بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم
Home
Al Quran
Khazeena e Emaan
Friday Sermon
Live
Shah Turab Ul Haq Qadri
Shah Abdul Haq Qadri
Other Ulama
Events
Library
Article
Hamd o Naat
Books
Dalail ul Khairat
Qasida Burda
Video
About Us
Memon Masjid
Support
بہارِ شریعت “باب النکاح”میں لکھا ہے کہ اگر لڑکا اور لڑکی دونوں بالغ ہوں تو گواہوں کی ضرورت نہیں ہے، کیا یہ درست ہے ؟؟
آپ کا براؤزر آڈیو سپورٹ نہیں کرتا۔
مقرر:
حضرت علامہ سید شاہ تراب الحق قادری علیہ الرحمہ
زمرہ:
نکاح طلاق
زبان:
اردو
👁️
427
بار دیکھا گیا
اسی زمرے کے دیگر سوالات
★
1۔ کیا رضائی بہن، بھائی کا نکاح ممکن ہے ؟؟
★
لڑکی کا والدین کی اجازت کے بغیر شادی کرنا۔
★
ایک شخص نے ایک بوہری فرقے کی لڑکی سے کورٹ میرج کی ہے، لڑکی اپنے والدین کے گھر ہے اور اب وہ شرط عائد کر رہے ہیں کہ لڑکے کو بوہری جماعت میں آنا ہو گا، کیا لڑکا ایسا کر سکتا ہے ؟؟ کورٹ میرج پر کوئی اثر ہو گا ؟؟
★
والدین کے رضا مندی کے خلاف کسی دوسرے مذہب کی لڑکی کو مسلمان کر کے اس سے شادی کر سکتے ہیں ؟؟
★
کیا بیو ی نکاح کے وقت کوئی بھی شرط رکھ سکتی ہے مثلاًبیوی شوہر سے کہے کہ وہ دوسری شادی نہیں کر سکتا اور اگر شوہر کو دوسری شادی کرنی ہو تو وہ طلاق کا حق بیوی کو تفویض کردے، کیا اس طرح کی شرائط درست ہیں ؟؟
واپس خزینہ ایمان
keyboard_arrow_up
Menu