سيرت : بانی مدرسہ انوار القرآن قادریہ رضویہ
ایک نظر میں : مصلح اہل سنت علامہ قاری محمد مصلح الدین صدیقی رحمۃ اللہِ علیہ
ولادت و خاندان : قاری محمد مصلح الدین صدیقی قادری رحمۃ اللہِ علیہ یہ ربیع الاول ۱۳۳۶ھ بمطابق سن ۱۹۱۷ء بروز پیر بوقت صبح صادق قندهار شریف ضلع ناندیڑ ریاست حیدرآباد دکن میں پیدا ہوئے۔ والد ماجد کا نام نامی مولانا غلام جیلانی صدیقی تھا۔ جنہوں نے گھر یلو تعلیم کے علاوہ حکومت دکن کے تحت امامت کا امتحان پاس بھی کیا تھا۔ نہایت دیندار صوفی باصفا، خطیب و عالم تھے۔
تعلیم : مصلح ملت کی تعلیم و تربیت میں سب سے اہم کردار حضرت حافظ ملت علامہ مولانا عبد العزیز مبارک پوری رحمۃ اللہِ علیہ کا ہے۔ آپ کے ہی ارشاد و خواہش پر مصلح ملت کو ان کے والد گرامی نے خود قرآن پاک حفظ کروایا۔ جس کا اند از کچھ یوں تھا کہ آپ کے والد محترم ایک سال میں پانچ پارے یاد کر وا دیتے اور ماہ رمضان شریف میں تراویح کی امامت کے لئے حافظ ملت تشریف لاتے تو وہ بھی سن لیا کرتے تھے اور جو غلطیاں ہو تیں اس کو درست کرا دیتے تھے۔ اس طرح مصلح اہلسنت نے پانچ سال میں حفظ قرآن مکمل کر لیا۔ بعد ازاں حافظ ملت حضرت مولانا عبد العزیز مبارک پوری رحمۃ اللہِ علیہ کے اصرار پر ہی آپ عالم دین بننے کے لیے مُبارک پُور اعظم گڑھ روانہ ہوئے اور اس تعلیم کا سلسلہ تقریبا آٹھ سال تک جاری رہا۔
بیعت و خلافت : آپ کے محبوب استاد و مربی حافظ ملت رحمۃ اللہِ علیہ نے آپ کو ” قادری منزل “ (صدر الشریعہ کے دولت کدہ) لے جا کر خود حضرت صدر الشریعہ بدر الطریقہ علامہ حکیم امجد علی اعظمی رحمۃ اللہِ علیہ کے دست مبارک پر بیعت کرایا۔ بعد ازاں حضور صدر الشریعہ نے آپ کو اپنی خلافت سے بھی سرفراز کیا۔ حضرت صدر الشریعہ کے علاوہ شہزادہ اعلیٰ حضرت حضور مفتی اعظم ہند مولانا مفتی مصطفیٰ رضا خان صاحب بریلوی رحمۃ اللہِ علیہ نے بھی آپ کو خلافت عطا فرمائی۔ نیز قُطْبِ مدینہ حضرت مولانا ضیاء الدین مدنی رحمۃ اللہِ علیہ کی طرف سے بھی آپ کو سلسلہ عالیہ ،قادریہ، رضویہ، سنوسیہ، شاذلیہ، منور یہ، معمریہ ،اور اشرفیہ، کی اجازت و خلافت حاصل تھی۔
تدریسی خدمات : قاری صاحب رحمۃ اللہِ علیہ جہاں ایک عظیم پیر طریقت تھے وہیں آپ ایک نہایت قابل مدرس بھی تھے۔ آپ ایک طویل عرصہ دارالعلوم امجدیہ میں تدریس فرماتے رہے۔ وصال سے کچھ عرصہ قبل دل کے عارضہ کے باعث اس سلسلہ کو موقوف کرنا پڑا۔ آپ کی پوری زندگی پر نظر کی جائے تو یہ نتیجہ سامنے آتا ہے کہ آپ جہاں بھی رہے وہاں لوگوں کے باطن میں عشق رسول ﷺکی شمع فروزاں کرتے رہے۔
قلمی خدمات : مصرفیات و اشغال کی کثرت کے سبب آپ کو کتب تحریر کرنے کا موقع تو نہیں مل سکا البتہ آپ نے اپنے تحریر کردہ ”فتاویٰ “ (غیر مطبوعہ ) اور چند رسائل یاد گار چھوڑے ہیں۔ اس کے علاوہ حضرت نے ترمذی شریف کے ترجمے کا بھی سلسلہ شروع کیا تھا لیکن ابھی سو ڈیڑھ سو صفحات ہی ہوئے تھے کہ آپ اپنے خالق حقیقی سے جاملے۔
وصال: قاری صاحب رحمہ اللہ علیہ ۷ جمادی الثانی ۱۴۰۳ھ بمطابق ۲۳ مارچ ۱۹۸۳ء کو اچانک دل کا دورہ پڑنے سے انتقال فرما گئے۔ آپ کا مزار فائز المرام میمن مسجد صلح الدین گارڈن ( سابقہ کھوڑی گارڈن ) کراچی میں مرجع خاص و عام ہے۔

