بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم
Home
Al Quran
Khazeena e Emaan
Friday Sermon
Live
Shah Turab Ul Haq Qadri
Shah Abdul Haq Qadri
Other Ulama
Events
Library
Article
Hamd o Naat
Books
Dalail ul Khairat
Qasida Burda
Video
About Us
Memon Masjid
Support
فارن(غیر ملکی) کرنسی ادھار دے کر اُس پر منافع لینا کیسا ہے؟؟
آپ کا براؤزر آڈیو سپورٹ نہیں کرتا۔
مقرر:
حضرت علامہ سید شاہ تراب الحق قادری علیہ الرحمہ
زمرہ:
سود
زبان:
اردو
👁️
179
بار دیکھا گیا
اسی زمرے کے دیگر سوالات
★
ہمارے یہاں ایک مولانا کہتے ہیں کہ غیر مسلموں سے سود لینا جائز ہے اور اس بارے میں امام ابو حنیفہ کا فتویٰ بھی ہے، کیا یہ صحیح ہے؟؟
★
1۔کچھ لوگ کہتے ہیں کہ غیر مسلم ملک کے بینک سے منافع لینا درست ہے، کیا یہ صحیح ہے ؟؟
★
میں بینک سے قسطوں پر ٹیکسی لینا چاہتا ہوںکیا یہ جائز ہو گا ؟؟ ٹیکسی کی اقساط 60,000روپے کے برابر ہو گی جبکہ مارکیٹ میں ٹیکسی کی قیمت 48,000روپے ہے۔
★
1۔کیا سود لینے اور دینے والے ہی صرف گناہ گار ہیں یا اس سے متعلق تمام افراد ؟؟
★
1۔ کیا کریڈٹ کارڈ کا استعمال جائز ہے؟؟ واضح ہو کہ کارڈ کی فیس 500سے1,000روپے سالانہ ہے اور کارڈ کے عوض جو خریداری کی جائے اس کی ادائیگی اگر ایک مہینے میں کردی جائے تو سود ادا نہیں کرنا پڑتا لیکن اگر ادائیگی ایک مہینے کے بعد کریں گے تو اس صورت میں سود ادا کرنا ہو گا۔
واپس خزینہ ایمان
keyboard_arrow_up
Menu