بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم
Home
Al Quran
Khazeena e Emaan
Friday Sermon
Live
Shah Turab Ul Haq Qadri
Shah Abdul Haq Qadri
Other Ulama
Events
Library
Article
Hamd o Naat
Books
Dalail ul Khairat
Qasida Burda
Video
About Us
Memon Masjid
Support
اگر نکاح اس نیت سے کیا جائے کہ میں ایک مہینہ بعد طلاق دے دوں گا اور لڑکی کو بھی اس بات کا علم ہو،کیا یہ نکاح درست ہوگا؟؟
آپ کا براؤزر آڈیو سپورٹ نہیں کرتا۔
مقرر:
حضرت علامہ سید شاہ تراب الحق قادری علیہ الرحمہ
زمرہ:
نکاح طلاق
زبان:
اردو
👁️
190
بار دیکھا گیا
اسی زمرے کے دیگر سوالات
★
اگر کسی نے اپنی بیوی کے ساتھ حیض کے دنوں میں صحبت کی ہو اور بعد میں اسے اس گناہ کا احساس ہو تو اسے کیا کرنا چاہیے؟؟
★
ایسے لڑکے اور لڑکی کے بارے میں حکمِ شرع کیا ہے، جو کہ تنہائی میں ملتے ہیں اور شادی کے بھی خواہشمند ہیں اور پاکدامنی سے متعلق مکمل شعور ہے؟؟
★
ایک سوال کے جواب میں آپ نے فرمایا کہ موجودہ زمانے کے یہودی اور عیسائی لڑکی سے شادی جائز ہے جبکہ علامہ قاضی شمس الدین علیہ الرحمۃ نے اپنی کتاب قانونِ شریعت میں موجودہ یہودی اور عیسائی کو “لا مذہب”کہا اور امام جلال الدین سیوطی علیہ الرحمۃنے بھی “تاریخ الخلفأ”میں حضرت ابو بکرِ صدیق رضی ﷲ عنہ کاقول نقل فرمایا کہ یہودی اور عیسائی سے شادی کرنا منع ہے۔ تو کیا یہ لوگ اہلِ کتاب ہیں ؟؟
★
2۔ اگر وہ طلاق نہ دینا چاہیں تو پھر علیحدگی کس طرح ممکن ہے ؟؟
★
گیارہ ماہ قبل میرے شوہر نے بحث کے دوران تین بار لفظِ طلاق کہا، جب کہ مجھے مکمل یقین ہے کہ میرے شوہر کا یہ مقصد نہیں تھا، براہِ کرم رہنمائی فرمائیں۔
واپس خزینہ ایمان
keyboard_arrow_up
Menu