بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم
Home
Al Quran
Khazeena e Emaan
Friday Sermon
Live
Shah Turab Ul Haq Qadri
Shah Abdul Haq Qadri
Other Ulama
Events
Library
Article
Hamd o Naat
Books
Dalail ul Khairat
Qasida Burda
Video
About Us
Memon Masjid
Support
کیا سیّد لڑکی کا نکاح غیر سیّد لڑکے سے ہو سکتا ہے ؟؟
آپ کا براؤزر آڈیو سپورٹ نہیں کرتا۔
مقرر:
حضرت علامہ سید شاہ تراب الحق قادری علیہ الرحمہ
زمرہ:
نکاح طلاق
زبان:
اردو
👁️
203
بار دیکھا گیا
اسی زمرے کے دیگر سوالات
★
ایک سوال کے جواب میں آپ نے فرمایا کہ موجودہ زمانے کے یہودی اور عیسائی لڑکی سے شادی جائز ہے جبکہ علامہ قاضی شمس الدین علیہ الرحمۃ نے اپنی کتاب قانونِ شریعت میں موجودہ یہودی اور عیسائی کو “لا مذہب”کہا اور امام جلال الدین سیوطی علیہ الرحمۃنے بھی “تاریخ الخلفأ”میں حضرت ابو بکرِ صدیق رضی ﷲ عنہ کاقول نقل فرمایا کہ یہودی اور عیسائی سے شادی کرنا منع ہے۔ تو کیا یہ لوگ اہلِ کتاب ہیں ؟؟
★
2۔ کیا وہ دوسری شادی کرسکتا ہے ؟؟
★
کیا عورت کے لئے کورٹ کے ذریعہ حاصل کی گئی طلاق کافی ہوتی ہے ؟؟
★
شادی کے لئے لڑکی کا والدین سے اجازت لینا۔
★
ایک شخص نے ایک بوہری فرقے کی لڑکی سے کورٹ میرج کی ہے، لڑکی اپنے والدین کے گھر ہے اور اب وہ شرط عائد کر رہے ہیں کہ لڑکے کو بوہری جماعت میں آنا ہو گا، کیا لڑکا ایسا کر سکتا ہے ؟؟ کورٹ میرج پر کوئی اثر ہو گا ؟؟
واپس خزینہ ایمان
keyboard_arrow_up
Menu