بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم
Home
Al Quran
Khazeena e Emaan
Friday Sermon
Live
Shah Turab Ul Haq Qadri
Shah Abdul Haq Qadri
Other Ulama
Events
Library
Article
Hamd o Naat
Books
Dalail ul Khairat
Qasida Burda
Video
About Us
Memon Masjid
Support
کیا کسی غیر اسلامی ملک سے منافع لینا جائز ہے؟؟
آپ کا براؤزر آڈیو سپورٹ نہیں کرتا۔
مقرر:
حضرت علامہ سید شاہ تراب الحق قادری علیہ الرحمہ
زمرہ:
سود
زبان:
اردو
👁️
246
بار دیکھا گیا
اسی زمرے کے دیگر سوالات
★
بغیر ثواب کی نیّت سے سود کی رقم صدقہ کرنا کیسا ہے ؟؟
★
1۔کچھ لوگ کہتے ہیں کہ غیر مسلم ملک کے بینک سے منافع لینا درست ہے، کیا یہ صحیح ہے ؟؟
★
میں ایک لباس اور جوتے کی دکان پر کام کرتا ہوں معمول کے کام کے علاوہ میری ذمہ داری یہ بھی ہے کہ میں کسٹمرز سے کہوں کہ وہ ہماری دکان کا کریڈٹ کارڈ بھی استعمال کریں، جس پر سود لاگو ہوتا ہے۔ کیا یہ ملازمت جائز ہے۔ (جب کہ امریکہ دارالحرب ہے)۔
★
اگرمسجد کا پیسہ (ہندوستان میں)بینک میں رہے تو کیا اس پر ملنے والے سود کو مسجد میں استعمال کرنا جائز ہے ؟؟
★
میرے ایک رشتہ دار نے بینک میں اکاؤنٹ کھلوایا۔ اس ملک میں کوئی بھی بینک ایسا نہ تھا جو سود نہ دیتا ہو اس لئے اُسے سود کی رقم لینی پڑی۔ اب اس سود کی رقم کا کیا کیا جائے؟؟ کیا اسے خیرات میں دے دیا جائے؟؟
واپس خزینہ ایمان
keyboard_arrow_up
Menu