بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم
Home
Al Quran
Khazeena e Emaan
Friday Sermon
Live
Shah Turab Ul Haq Qadri
Shah Abdul Haq Qadri
Other Ulama
Events
Library
Article
Hamd o Naat
Books
Dalail ul Khairat
Qasida Burda
Video
About Us
Memon Masjid
Support
کچھ علماء کہتے ہیں کہ سود لینا جائز ہے جبکہ کچھ علماء اسے نا جائز کہتے ہیں۔
آپ کا براؤزر آڈیو سپورٹ نہیں کرتا۔
مقرر:
حضرت علامہ سید شاہ تراب الحق قادری
زمرہ:
سود
زبان:
اردو
👁️
114
بار دیکھا گیا
اسی زمرے کے دیگر سوالات
★
1۔ کیا ہم کسی بینک سے منافع لے کر روز مرہ کے اخراجات پورے کر سکتے ہیں۔
★
1۔ ریٹائر مینٹ حاصل کرنے کے بعد ملنے والی گریجویٹی اور دوسری مد میں ملنی والی رقوم کا اکثر لوگ بینک، وغیرہ میں جمع کرا دیتے ہیں تا کہ سود یا منافع کی مد میں ملنے والی رقم سے بقیہ زندگی گزارنے کا سامان ہو سکے کیونکہ ان کے پاس اور کوئی ذرائع بھی نہیں ہوتے۔ تو اس طرح کی رقم حاصل کرنا مکمل طور پر حرام ہے یا اسلام میں اس کی کوئی گنجائش ہے؟؟
★
1۔کسی غیر مسلم بینک سے قرض لے کر اسے سود ادا کرناکیسا ہے ؟؟
★
1۔ میں کمپیوٹر کے ایک ایسے ادارے میں کام کرتا ہوں جو کہ ادھار پر مال فروخت کرتاہے، اگر مقررہ مدت میں رقم وصول نہیں ہوتی تو ادارہ قرض کی رقم کے ساتھ سود بھی وصول کرتا ہے اور اس طرح ادارے کے منافع میں سود کی رقم بھی شامل ہو جاتی ہے، کیا اس ادارہ میں ملازمت کرنا جائز ہے؟؟
★
بغیر ثواب کی نیّت سے سود کی رقم صدقہ کرنا کیسا ہے ؟؟
واپس خزینہ ایمان
keyboard_arrow_up
Menu