بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم
Home
Al Quran
Khazeena e Emaan
Friday Sermon
Live
Shah Turab Ul Haq Qadri
Shah Abdul Haq Qadri
Other Ulama
Events
Library
Article
Hamd o Naat
Books
Dalail ul Khairat
Qasida Burda
Video
About Us
Memon Masjid
Support
بہارِ شریعت “باب النکاح”میں لکھا ہے کہ اگر لڑکا اور لڑکی دونوں بالغ ہوں تو گواہوں کی ضرورت نہیں ہے، کیا یہ درست ہے ؟؟
آپ کا براؤزر آڈیو سپورٹ نہیں کرتا۔
مقرر:
حضرت علامہ سید شاہ تراب الحق قادری
زمرہ:
نکاح طلاق
زبان:
اردو
👁️
106
بار دیکھا گیا
اسی زمرے کے دیگر سوالات
★
بالغ لڑکے اور لڑکی کا ولی کی موجودگی کے بغیر نکاح کرنا۔
★
میرے گھر والے میری شادی شیعہ لڑکی سے کرنا چاہتے ہیں براہِ کرم یہ بتائیے کہ میں انھیں اس عمل سے کس طرح باز رکھوں؟؟
★
میاں ، بیوی کے ایک دوسرے پر کیا حقوق ہوتے ہیں؟؟
★
میں اپنی خالہ کی لڑکی سے شادی کرنا چاہتا ہوں، جب اس کی عمر ڈیڑھ سال تھی اس نے میری والدہ کا دودہ پیا تھا، اس ایک بار کے علاوہ اس نے دوبارہ کبھی بھی میری والدہ کا دودھ نہیں پیا تھا، میں نے سنا اور پڑھا ہے کہ ایک بار دودھ پینے سے رضایت ثابت نہیں ہوتی، کیا میری خالہ کی لڑکی سے میرا نکاح جائز ہو گا ؟؟
★
شادی کے لئے لڑکی کا والدین سے اجازت لینا۔
واپس خزینہ ایمان
keyboard_arrow_up
Menu