بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم
Home
Al Quran
Khazeena e Emaan
Friday Sermon
Live
Shah Turab Ul Haq Qadri
Shah Abdul Haq Qadri
Other Ulama
Events
Library
Article
Hamd o Naat
Books
Dalail ul Khairat
Qasida Burda
Video
About Us
Memon Masjid
Support
کیا کسی غیر اسلامی ملک سے منافع لینا جائز ہے؟؟
آپ کا براؤزر آڈیو سپورٹ نہیں کرتا۔
مقرر:
حضرت علامہ سید شاہ تراب الحق قادری علیہ الرحمہ
زمرہ:
سود
زبان:
اردو
👁️
238
بار دیکھا گیا
اسی زمرے کے دیگر سوالات
★
1۔ کیا ’سود‘ اور ’ربا‘ ایک ہی چیز ہیں ؟؟
★
1۔ ریٹائر مینٹ حاصل کرنے کے بعد ملنے والی گریجویٹی اور دوسری مد میں ملنی والی رقوم کا اکثر لوگ بینک، وغیرہ میں جمع کرا دیتے ہیں تا کہ سود یا منافع کی مد میں ملنے والی رقم سے بقیہ زندگی گزارنے کا سامان ہو سکے کیونکہ ان کے پاس اور کوئی ذرائع بھی نہیں ہوتے۔ تو اس طرح کی رقم حاصل کرنا مکمل طور پر حرام ہے یا اسلام میں اس کی کوئی گنجائش ہے؟؟
★
ایسی غیر اسلامی بینک جس میں کسی بھی مسلمان کی کوئی شراکت نہ ہو کیا ایسے بینک سے سود لینا جائز ہے ؟؟
★
میرے ایک رشتہ دار نے بینک میں اکاؤنٹ کھلوایا۔ اس ملک میں کوئی بھی بینک ایسا نہ تھا جو سود نہ دیتا ہو اس لئے اُسے سود کی رقم لینی پڑی۔ اب اس سود کی رقم کا کیا کیا جائے؟؟ کیا اسے خیرات میں دے دیا جائے؟؟
★
کینیڈا میں بچوں کی تعلیم کا ایک پروگرام ہے جس کی مد میں بچوں کی سود کی رقم سے اسکالر شپ دی جاتی ہے کیا یہ شرعاً جائز ہے ؟؟
واپس خزینہ ایمان
keyboard_arrow_up
Menu