بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم
Home
Al Quran
Khazeena e Emaan
Friday Sermon
Live
Shah Turab Ul Haq Qadri
Shah Abdul Haq Qadri
Other Ulama
Events
Library
Article
Hamd o Naat
Books
Dalail ul Khairat
Qasida Burda
Video
About Us
Memon Masjid
Support
کچھ علماء کہتے ہیں کہ سود لینا جائز ہے جبکہ کچھ علماء اسے نا جائز کہتے ہیں۔
آپ کا براؤزر آڈیو سپورٹ نہیں کرتا۔
مقرر:
حضرت علامہ سید شاہ تراب الحق قادری علیہ الرحمہ
زمرہ:
سود
زبان:
اردو
👁️
192
بار دیکھا گیا
اسی زمرے کے دیگر سوالات
★
میرے ایک رشتہ دار نے بینک میں اکاؤنٹ کھلوایا۔ اس ملک میں کوئی بھی بینک ایسا نہ تھا جو سود نہ دیتا ہو اس لئے اُسے سود کی رقم لینی پڑی۔ اب اس سود کی رقم کا کیا کیا جائے؟؟ کیا اسے خیرات میں دے دیا جائے؟؟
★
’سود‘ اور ’کمیشن‘ میں کیا فرق ہے؟؟
★
بینک ایک ’اجارہ‘ اسکیم کے تحت مجھے ایک کار، جو وہ پہلے اپنے نام پر خریدیں گے، پھر مجھے اُس کے لئے انہیں ماہا نہ قسط جمع کروانی ہو گی جس میں کار کی اصل رقم بھی ہوگی اور کار کا ماہانہ کرایہ بھی اور مدّتِ معینہ کے بعد وہ کار میرے نام کردیں گے۔ وُہ اسے اسلامی طریقہ بتاتے ہیں، براہِ کرم بتائیں کہ کیا یہ جائز ہے یا یہ سود کے زمرے میں آتا ہے؟؟ براہِ کرم تفصیل سے جواب عنایت فرمائیں تا کہ میں کوئی درست فیصلہ کر سکوں۔
★
میں اور میرے بھائی نے مشترکہ نام سے قرض پر ایک مکان خریدا جس پر سود ادا کیا جاتا ہے، اب مجھے احساس ہو رہا ہے کہ میں نے گناہ کیا، میں اب چاہتا ہوں کہ وہ گھر بیچ دوں لیکن بھائی اور والد راضی نہیں ہیں، میں اپنا حصہ منتقل بھی نہیں کر سکتا کیونکہ بھائی کی اتنی آمدنی نہیں ہے کہ وہ تنہا قرض کی اقساط ادا کر سکے اور بینک بھی اس کی اجازت نہیں دے گا، کرایہ پر مکان مہنگے ہیں، میں اپنے عمل پر نادم ہوں۔ براہِ کرم کوئی حل بتائیں۔
★
ہمارے یہاں ایک مولانا کہتے ہیں کہ غیر مسلموں سے سود لینا جائز ہے اور اس بارے میں امام ابو حنیفہ کا فتویٰ بھی ہے، کیا یہ صحیح ہے؟؟
واپس خزینہ ایمان
keyboard_arrow_up
Menu