
1۔ کیا ایک سال تک کے بچے کا پیشاب پاک ہے ؟؟
★
1۔ ہم آپ کا بیان ’سنّتوں کی حکمت‘ کے موضوع پر سننا چاہتے ہیں۔
★
فارن(غیر ملکی) کرنسی ادھار دے کر اُس پر منافع لینا کیسا ہے؟؟
★
میں اور میرے بھائی نے مشترکہ نام سے قرض پر ایک مکان خریدا جس پر سود ادا کیا جاتا ہے، اب مجھے احساس ہو رہا ہے کہ میں نے گناہ کیا، میں اب چاہتا ہوں کہ وہ گھر بیچ دوں لیکن بھائی اور والد راضی نہیں ہیں، میں اپنا حصہ منتقل بھی نہیں کر سکتا کیونکہ بھائی کی اتنی آمدنی نہیں ہے کہ وہ تنہا قرض کی اقساط ادا کر سکے اور بینک بھی اس کی اجازت نہیں دے گا، کرایہ پر مکان مہنگے ہیں، میں اپنے عمل پر نادم ہوں۔ براہِ کرم کوئی حل بتائیں۔
واپس خزینہ ایمان
keyboard_arrow_up
Menu