بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم
Home
Al Quran
Khazeena e Emaan
Friday Sermon
Live
Shah Turab Ul Haq Qadri
Shah Abdul Haq Qadri
Other Ulama
Events
Library
Article
Hamd o Naat
Books
Dalail ul Khairat
Qasida Burda
Video
About Us
Memon Masjid
Support
اگر نکاح اس نیت سے کیا جائے کہ میں ایک مہینہ بعد طلاق دے دوں گا اور لڑکی کو بھی اس بات کا علم ہو،کیا یہ نکاح درست ہوگا؟؟
آپ کا براؤزر آڈیو سپورٹ نہیں کرتا۔
مقرر:
حضرت علامہ سید شاہ تراب الحق قادری علیہ الرحمہ
زمرہ:
نکاح طلاق
زبان:
اردو
👁️
229
بار دیکھا گیا
اسی زمرے کے دیگر سوالات
★
’بائنہ‘ سے کیا مراد ہے؟؟
★
اگر کوئی شخص اپنی بیوی ، جو کہ حیض کی حالت میں ہو، کو طلاق دے تو کیا طلاق واقع ہو جائے گی ؟؟
★
بہارِ شریعت “باب النکاح”میں لکھا ہے کہ اگر لڑکا اور لڑکی دونوں بالغ ہوں تو گواہوں کی ضرورت نہیں ہے، کیا یہ درست ہے ؟؟
★
کیا بیو ی نکاح کے وقت کوئی بھی شرط رکھ سکتی ہے مثلاًبیوی شوہر سے کہے کہ وہ دوسری شادی نہیں کر سکتا اور اگر شوہر کو دوسری شادی کرنی ہو تو وہ طلاق کا حق بیوی کو تفویض کردے، کیا اس طرح کی شرائط درست ہیں ؟؟
★
کیا کوئی مسلمان لڑکی کسی صاحبِ کتاب لڑکے سے شادی کر سکتی ہے ؟؟
واپس خزینہ ایمان
keyboard_arrow_up
Menu