بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم
Home
Al Quran
Khazeena e Emaan
Friday Sermon
Live
Shah Turab Ul Haq Qadri
Shah Abdul Haq Qadri
Other Ulama
Events
Library
Article
Hamd o Naat
Books
Dalail ul Khairat
Qasida Burda
Video
About Us
Memon Masjid
Support
کیا بینک سے حاصل کیا ہوا منافع (سود)ذاتی استعمال میں لایا جا سکتا ہے یا یہ کسی غریب کو دینا چاہیے ؟؟
آپ کا براؤزر آڈیو سپورٹ نہیں کرتا۔
مقرر:
حضرت علامہ سید شاہ تراب الحق قادری
زمرہ:
سود
زبان:
اردو
👁️
103
بار دیکھا گیا
اسی زمرے کے دیگر سوالات
★
1۔کیا سود لینے اور دینے والے ہی صرف گناہ گار ہیں یا اس سے متعلق تمام افراد ؟؟
★
سود کی رقم کا مسجدمیں دینا کیسا ہے ؟؟
★
میں اور میرے بھائی نے مشترکہ نام سے قرض پر ایک مکان خریدا جس پر سود ادا کیا جاتا ہے، اب مجھے احساس ہو رہا ہے کہ میں نے گناہ کیا، میں اب چاہتا ہوں کہ وہ گھر بیچ دوں لیکن بھائی اور والد راضی نہیں ہیں، میں اپنا حصہ منتقل بھی نہیں کر سکتا کیونکہ بھائی کی اتنی آمدنی نہیں ہے کہ وہ تنہا قرض کی اقساط ادا کر سکے اور بینک بھی اس کی اجازت نہیں دے گا، کرایہ پر مکان مہنگے ہیں، میں اپنے عمل پر نادم ہوں۔ براہِ کرم کوئی حل بتائیں۔
★
2۔ کیا بینک سے حاصل سونے والی رقم سودہے نیز اس کا کیا استعمال ہونا چاہیے ؟؟
★
ہالینڈ میں ہماری تنخواہ بینک میں جمع ہوتی ہے اور اس طرح تنخواہ میں سود شامل ہو جاتا ہے کیا اس صورتِ حال میں کیا جانے والا حج قبول ہو گا ؟؟
واپس خزینہ ایمان
keyboard_arrow_up
Menu