بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم
Home
Al Quran
Khazeena e Emaan
Friday Sermon
Live
Shah Turab Ul Haq Qadri
Shah Abdul Haq Qadri
Other Ulama
Events
Library
Article
Hamd o Naat
Books
Dalail ul Khairat
Qasida Burda
Video
About Us
Memon Masjid
Support
میرے ایک رشتہ دار نے بینک میں اکاؤنٹ کھلوایا۔ اس ملک میں کوئی بھی بینک ایسا نہ تھا جو سود نہ دیتا ہو اس لئے اُسے سود کی رقم لینی پڑی۔ اب اس سود کی رقم کا کیا کیا جائے؟؟ کیا اسے خیرات میں دے دیا جائے؟؟
آپ کا براؤزر آڈیو سپورٹ نہیں کرتا۔
مقرر:
حضرت علامہ سید شاہ تراب الحق قادری
زمرہ:
سود
زبان:
اردو
👁️
108
بار دیکھا گیا
اسی زمرے کے دیگر سوالات
★
1۔ ہم آپ کا بیان ’سنّتوں کی حکمت‘ کے موضوع پر سننا چاہتے ہیں۔
★
1۔ میں کمپیوٹر کے ایک ایسے ادارے میں کام کرتا ہوں جو کہ ادھار پر مال فروخت کرتاہے، اگر مقررہ مدت میں رقم وصول نہیں ہوتی تو ادارہ قرض کی رقم کے ساتھ سود بھی وصول کرتا ہے اور اس طرح ادارے کے منافع میں سود کی رقم بھی شامل ہو جاتی ہے، کیا اس ادارہ میں ملازمت کرنا جائز ہے؟؟
★
کوئی بوڑھا شخص جس میں کمانے کی طاقت نہ ہویا ایک مجاہد جو کہ اپنے پیچھے گھر والوں کی مالی اعانت کے لئے، بینک میں رقم رکھ کر منافع حاصل کر سکتے ہیں؟؟(یاد رہے کہ پاکستان میں بینک کہتے ہیں کہ یہ منافع ہے، سود نہیں ہے)۔
★
’سود‘ اور’انشورنس‘سے متعلق ایک سوال۔
★
1۔کیا سود لینے اور دینے والے ہی صرف گناہ گار ہیں یا اس سے متعلق تمام افراد ؟؟
واپس خزینہ ایمان
keyboard_arrow_up
Menu