بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم
Home
Al Quran
Khazeena e Emaan
Friday Sermon
Live
Shah Turab Ul Haq Qadri
Shah Abdul Haq Qadri
Other Ulama
Events
Library
Article
Hamd o Naat
Books
Dalail ul Khairat
Qasida Burda
Video
About Us
Memon Masjid
Support
1۔ میں اپنی بلڈنگ جموںوکشمیر بینک کو کرایہ پر دینا چاہتا ہوں، کیا کرایہ کی آمدنی جائز ہو گی ؟؟
آپ کا براؤزر آڈیو سپورٹ نہیں کرتا۔
مقرر:
حضرت علامہ سید شاہ تراب الحق قادری
زمرہ:
سود
زبان:
اردو
👁️
144
بار دیکھا گیا
اسی زمرے کے دیگر سوالات
★
بینک ایک ’اجارہ‘ اسکیم کے تحت مجھے ایک کار، جو وہ پہلے اپنے نام پر خریدیں گے، پھر مجھے اُس کے لئے انہیں ماہا نہ قسط جمع کروانی ہو گی جس میں کار کی اصل رقم بھی ہوگی اور کار کا ماہانہ کرایہ بھی اور مدّتِ معینہ کے بعد وہ کار میرے نام کردیں گے۔ وُہ اسے اسلامی طریقہ بتاتے ہیں، براہِ کرم بتائیں کہ کیا یہ جائز ہے یا یہ سود کے زمرے میں آتا ہے؟؟ براہِ کرم تفصیل سے جواب عنایت فرمائیں تا کہ میں کوئی درست فیصلہ کر سکوں۔
★
کیا کسی غیر اسلامی ملک سے منافع لینا جائز ہے؟؟
★
1۔ ریٹائر مینٹ حاصل کرنے کے بعد ملنے والی گریجویٹی اور دوسری مد میں ملنی والی رقوم کا اکثر لوگ بینک، وغیرہ میں جمع کرا دیتے ہیں تا کہ سود یا منافع کی مد میں ملنے والی رقم سے بقیہ زندگی گزارنے کا سامان ہو سکے کیونکہ ان کے پاس اور کوئی ذرائع بھی نہیں ہوتے۔ تو اس طرح کی رقم حاصل کرنا مکمل طور پر حرام ہے یا اسلام میں اس کی کوئی گنجائش ہے؟؟
★
رہائشی مکان کے لئے بینک سے سود پررقم لینا۔
★
قومی بچت اسکیم کی صورت میں جو سود حاصل ہو اسے کھانے پینے کے علاوہ گھر کی بناوٹ میں استعمال کر سکتے ہیں؟؟
واپس خزینہ ایمان
keyboard_arrow_up
Menu