بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم
Home
Al Quran
Khazeena e Emaan
Friday Sermon
Live
Shah Turab Ul Haq Qadri
Shah Abdul Haq Qadri
Other Ulama
Events
Library
Article
Hamd o Naat
Books
Dalail ul Khairat
Qasida Burda
Video
About Us
Memon Masjid
Support
میرے ایک رشتہ دار نے بینک میں اکاؤنٹ کھلوایا۔ اس ملک میں کوئی بھی بینک ایسا نہ تھا جو سود نہ دیتا ہو اس لئے اُسے سود کی رقم لینی پڑی۔ اب اس سود کی رقم کا کیا کیا جائے؟؟ کیا اسے خیرات میں دے دیا جائے؟؟
آپ کا براؤزر آڈیو سپورٹ نہیں کرتا۔
مقرر:
حضرت علامہ سید شاہ تراب الحق قادری
زمرہ:
سود
زبان:
اردو
👁️
73
بار دیکھا گیا
اسی زمرے کے دیگر سوالات
★
فارن(غیر ملکی) کرنسی ادھار دے کر اُس پر منافع لینا کیسا ہے؟؟
★
سود سے متعلق اسلا م کیا کہتا ہے ؟؟
★
1۔ ریٹائر مینٹ حاصل کرنے کے بعد ملنے والی گریجویٹی اور دوسری مد میں ملنی والی رقوم کا اکثر لوگ بینک، وغیرہ میں جمع کرا دیتے ہیں تا کہ سود یا منافع کی مد میں ملنے والی رقم سے بقیہ زندگی گزارنے کا سامان ہو سکے کیونکہ ان کے پاس اور کوئی ذرائع بھی نہیں ہوتے۔ تو اس طرح کی رقم حاصل کرنا مکمل طور پر حرام ہے یا اسلام میں اس کی کوئی گنجائش ہے؟؟
★
کوئی بوڑھا شخص جس میں کمانے کی طاقت نہ ہویا ایک مجاہد جو کہ اپنے پیچھے گھر والوں کی مالی اعانت کے لئے، بینک میں رقم رکھ کر منافع حاصل کر سکتے ہیں؟؟(یاد رہے کہ پاکستان میں بینک کہتے ہیں کہ یہ منافع ہے، سود نہیں ہے)۔
★
1۔کچھ لوگ کہتے ہیں کہ غیر مسلم ملک کے بینک سے منافع لینا درست ہے، کیا یہ صحیح ہے ؟؟
واپس خزینہ ایمان
keyboard_arrow_up
Menu