بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم
Home
Al Quran
Khazeena e Emaan
Friday Sermon
Live
Shah Turab Ul Haq Qadri
Shah Abdul Haq Qadri
Other Ulama
Events
Library
Article
Hamd o Naat
Books
Dalail ul Khairat
Qasida Burda
Video
About Us
Memon Masjid
Support
بہارِ شریعت “باب النکاح”میں لکھا ہے کہ اگر لڑکا اور لڑکی دونوں بالغ ہوں تو گواہوں کی ضرورت نہیں ہے، کیا یہ درست ہے ؟؟
آپ کا براؤزر آڈیو سپورٹ نہیں کرتا۔
مقرر:
حضرت علامہ سید شاہ تراب الحق قادری علیہ الرحمہ
زمرہ:
نکاح طلاق
زبان:
اردو
👁️
306
بار دیکھا گیا
اسی زمرے کے دیگر سوالات
★
اگر کوئی شخص اپنی بیوی ، جو کہ حیض کی حالت میں ہو، کو طلاق دے تو کیا طلاق واقع ہو جائے گی ؟؟
★
میرے بھائی نے ایک عرصہ قبل ایک بچہ گود لیا تھا جس کی حال میں شادی ہوئی ہے، نکاح میں اس لڑکے کے نام کے ساتھ میرے بھائی کا نام لیا گیا (یعنی سلمان بن رشید ۔ نکاح قبول ہے ؟؟)،رشید میرے بھائی کا نام ہے، کیا نکاح ہو گیا ؟؟
★
میں نے سنا ہے کہ اگر کوئی شخص ’طلاق، طلاق، طلاق‘ کہے تو یہ ایک طلاق ہو گی، کیا اسلام میں طلاق کا یہی درست طریقہ ہے ؟؟
★
میں اپنے شوہر سے پچھلے تین مہینوں سے علیحدہ ہوں اور میرا اِن سے کوئی تعلق نہیں ہے،1۔ کیا طلاق واقع ہوگئی یا مجھے ان سے طلاق لینی ہو گی؟؟
★
شیعہ لڑکی کو سنّی کر کے اُس سے شادی کرنا۔
واپس خزینہ ایمان
keyboard_arrow_up
Menu