بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم
Home
Al Quran
Khazeena e Emaan
Friday Sermon
Live
Shah Turab Ul Haq Qadri
Shah Abdul Haq Qadri
Other Ulama
Events
Library
Article
Hamd o Naat
Books
Dalail ul Khairat
Qasida Burda
Video
About Us
Memon Masjid
Support
کیا بینک سے حاصل کیا ہوا منافع (سود)ذاتی استعمال میں لایا جا سکتا ہے یا یہ کسی غریب کو دینا چاہیے ؟؟
آپ کا براؤزر آڈیو سپورٹ نہیں کرتا۔
مقرر:
حضرت علامہ سید شاہ تراب الحق قادری علیہ الرحمہ
زمرہ:
سود
زبان:
اردو
👁️
283
بار دیکھا گیا
اسی زمرے کے دیگر سوالات
★
ہمارے یہاں ایک مولانا کہتے ہیں کہ غیر مسلموں سے سود لینا جائز ہے اور اس بارے میں امام ابو حنیفہ کا فتویٰ بھی ہے، کیا یہ صحیح ہے؟؟
★
1۔ کیا انڈیا (بھارت) یا پاکستان کی کسی غیرمسلم بینک میں رقم رکھنے پر سود لینا جائز ہے؟؟
★
1۔ میں اپنی بلڈنگ جموںوکشمیر بینک کو کرایہ پر دینا چاہتا ہوں، کیا کرایہ کی آمدنی جائز ہو گی ؟؟
★
قومی بچت اسکیم کی صورت میں جو سود حاصل ہو اسے کھانے پینے کے علاوہ گھر کی بناوٹ میں استعمال کر سکتے ہیں؟؟
★
کیا کسی غیر مسلم کو قرض لے کر سود لیا جا سکتا ہے؟؟
واپس خزینہ ایمان
keyboard_arrow_up
Menu